قومی اسمبلی : دہشت گردی اور سودی نظام کے خاتمے‘ سٹیل ملز کی بحالی کی متفقہ قراردادیں

قومی اسمبلی : دہشت گردی اور سودی نظام کے خاتمے‘ سٹیل ملز کی بحالی کی متفقہ قراردادیں

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ایجنسیاں+ نوائے وقت نیوز) قومی اسمبلی میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کی حمایت، سودی نظام کے خاتمے، سٹیل ملز کی بحالی کی قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ دیربالا میں فوجی افسران وجوانوں پر دہشتگردی کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ قرارداد میں منتخب نمائندوں نے پاک فوج کو دہشتگردی کیخلاف کاوشوں میں بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ شہید فوجیوں کی قربانیوں اور خدمات کا باضابطہ طور پر قومی سطح پر اعتراف کیا جائے۔ تمام جماعتوں نے پاک فوج کو اس کی جرات اور بہادری کے حوالے سے بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا گیا قوم کو مسلح افواج پر فخر ہے۔ حکومت سے دہشتگردی کیخلاف اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے پیش کی تھی حکومت، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے قرارداد کی منظوری دی۔ اجلاس میں ضلع بونیر کو قدرتی گیس فراہم کرنے کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے اور شرائط کی تفصیلات اور حقائق ایوان میں پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے کہ غیرملکی دورے سے واپسی پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار معاہدے کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے۔ اجلاس میں نجی کارروائی کے دن کے حوالے سے کارروائی کو نمٹایا گیا۔ قومی ائرلائن کے حصص فروخت کرنے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ شیخ آفتاب نے کہا کہ پی آئی اے کے 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے لیکن پی آئی اے کے کسی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے حصص فروخت کرنے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہا کہ لوگوں کی گردن کاٹ کر ریونیو جمع کیا جا رہا ہے۔ حکومت آئندہ ایک سال کا ایجنڈا عوام کے سامنے رکھے، وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومت نے مشکل ترین حالات میں اقتدار سنبھالا، عوام کمر کس لیں اور پیٹ پر پتھر باندھ لیں، سب کو پتہ ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے کوئی چیز نہیں چھپائیں گے۔ عوام دشمن پالیسی نہیں اپنا رہے،کشکول لے کر پھرنے سے نفرت ہے، مجبوراً آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑا۔ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے زہر کا گھونٹ پینا پڑا۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پی آئی اے میں تقریبا انیس ہزار چار سو افراد کام کر رہے ہیں جن کے بارہ فیصد حصص ہیں۔فضائی کمپنی کے باسٹھ فیصد حصص حکومت اپنے پاس رکھے گی۔ صرف چھبیس فیصد حصص مارکیٹ میں غیراہم سروسز کیلئے رکھے جائیں گے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ریاستوں اور سرحدی امور کے وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے ایوان کو یقین دلایا کہ غیرملکی دورے سے واپسی پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے۔ شازیہ مری نے کہا کہ یہ مل بیٹھنے کا وقت ہے تاکہ معیشت کی بحالی کیلئے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے۔ عارف علوی نے کہا کہ اس ایوان کو آئی ایم ایف سے معاہدے پر شدید تحفظات لاحق ہیں۔ ڈاکٹر افضل ڈھانڈلا نے کہا کہ اشرافیہ کی طرف سے ملک کیلئے قربانی دینے کا وقت آ گیا ہے۔ ڈاکٹر راجہ عامر زمان نے تحریک پیش کی کہ یہ ایوان 5 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے قرض کے حصول کیلئے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث کرے۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے  کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت پر نئے نوٹ چھاپنے کا الزام بھی عائد کیا۔ آسیہ ناصر نے کہا کہ سابق دور میں قرضوں کے حوالے سے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو قرضوں کی غرض و غایت کو مانیٹر کرے جو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ قرضے ترقیاتی مقاصد کیلئے لئے جا رہے ہیں یا یہ صرف قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال ہونگے۔خواجہ سہیل منصور نے کہا کہ قومی اداروں کی نجکاری سے ریونیو حاصل کرنے کی بجائے ایف بی آر اور دیگر اداروں میں کرپشن ختم کی جائے۔ اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو تنقید کی بجائے حکومت کی رہنمائی کر کے بتانا چاہئے کہ حکومت ریونیو کے حصول اور قومی اداروں کی بحالی کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرے۔قومی اسمبلی میں اسلام میں بلدیاتی ادارے قائم کرنے، نادرا آرڈیننس میں ترمیم، قرآن پاک کی طباعت و ریکارڈنگ میں غلطیوں کے خاتمے اور ایچ آئی وی ایڈز سے تحفظ اور انسداد کے بل پیش کردیئے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔ قومی اسمبلی میں متحدہ  نے الزام عائد کیا کہ  سندھ حکومت لیاری گینگ وار کی سرپرستی کر رہی ہے جبکہ پی پی کی رکن شازیہ مری نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کیخلاف تحقیقات میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں،   کراچی کو محفوظ بنانے کیلئے مل جل کر کام کرنا چاہئے۔  وسیم حسین نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ لیاری گینگ وار کے کچھ لوگ لاہور سے پکڑے گئے ان کے ساتھ سندھ اسمبلی کی رکن بھی تھی،  سپریم کورٹ اس کا  نوٹس لے۔ ساجد احمد نے کہا کہ ان کے سروں کی قیمت مقرر ہے۔  شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی یہ نہیں کیا کہ کسی جرائم پیشہ فرد کی گرفتاری پر ہم معمولات  زندگی جام کردیں،  یہ ہمارا ویژن نہیں ہے ہم نے عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے۔