غازی آباد تھانہ کا ٹارچر سیل ہربنس پورہ میں پکڑا گیا‘ لڑکا برآمد ۔۔ وزیراعلی کا نوٹس

غازی آباد تھانہ کا ٹارچر سیل ہربنس پورہ میں پکڑا گیا‘ لڑکا برآمد ۔۔ وزیراعلی کا نوٹس

لاہور (نامہ نگار+ نوائے وقت نیوز) ہربنس پورہ کے علاقہ میں تھانہ غازی آباد پولیس کا نجی ٹارچر سیل پکڑا گیا۔ صحافیوں کی ٹیم کے پہنچنے پر نجی ٹارچر سیل میں موجود دو سول سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ہتھکڑیوں میں جکڑے 15سالہ لڑکے کو لیکر موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق غازی آباد پولیس نے ہربنس پورہ کے علاقہ ایک حویلی میں نجی ٹارچر سیل بنا رکھا تھا۔ گذشتہ روز اطلاع ملنے پر جب صحافیوں کی ایک ٹیم وہاں پہنچی تو نجی ٹارچر سیل میں سے سول کپڑوں میں ملبوس دو اہلکار باہر آئے اور صحافیوں کو دیکھ کر گرم ہو گئے۔ انہوں نے ہتھکڑیوں میں جکڑے 15سالہ لڑکے علی رضا کو جلدی سے باہر نکالا اور موٹر سائیکل جس کی نمبر پلیٹ پر ایک اعلیٰ عدالت کا نام لکھا تھا، پر اپنے درمیان میں بٹھایا اور رفوچکر ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق محبوس لڑکا علی رضا مقامی رہائشی اور نویں جماعت کا طالبعلم ہے۔ پولیس نے اسے دو روز قبل اٹھایا۔ ذرائع نے بتایا کہ جس حویلی میں نجی ٹارچر سیل قائم کیا گیا ہے وہ عمارت ایس ایچ او کا ڈیرہ ہے جسے عرصہ دراز سے نجی ٹارچر سیل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ دریں اثناء پولیس کے نجی ٹارچر سیل کی خبر پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ محبوس لڑکے علی رضا نے ٹارچر سیل سے منتقل کئے جانے سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے مجھ پر اور میرے بھائی پر چوری کا الزام لگایا تو میں نے خود تھانے جاکر گرفتاری دی۔  اب تھانے کے اہلکاروں نے 6روز سے مجھے یہاں قید کر رکھا ہے اور دن رات تشدد کرتے ہیں۔ انہوں نے میرے بھائی، چچا اور دوست کو بھی یہاں لاکر مارا پیٹا۔  دریں اثناء سی سی پی او لاہور چودھری شفیق احمد نے شہری کو ٹارچر سیل میں رکھ کر تشد د کا نشانہ بنانے پر ایس ایچ او غازی آباد ملک خالد اور 3 کانسٹیبلوں کو معطل کر دیا ہے جبکہ چاروں پولیس اہلکاروں اور ان کے ٹائوٹ ساتھی رانا جاوید کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ سی سی پی او نے پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ علاوہ ازیںسی سی پی او لاہور چودھری شفیق احمد نے ایس پی کینٹ عمر ریاض چیمہ کو واقعہ کی انکوائری کر کے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ ایس پی کینٹ نے جب واقعہ کی انکوائری کی تو ٹارچر سیل میں شہری کو تشدد کی بات درست ثابت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ایس ایچ او رانا خالد فرار ہو گیا جبکہ اسکے ٹائوٹ رانا جاوید کو گرفتار کر لیا گیا۔