بلوچستان بدامنی کیس : کوئٹہ آتش فشاں بن چکا ہے‘ کسی روز بھی پھٹ جائے گا : چیف جسٹس

بلوچستان بدامنی کیس : کوئٹہ آتش فشاں بن چکا ہے‘ کسی روز بھی پھٹ جائے گا : چیف جسٹس

 کوئٹہ (آن لائن) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جب سرحد  محفوظ نہیں ہو تو پھر حالات کس طرح بہتر ہونگے چمن میں کروڑوں کا سودا ہوتا ہے کوئٹہ آتش فشاں بن چکا ہے کسی دن پھٹ جائیگا ایف سی امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے حوالے سے کوئی کردار ادا کرہی ہے اور نہ ہی لاپتہ افراد کو سامنے لا رہی ہے ایف سی سے تو پولیس اور لیویز بہتر ہے۔سماعت کے دوران عدالت کے طلب کرنے پر آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد پیش ہوگئے اور سات گھنٹے تک عدالت میں موجود رہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا تھا مگر وہ نہیں آئے ہمار موقف بڑا واضح ہے لاپتہ افراد پرکوئی سمجھوتہ نہیںکرینگے ہم نہیں چاہتے کہ یونیفارم والے لوگ عدالتوں میں کھڑے ہوں یونیفارم والے لوگ اگر عدالتوں میں کھڑے ہونگے تو ان کا مورال پست ہوتا ہے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں ملک کیلئے مصیبتوں کو دعوت دیتے ہو جس راہ پر چلنے سے ہم گریز کررہے ہیں آپ اسی کو منتخب کررہے ہو بندے جہاں بھی ہوں واپس لے آئو اگر آپ کے پاس نہیں تو نام بتائو ہم اسی کو بلا لینگے، لاپتہ افراد کے لواحقین باہر کھڑے ہیں ہم ہر کیس سنیں گے جب تک لاپتہ افرا د کو نہیں لایا جاتا جنرل صاحب عدالت میں بیٹھے رہینگے سماعت کے دوران پنجاب سے بلوچستان ٹرانسفر ہونیوالے تین پولیس افسران کے بلوچستان میں رپورٹ نہ کر نے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب عدالتی حکم کی سرعام خلاف ورزی کررہے ہیں احکامات کے باوجود چیف سیکرٹری پنجاب نے تاخیر کی اگر ایک سنیئر افسر عدالتی احکامات کی تعمیل میں روڑے اٹکائے تو اس کیخلاف ایکشن لیا جائیگاجن افسران نے بلوچستان میں کام نہیں کرنا وہ نوکری چھوڑ دیںچیف جسٹس نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ اس سے پہلے کہ ہم چیف سیکرٹری پنجاب سے وضاحت طلب کریں آپ ان سے تاخیر وجوہات پوچھ کر عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کریں عدالت کو بتایا کہ سندھ پولیس کے افسران اسد رضا،اعتزاز احمد اور فرخ بشیر نے بلوچستان تبادلے کیخلاف ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان آنیوالے آفیسران نے ہائیکورٹ سے حکم امتناعی لیکر توہین عدالت کی ہائیکورٹ سپریم کورٹ کے حکم کیخلاف حکم امتناعی کیسے دے سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام لواحقین کہتے ہیںکہ ان کے بندے ایف سی والے لے گئے بعض کیسز تو ایف سی کیخلاف ٹھوس شواہدبھی موجود ہیں مگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم تو طاقت ور لوگ ہیںہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ کوئی آئینی آرڈر جاری کریںہم آج یہاںبیٹھے ہیں جہاں سے بھی بندے لیکر آئولاپتہ افراد کے لواحقین کو جاکر مطمئن کرو جو دو سال سے آرہے ہیںاگر آپ کے پیارے لاپتہ ہوتے تو پھر آپ پر کیا گزرتا روز آکر نئی رپورٹ پیش کرتے ہو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دو چیزیںایسی ہیںجو کھلے عدالت میں نہیں بتاسکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جائیں آئی جی ایف سی سے بات کریں یہ کیس دو سال سے چل رہا ہے سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اے سی کسٹم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چمن سرحد سے سامان اور اسلحہ کیوں آرہا ہے ،آپ کا سرحد پر کنٹرول ہی نہیں چیئرمین ایف بی آر کو بلائو چمن میں کروڑوں کا سوادا ہوتا ہے جب سرحد محفوظ نہیں ہوگا تو حالات کیسے بہتر ہونگے یہ شہر آتش فشاں بن چکا ہے کسی دن پھٹ جائیگا برائی کی جڑ کو نہیںپکڑتے صر ف یہ ہورہا ہے کہ پولیس اور ایف سی کو لگا دیا نہ امن بہتر کررہے ہو نہ لاپتہ افراد ڈھونڈ کر لاتے ہو جس کا جو دل کرتا ہے وہ کررہا ہے یہاں ساری مارکیٹیں سمگلنگ کے سامان سے بھری پڑی ہیں اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کیلئے سرحد کو بند کرنا ہوگا۔