بلدیاتی انتخابات پر اب مہلت نہیں دی جا سکتی‘ صوبے تاریخ بتائیں : جسٹس افتخار

بلدیاتی انتخابات پر اب مہلت نہیں دی جا سکتی‘ صوبے تاریخ بتائیں : جسٹس افتخار

کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اب مہلت نہیں دی جا سکتی، ہمارے صوبے اچھے آئین کو لاگو کریں، بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دیکر کریڈٹ لے سکتے ہیں۔ انتخابات کیلئے تاریخ بتائیں۔ آئین کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ 10 اپریل کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے دریافت کیا کہ پنجاب حکومت الیکشن کی تاریخ کب دیگی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈسٹرکٹ کونسل بحال کردی ہے پنجاب میں وارڈز کی ازسرنو تشکیل کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پنجاب حکومت 1979ء کا بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہے۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ جو احکامات دیگی اس پر عمل کریں گے۔ خیبر پی کے وکیل نے کہا کہ صوبے نے بلدیاتی انتخابات کے قوانین بنالئے ہیں۔ آرڈیننس کی مکمل تیاری کے بعد تاریخ بتا سکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سماعت آج تک کیلئے ملتوی کی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد بدھ کو تاریخ بتا سکتے ہیں۔بلوچستان کے وکیل نے بتایا کہ کابینہ کی تشکیل کے بعد اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ پہلا ایجنڈا ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ تمام صوبے بلدیاتی انتخابات کرائیں، عدالت اس معاملے کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتی اگر بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتے تو پھر قانون میں اس کی گنجائش موجود کہ پرانے نظام کو بحال کیا جائے۔