بلدیاتی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر اکتوبر، نومبر، نئی پر دسمبر میں ہوسکتے ہیں: رانا ثناء

بلدیاتی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر اکتوبر، نومبر، نئی پر دسمبر میں ہوسکتے ہیں: رانا ثناء

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کیلئے عدالت کے سامنے 2آپشن رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پرانی حلقہ بندیوں پر اکتوبر اور نومبر میں بلدیاتی انتخابات پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت دسمبر میں انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ عدالت جس آپشن کا حکم دے گی اس کو تسلیم کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ نہیں ہم چاہتے ہیں کہ جلدازجلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو سکے لیکن قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی نظام کا بل منظور کیا اور اب ہم بلدیاتی انتخابات بھی کروانے کیلئے تیار ہیں لیکن حلقہ بندیوں سمیت دیگر قانونی تقاضوں کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کروانے میں وقت لگے گا۔ دریں اثناء اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ پانچ سالہ بچی سے زیادتی کیس میں مکمل شواہد اکٹھے نہیں ہو سکے لیکن یہ بددیانتی نہیں نااہلی ضرور ہے تاہم جتنے شواہد بھی اکٹھے ہوئے ہیں یہ ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے کافی ہیں‘ ایک گھنٹہ 17منٹ کی فوٹیج غائب ہونے سے اس کیس میں ابہام پیدا ہوا اور اسکی بھی تحقیقات جاری ہیں ‘اب تک ملنے والے شواہد کو فورنزک لیب میں بھجوا دیا گیا جو پولیس کیلئے موثر مدد گار ثابت ہو گی ‘اسلامی جمعیت طلبہ کو کالعدم قرار دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ‘ کراچی اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کی وجہ سے دہشتگرد بھیس بدل کر چھپنے کی کوشش کر سکتے ہیں اس لئے حکومت تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز اور دینی مدارس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ‘ ہمیں جس طرح حکم دیا گیا بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔