ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ملالہ یوسفزئی کو ’’ضمیر کی سفیر‘‘ عالمی ایوارڈ د ے دیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے  ملالہ یوسفزئی کو   ’’ضمیر کی سفیر‘‘ عالمی ایوارڈ د ے دیا

لندن (بی بی سی+ اے ایف پی+ اے پی پی) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’ضمیر کے سفیر‘ کا عالمی ایوارڈ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی اور امریکی گلوکار اور سماجی کارکن ہیری بیلافانٹے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایوارڈ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ایک تقریب میں پیش کیا جائے گا۔ ’ضمیر کا سفیر‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ اْن چنیدہ افراد کی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے عملی زندگی میں نہ صرف کام کرتے ہیں بلکہ مثالیں بھی قائم کرتے ہیں۔ ماضی میں یہ عالمی ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا اور برما میں جمہوریت کی خاطر زندگی وقف کر دینے والی سیاستدان آنگ سان سوچی سمیت دنیا کی کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے دونوں نئے ضمیر کے سفیر اگرچہ کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ان دونوں میں ہی قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اور سب کے لئے انسانی حقوق کی جدوجہد کی خاطر خود کو وقف کر دیا ہے۔‘ علاوہ ازیں ملالہ یوسفزئی کو یورپی پارلیمنٹ کے انسانی حقوق سے متعلق اعلیٰ ترین اعزاز ’’سخاروف ایوارڈ‘‘ کے لئے بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو بچیوں کی تعلیم کیلئے شاندار جدوجہد اور قربانیوں کے عوض سخاروف ہیومن رائٹس ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا ہے جبکہ سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کو بھی مذکورہ ایوارڈ کیلئے نامزد کیا  گیا ہے۔ نامزدگی اور انعام کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ اکتوبر میں کیا جائیگا۔