انتہا پسندی کا خاتمہ‘ ترکی سے رہنمائی لیں گے : وزیراعظم ۔۔۔ توانائی کے شعبہ میں تعاون سمیت 12 سمجھوتے

انتہا پسندی کا خاتمہ‘ ترکی سے رہنمائی لیں گے : وزیراعظم ۔۔۔ توانائی کے شعبہ میں تعاون سمیت 12 سمجھوتے

انقرہ (سلیم بخاری سے) وزیراعظم نوازشریف کو جمہوریت کے استحکام کے لئے خدمات کے اعتراف میں ترکی کا سب سے بڑا سول اعزاز ’’تمغہ جمہوریت‘‘ عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز ترکی کے صدر عبداللہ گل نے وزیراعظم نوازشریف کو صدارتی محل میں ہونے والی پروقار تقریب میں عطا کیا۔ اس موقع پر ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان‘ ان کی اہلیہ‘ ترک صدر کی اہلیہ‘ خاتون اول بیگم کلثوم نواز‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ وزیر مملکت خرم دستگیر‘ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ‘ عثمان ابراہیم ‘ ترکی میں تعینات پاکستانی سفیر ہارون شوکت‘ ترکی کے ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ نوازشریف پہلے پاکستانی ہیں جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ وزیراعظم کو ایوارڈ عطا کرنے کی تقریب کے موقع پر اپنے خطاب میں ترکی کے صدر عبداللہ گل نے وزیراعظم نوازشریف کی پاکستان اور خطے میں جمہوریت کے استحکام اور پاکستان، ترکی دوستی کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ملک مذہب‘ اقدار اور مشترکہ ثقافت میں بندھے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوازشریف کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں ترکی کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ترکی کی جانب سے سب سے بڑا ایوارڈ ملنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں ترکی کے صدر اور وزیراعظم کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ پاکستان اور ترکی کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور مشکل کی گھڑیوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان اور ترکی کی دوستی ہمالیہ سے بلند ہے۔ ہم اسے مزید استحکام دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ تقریب پاکستان اور ترکی کے مثالی تعلقات کی عکاس ہے۔ ہم مشترکہ اقدار‘ ثقافت اور مذہب کے رشتوں میں جڑے ہیں۔ امید ہے اعلیٰ تعاون کونسل کے تیسرے اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو عوامی سطح پر فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔ ترکی پراعتماد ملک ہے اور ہمیں ترکی کے ساتھ دوستی پر فخر ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف نے ترکی کے صدر عبداللہ گل سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات‘ باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عبداللہ گل نے جمہوریت کے استحکام کے لئے نوازشریف کی خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نوازشریف نے ترکی کے وزیر داخلہ اور اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ترک وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ ترکی سائبر کرائم کے کنٹرول اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا۔ ترکی پاکستان کے سرکاری اداروں کی استعداد کار میں اضافے‘ کرپشن کے خاتمے اور تعلیم کے شعبے سمیت افرادی قوت کی تربیت میں بھی پاکستان کو مدد فراہم کرے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان ترکی کے تجربات سے استفادہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ ترکی کے تعاون سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ہمارا آزمودہ دوست ہے اور اس نے بعض ایسے چیلنجز کا سامنا کیا ہے جو آج ہمیں درپیش ہیں۔ ہم ترکی کے تعاون سے چیلنجز پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ ترکی پولیس کو جدید ہتھیار اور تربیت فراہم کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ اس موقع پر ترکی کے وزیر داخلہ نے کہاکہ دہشت گردی کو صرف طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے تعلیم اور سماجی شعبے میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ ترکی حکومت پنجاب کے ساتھ کئی شعبوں میں مل کر کام کررہا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پورے ملک کی سطح تک کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان انتہا پسندی کی لعنت کے مؤثر خاتمہ کیلئے ترکی سے مدد اور رہنمائی حاصل کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت درپیش تمام چیلنجوں سے کامیابی سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی کے تعاون سے انسداد دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی پر عمل درآمد کرے گا۔ ترکی ہمارا بااعتماد دوست ہے جس نے اس مسئلہ پر قابو پایا ہے جو ہمیں آج درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ ترک وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہا پسندی کو صرف طاقت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جا سکتا یہ کافی نہیں۔ اس سلسلہ میں سماجی اصلاحات اور تعلیم سے بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے پنجاب حکومت کے ساتھ بڑا کام کیا ہے جو پورے ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں صدر عبداللہ گل نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کو گہرے دوستانہ اور برادرانہ قرار دیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے ترک وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان اور شام کی صورتحال پر گفتگو کی۔ پاکستان میں انسداد دہشت گردی اور پولیس فورسز کی تربیت پر بھی بات چیت کی گئی۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے پرچم اکٹھے لہراتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کامیابی میں نوازشریف کا کردار اہم ہے، نوازشریف نے 5 برس دانا اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترکی آ کر بے حد خوشی محسوس کرتا ہوں، ترکی نے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کا عزم کر رکھا ہے، میرے دورے کا مقصد اس سلسلہ میں ادارہ جاتی نظام استوار کرنا ہے جس سے معاشی تعلقات کے مزید استحکام کیلئے ٹھوس پلیٹ فارم مہیا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار سیاسی تعلقات موجود ہیں، دوطرفہ بھائی چارے اور خیر سگالی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ترک کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ توانائی، بنیادی ڈھانچے، انجینئرنگ اور زراعت پر مبنی صنعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری دوست ملک ہے جو مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کو مکمل تحفظ اور یکساں برتاؤ فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے ایشیا اور یورپ کے درمیان پل کی حیثیت سے ترکی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان وسطی ایشیا کا گیٹ وے بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مثالی تعلقات موجود ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اندرون ملک ان کی حکومت کی ترجیحات میں اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی شامل ہے اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی ترقی، تعلیم بالخصوص فنی تعلیم کا فروغ بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ افغانستان، پاکستان اور ترکی سہ فریقی عمل ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد افغانستان میں امن کا فروغ، استحکام اور سماجی واقتصادی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس عمل میں ترکی کی مسلسل حمایت پر مشکور ہیں جو اب مختلف شعبہ جات میں تعاون کیلئے ادارہ جاتی سہ فریقی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان خصوصی تعلقات استوار ہیں جو دونوں ریاستوں کی آزادی سے قبل کے ہیں۔ نواز شریف نے کہاکہ جسمانی طور پر ہم ہزاروں میل دور رہتے ہیں لیکن ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہم حقیقتاً ایک قوم دو ریاستیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کی جغرافیائی حیثیت نے انہیں سٹرٹیجک طور پر بہت اہم مقام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی معیشت کو آزاد بنا لیا ہے اور مارکیٹ اکانومی کی طرف کامیابی سے گامزن ہے۔ اقتصادی میدان میں نجی شعبہ نے صف اول کا کردار سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیاں 100 فیصد ایکوٹی کی بنیاد پر کاروبار شروع کر سکتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان میں امن و استحکام کا پاکستان میں امن و استحکام سے براہ راست تعلق ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ ان کی حکومت افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کیلئے مخلصانہ حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری شریک عمل رہے گی اور 2014ء کے بعد افغانستان کی ترقی کیلئے اپنے وعدے پورے کرے گی۔ انقرہ (نیشن رپورٹ + اے این این) پاکستان اور ترکی نے انسداد دہشت گردی، سلامتی، توانائی، تجارت، سائبرکرائم کی روک تھام اور سزا یافتہ مجرمان کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے 12معاہدوں و مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیئے جبکہ دونو ں ممالک نے عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے پراتفاق اور انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ہر ہفتے پرواز کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے، پاک ترک اعلیٰ سطح کی تعاون کونسل کا اگلا اجلاس اسلام آباد ہو گا، وزیراعظم نوازشریف نے ترکی کے ساتھ طے پانے معاہدوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم ہائوس میں خصوصی سیل قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاک، افغان ترک سہ فریقی معاہدے پر عمل کیا جائے، ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کیلئے طریقہ کار طے ہونا باقی ہے جبکہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، نوازشریف کے دورے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ منگل کو پاکستان اور ترکی کے درمیان اعلیٰ سطح تعاون کونسل کا تیسرا اجلاس انقرہ کے وزیراعظم ہائوس میں ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم نوازشریف اور ترکی کے وفد کی قیادت ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے کی، پاکستانی وفد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ، وزرا مملکت خرم دستگیر، عثمان ابراہیم، سیکرٹری خارجہ جلیل عباس، سیکرٹری داخلہ قمر زمان چودھری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اجلاس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور اہم عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی، سکیورٹی، توانائی، تجارت، ہائوسنگ، سزا یافتہ مجرمان کے تبادلوں، قابل تجدید توانائی، ٹیکس، سرمایہ کاری، تعلیم، زراعت، ثقافت، سائنس، مواصلات، فنی تربیت، سائبر کرائم اور ہوا بازی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے 12معاہدوں اور باہمی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، ہائوسنگ کے شعبے میں معاہدے کے تحت ترکی پاکستان میں غریب طبقے کے لئے کم لاگت والے گھر تعمیر کرے گا۔ ان معاہدوں پر پاکستان کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، خرم دستگیر، عثمان ابراہیم، سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سیکرٹری داخلہ قمر زمان چودھری نے دستخط کئے جبکہ مشترکہ اعلامیے پر وزیراعظم نوازشریف اور رجب طیب اردگان نے دستخط کئے۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے ترکی میں شاندار استقبال، میزبانی اور ترکی کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان جمہوریت دینے پر رجب طیب اردگان اور ترک حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں، ہم مذہبی رشتے کے علاوہ مشترکہ اقدار اور ثقافت میں بندھے ہیں، پاکستان اور ترکی کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، ہمارے اہداف بھی مشترک ہیں، ہم ترکی کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ سٹرٹیجک کونسل کے تیسرے اجلاس میں مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور ہم نے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جن میں توانائی، تجارت، خزانہ، مواصلات، انفراسٹرکچر، سکیورٹی، تعلیم اور ثقافت کے شعبے نمایاں ہیں، دونوں ملکوں نے اگلے تین سالوں میں باہمی تجارتی حجم میں دوارب ڈالر اضافے کا فیصلہ کیا ہے ،ہم نے انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ہر ہفتے فضائی پرواز کے اجرا کا بھی فیصلہ کیا ہے ، اجلاس میں طے ہوا ہے کہ اعلیٰ سطح تعاون کونسل کا اگلا اجلاس اسلام آباد ہو گا، ہم دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے اس ماحول کو مزید آگے بڑھائیں گے، پاکستان اور ترکی کو جمہوری قوتوں کی حیثیت سے خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنی کوششوں میں دو گنا اضافہ ہو گا۔ ایڈیٹر دی نیشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ترکی کا اعلیٰ سطح وفد نومبر میں پاکستان کا دورہ کرے گا ، میں نے ترک وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان ترکی کے ساتھ معاہدوںپر عملدرآمد برق رفتاری سے کرے گا، اب وقت ہے کہ ماضی میں کئے گئے معاہدوں پر عملدرآمد شروع کیا جائے، میں نے ترکی کے ساتھ معاہدوں پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعظم ہائوس میں خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی نگرانی میں ذاتی طور پر کروں گا۔ انہوں نے کہاکہ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کو بھی ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ کام کرنا اور لینا جانتے ہیں، ترک وزیراعظم ٹاسک ماسٹرز ہیں اور یہ بھی معاہدوںپر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے، افغان صدر حامد کرزئی نے حال ہی میں پاکستان کادورہ کیا ہے جس میں ہم نے تمام مسائل پر کھل کر تفصیلی بات چیت کی ہے، ہمارے درمیان اہم اور بڑے مسائل پر اتفاق پایا گیا ہے، افغان حکومت نے ملا برادر کی رہائی کے معاملے پر بھی بات کی تھی اور ہم نے اصولی طور پر ان کی رہائی کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم اس حوالے سے طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر رجب طیب اردگان نے نوازشریف کے دورہ ترکی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی گہرے دوست اور سٹرٹیجک شراکت دار ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور ان دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، امید ہے کہ نوازشریف کے دورے سے باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی نے ہر مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ملکوں کی سوچ یکساں ہے۔ ترک وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان نے بے مثال کردار ادا کیا ہے، پاکستان اور ترکی کے درمیان خطے کے مسائل کے حل کے لئے تعاون اور شراکت داری ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے، ہم پاکستان کے ساتھ نہ صرف حکومت بلکہ عوام کی سطح پر تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اعلیٰ سطح تعاون کونسل کے اجلاس میں نوازشریف کی شرکت قابل تحسین ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترک وزیراعظم نے کہاکہ ترکی افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے اور افغان مسئلے کے علاقائی حل پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر اتفاق ہوا ہے، ہم ہر قسم کے مسائل کا بات چیت کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔ قبل ازیں نوازشریف کی ترک وزیراعظم سے ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نوازشریف اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہائوس پہنچے تو انہیں ترکی کی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکی کے درمیان پروازوں کی تعداد 28 کی جائے گی۔ اسی طرح اسلام آباد اور استنبول کے درمیان گل ٹرین چلانے کے ایم او یو اور ترکی سے جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔ کم آمدن والے پاکستانیوں کے لئے 5 لاکھ گھروں کی تعمیر میں بھی ترکی تعاون کرے گا۔دریں اثناء پاکستان اور ترکی کے درمیان جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات کے مطابق اعلیٰ سطح تعاون کونسل کا نام اعلیٰ سطح سٹریٹجک تعاون کونسل کر دیا گیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کا اظہار ہو سکے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اگلے برس کی پہلی سہ ماہی میں اسلام آباد میں ہو گا۔ توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانا ترجیح ہو گی۔ اسی طرح بجلی کی پیداوار کیلئے تعاون بھی ترجیح ہو گا اور اس مقصد کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ تیل، گیس اور کان کنی کے شعبے کے حوالے سے بھی نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ میونسپل سروسز کے شعبہ میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ غربت کم کرنے کیلئے دیہی ترقی کے کئی منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ دونوں ملکوں کی پولیس کے درمیان میں تعاون کو فروغ دیا جاتا رہے گا۔ ایجوکیشن ٹریننگ کے حوالے سے بھی تعاون مضبوط بنایا جائے گا۔ ٹورزم اور کلچر کے حوالے سے بنائے گئے مشترکہ گروپوں کو ’’ٹورزم اور کلچر‘‘ کے نام سے ایک کر دیا جائے گا۔نواز شریف کی ترک ہم منصب سے ملاقات میں سٹریٹجک حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔ ترک وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ پاکستان افغان ترک معاہدے پر عمل سے پاکستان مخالف سرگرمیاں بند ہو سکتی ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبہ جات میں تعاون اور اشتراک بڑھانے کیلئے بھرپور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مزید تیز کر کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ منگل کو جاری ہونے والے پاک ترک سٹرٹیجک تعاون پر مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں اقوام کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں اور گزشتہ سالوں کے درمیان حقیقی خیرسگالی، احترام، یکساں مفادات اور باہمی تعاون کے ذریعے فروغ پانے والے تعلقات اطمینان بخش ہیں۔ اعلامیہ میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مزید تیز کر کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان میں مئی 2013ء کے کامیاب جمہوری انتخابات کا خیرمقدم کیا گیا اور جمہوریت پر پختہ یقین پر زور دیتے ہوئے جمہوری مقاصد کی تکمیل میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا تاکہ جمہوری مقاصد کی تکمیل سے پاکستان اور ترکی کے برادر عوام مستفید ہوں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں مزید جامع ترقی سے دونوں ریاستوں اور مجموعی طور پر خطہ میں جمہوریت، ترقی اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔ اعلامیہ میں 5، 11 اور 16 ستمبر کو انقرہ میں اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاسوں کے نتائج کی توثیق کی گئی جس میں پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اعلامیہ کے مطابق اعلیٰ سطحی تعاون کونسل (ایچ ایل سی سی) کا نام اعلیٰ سطحی سٹرٹیجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) رکھا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سٹرٹیجک نوعیت کے تعلقات کی حقیقی عکاسی ہو۔ ایچ ایل ایس سی سی بنیادی سیاسی فورم ہو گا جو تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس کے فیصلوں پر موثر عملدرآمد اور پیش ہائے رفت کیلئے اجلاس یقینی بنائے جائیں گے۔ قیادت، اراکین پارلیمان، کاروباری برادری سمیت سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں کے درمیان تبادلوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون بشمول نامزدگیوں کیلئے باہمی حمایت جاری رہے گی۔ وزرا خارجہ کی سطح پر آئندہ سالانہ مشاورت 2014ء کے پہلے چار ماہ میں اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ توانائی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون میں اضافہ ترجیح ہے، اس شعبہ میں تعاون کیلئے مواقع تلاش کئے جائیں گے تاکہ تمام شعبوں بشمول پٹرولیم، قدرتی گیس، کوئلہ، ہائیڈرو الیکٹرک، جیو تھرمل، شمسی اور ہوا سمیت قابل تجدید توانائی ذرائع میں تعاون کو وسعت ملے۔ کوئلے اور بجلی کی پیداوار کے شعبہ میں تعاون کو مہارتوں، سائنسی اور تکنیکی معلومات کے تبادلہ، مطالعاتی دوروں کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں ترک معدنی تحقیق اور تلاش کا عمومی ڈائریکٹوریٹ (ایم ٹی اے) اور ترک کول انٹرپرائزز (ٹی کے آئی) اپنے پاکستانی ہم مناصب کے ساتھ تعاون کے مواقع تلاش کریں گے۔ بجلی پیداوار میں تعاون کو نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے بڑھایا جائے گا، اس سلسلہ میں نجی شعبہ کو ضروری یقین دہانیاں کرائی جائیں گی۔ کوئلہ، قدرتی گیس اور تیل سمیت ہائیڈرو کاربنز کی ترقی میں سرمایہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، ہائیڈرو کاربن کی تلاش اور ترقی کے شعبہ میں تعاون کو مہارتوں، سائنسی اور تکنیکی معلومات کے تبادلہ، مطالعاتی دوروں کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور تیل و گیس ترقی کی کمپنی (او جی ڈی سی ایل) ترک پٹرولیم کارپوریشن (پی پی اے او) کے ساتھ مشترکہ مواقع تلاش کرے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور تجارت کے شعبہ میں تعاون کو تقویت دی جائے گی۔ تجارتی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان حالیہ تجارتی حجم بہترین سیاسی تعلقات اور متعلقہ اقتصادیات کی اصل صلاحیت کی حقیقی عکاسی نہیں کرتا لہٰذا اس سلسلہ میں تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے تاکہ دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ اس سلسلہ میں مشترکہ اقتصادی کمشن جیسے طریقوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کے نئے مواقع کی تلاش کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے تاکہ قریبی تجارتی شراکت داری، متنوع تجارت، تجارتی سامان کی نقل و حمل میں سہولت اور تجارت اور کمرشل تعاون میں نجی شعبہ کی شرکت بڑھانے میں سہولت پیدا ہونے جیسے اہداف حاصل ہو سکیں۔ 10 اور 11 ستمبر 2013ء کو انقرہ میں ہونے والے ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) مذاکرات کے پانچویں دور کے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا اور دونوں ممالک کی وزارتوں کو اس معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کیلئے تکنیکی بات چیت تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ ترکی کے ایگزم بینک اور اس کے پاکستانی کائونٹر پارٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کرنے میں ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی۔ پاک ترک مشترکہ اقتصادی کمشن کا 15واں سیشن 2014ء کے پہلے نصف میں انقرہ میں منعقد ہوگا۔ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان روابط میں اضافہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انقرہ چیمبر آف کامرس اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور انقرہ چیمبر آف کامرس اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ مالیاتی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ سنٹرل فنانشل آڈیٹنگ کے شعبہ میں تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کے ذریعے تعاون کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کی ٹیکس ریونیو ایجنسیوں اور ٹریژری آف ترکی اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان کے درمیان ایم او یوز ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ تجارت اور کمرشل سرگرمیوں کیلئے ٹرانسپورٹ روابط ناگزیر ہیں۔ سول ایوسی ایشن پر پاکستان اور ترکی کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں کی تجدید سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو قریب لانے اور تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس ضمن میں پروازوں کی تعداد میں اضافہ معاون ثابت ہو گا۔ اسلام آباد، تہران، استنبول کنٹینر ٹرین (ای سی او ٹرین) کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان مضبوط لاجسٹک رابطوں میں انتہائی موثر ثابت ہو گا اور تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان ریلوے اور ٹی او بی بی کے درمیان ایم او یو شیڈول سروسز میں سہولت پیدا کرے گا۔ اس حوالہ سے ریلوے کی استعداد کو بہتر بنانے میں تعاون کیا جائے گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ترقیاتی تعاون کے سلسلہ میں میونسپل سروسز، شہری منصوبہ بندی، کم لاگت رہائشی سکیموں اور ماحولیات کے شعبہ میں تعاون کیا جائے گا۔ ہائوسنگ ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن آف ترکی (ٹی او کے آئی) دستخط ہونے والے ایم او یو کے تحت تکنیکی مہارتوں، تجربہ، ماہرین کے تبادلوں کے ذریعے کم لاگت ہائوسنگ منصوبوں کی تیاری میں متعلقہ پاکستانی اتھارٹیز کو ضروری معاونت فراہم کرے گی۔ گریٹر انقرہ میونسپیلٹی اور سی ڈی اے کے درمیان دوستی اور تعاون کے پروٹوکول پر دستخط کئے گئے۔ اس پروٹوکول پر موثر عملدرآمد کیا جائے گا۔ دیہی ترقی کے پروگراموں میں اشتراک کیا جائے گا تاکہ غربت کا انسداد ہو اور اس کے ساتھ ساتھ زرعی ڈھانچہ کی ترقی، جدید زرعی مہارتوں اور زمین کی بہتری کیلئے بھی مل کر کام کیا جائے گا۔ زرعی بنیاد پر صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سیکورٹی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کی پولیس ایجنسیوں کے درمیان تعاون کیا جائے گا، استعداد اور تربیت کی سرگرمیوں میں وسعت لائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے مجاز حکام کے درمیان سیکورٹی تعاون پروٹوکول سے انسداد دہشت گردی، کرائم سین انویسٹی گیشن اینڈ فورنزک، ایم او بی ای ایس ای سسٹمز کے حوالہ تربیت اور اہلکاروں کے تبادلوں کے شعبہ میں تعاون کی بنیاد فراہم ہوگی۔ تحویل ملزمان کے معاہدہ کو حتمی شکل دینا خوش آئند اقدام ہے۔ تعلیم، ثقافت اور سائنسی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ان شعبہ جات میں تعاون کو بڑھایا جائے گا اور اس ضمن میں ایم او یوز مددگار ثابت ہوں گے۔ دونوں ممالک کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے گا اور اعلیٰ تعلیمی وظائف میں اشتراک جاری رہے گا۔ سائنسی تحقیقی اداروں کے درمیان براہ راست رابطوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافتی تعلقات کو بڑھایا جائے گا۔ ترکی کی جانب سے کراچی اور لاہور جبکہ پاکستان کی جانب سے ترکی میں ثقافتی مراکز کے قیام سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ثقافتی تبادلوں کے پروگرام سے بھی عوامی سطح پر روابط کو فروغ ملے گا۔ سیاسی تعاون کے حوالہ سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ 7 دسمبر 2010ء کو انقرہ میں منعقدہ ایچ ایل سی سی کے پہلے اجلاس میں قائم کردہ سیاحت اور ثقافت مشترکہ ورکنگ گروپس کو ایک مشترکہ ورکنگ گروپ میں ضم کیا جائے گا جس کا عنوان ’’سیاحت اور ثقافت‘‘ ہوگا۔ سیاحتی میلوں میں دونوں ممالک کے شعبہ جات کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اس ضمن میں صحافیوں، مصنفین، سائنسدانوں، فنکاروں، طالب علموں اور سیاحتی شعبہ کے نمائندوں کی عالمی تقاریب میں شرکت اور باہمی دوروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اعلیٰ سطحی سٹریجک تعاون کونسل کے 6 مشترکہ ورکنگ گروپ مخصوص پروگرام اور منصوبہ جات کی تیاری کیلئے کام جاری رکھیں گے۔ ایچ ایل ایس سی سی کا آئندہ اجلاس 2014ء میں اسلام آباد میں ہوگا۔