سپریم کورٹ ہفتے مےں دو چھٹیاں نہیں کرے گی فل کورٹ اجلاس مےں متفقہ فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے ہفتہ مےں دو چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے فل کورٹ اجلاس مےں متفقہ طور پر کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کی جس مےں تمام ججوں، رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار نے شرکت کی۔ اجلاس مےں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ کے جج ہفتے مےں پانچ روز مقدمات کی سماعت کرتے ہےں جبکہ ہفتے کا دن فیصلے لکھنے کےلئے مخصوص ہے جس کےلئے عملے کا ہونا ضروری ہے اس لئے سپریم کورٹ ہفتے مےں دو چھٹیوں کا فیصلہ اپنانے سے قاصر ہے۔ اجلاس مےں ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی مےں کمیٹی بنائی جائے گی جس مےں سینئر وکلا شامل ہوں گے جو اس معاملے کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے سفارشات مرتب کرے گی جبکہ ایک اور کمیٹی جسٹس ناصر الملک اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل ہوگی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے لاءکلرک شپ کے اپنائے گئے نظریے سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس مےں 19 اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے جسٹس غلام ربانی کی عدلیہ کےلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے عدالت عظمیٰ میں زیر التواءمقدمات نمٹانے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی محنت‘ لگن اور جذبے کے ساتھ کام کرنے سے نئے مقدمات کے اندراج کو تعداد بڑھنے کے باوجود زیر التوا مقدمات کا حجم گھٹتا جا رہا ہے جو خوش آئند بات ہے۔ چیف جسٹس نے ریفرنس کے دوران کہا کہ جسٹس غلام ربانی نے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ذمہ داری‘ دیانتداری اور لگن و جذبے کے ساتھ فرائض سرانجام دیئے ہیں۔ نئے مقدمات کے اندراج میں تیزی کے باوجود عدالت عظمیٰ زیر التوا مقدمات کی تعداد کم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فل کورٹ نے ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلہ میں جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جو اس ایشو کا جائزہ لے گی جس کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لئے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس ناصر الملک پر مشتمل دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں متعارف کرائے جانے والے کلرک شپ کے آئیڈیا پر شرکاءکو بریف کرتے ہوئے تجویز دی کہ نوجوان وکلاءکو ایک یا دو سال کے لئے بطور اپرنٹس عدالت عظمیٰ میں تعینات کیا جائے۔ فل کورٹ نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے تین لاءکلرک ہائر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ / دو چھٹیاں