خیبر ایجنسی : فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا حملہ‘ 9 اہلکار جاں بحق‘ جوابی کارروائی میں پندرہ عسکریت پسند مارے گئے

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرایجنسی کے علاقہ اکاخیل میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسندوںکے حملہ میں 9سکیورٹی اہلکار جاںبحق اور 3دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں 15شدت پسند مارے گئے، کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری حکام کو اطلاع ملی تھی کہ خیبرایجنسی کے علاقہ اکاخیل کے ایک مکان میں شدت پسند موجود ہیں جو کسی تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اس اطلاع پر فرنٹیئرکور کے محسود سکاﺅٹس کے ایک دستہ نے مذکورہ کمپاﺅنڈ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران کمپاﺅنڈ میں موجود مبینہ شدت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر راکٹوں اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس موقع پر جھڑپ میں 9سکیورٹی اہلکار جاںبحق اور تین دیگر شدید زخمی ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 15مبینہ شدت پسند مارے گئے۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسزکے تازہ دم دستے علاقہ میں پہنچ گئے جبکہ پاک فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور علاقہ میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آخری اطلاعات تک سکیورٹی فورسز نے علاقہ کا گھیراﺅ کرکے شدت پسندوںکی تلاش شروع کر دی ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق جھڑپ دو سے تین گھنٹے تک جاری رہی۔ مزید برآں اے پی پی کے مطابق سوات کے علاقہ بنجوٹ سیرتلیگرام مےں سکیورٹی فورسز کی کارروائی مےں اہم شدت پسند کمانڈر جاںبحق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق سوات کے علاقہ بنجوٹ مےں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے اہم شدت پسند کمانڈر قاری امیر نواب جاںبحق ہلاک ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شدت پسند کو سکیورٹی فورسز اسلحہ کے نشاندہی کےلئے لے گئے تھے کہ قاری امیر نواب نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ خیبر ایجنسی سے نامہ نگار کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں جاںبحق ہونے والوں میں نائیک فرید‘ سپاہی سیار‘ سپاہی ذکا علی‘ سپاہی افضل‘ لانس نائیک‘ اختر باز‘ سپاہی زرمیز‘ سپاہی رحیم زادہ‘ نائیک الیاس‘ سپاہی عادل زمان اور زخمی ہونے والوں میں حوالدار حبیب‘ سپاہی اسماعیل‘ سپاہی فیاض اور سپاہی اسلام گل شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں کی نعشیں فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کر دی گئیں جبکہ زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
9اہلکار جاںبحق