تنخواہیں نہ ملنے پر ریلوے ملازمین نے ٹرینیں روک لیں‘ سات روز میں ادائیگی کی جائے ‘ صدر کی ہدایت

لاہور + اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + سپیشل رپورٹر + مانیٹرنگ ڈیسک) تنخواہیں نہ ملنے پر ریلوے ایمپلائز یونین نے ملک گیر احتجاج کے دوران لاہور سمیت کئی شہروں میں ٹرینیں روک دیں اور ٹرینوں کو ریلوے سٹیشنز سے باہر نکلنے نہیں دیا۔ ملازمین نے ریلوے پٹریوں پر لیٹ کر دھرنا دیا۔ صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں ریلوے بحران کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ صدر زرداری نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ریلوے ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی 7 روز کے اندر کر دی جائے‘ انجنوں کی مرمت اور خریداری کے لئے 6 ارب روپے کے قرض کا بندوبست کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق ریلوے ملازمین نے لاہور میں 14 ڈیزل انجن روک لئے‘ مظاہرین نے گڑھی شاہو پل پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک کا نظام جام کر دیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ متعدد انجن روک لئے جس کے باعث کئی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کی آمدورفت بند ہونے پر مشتعل مسافروں نے سٹیشن ماسٹر کے دفتر کا گھیرا¶ کر لیا اور ریلوے حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ریلوے کی انتظامیہ دفتروں سے غائب ہو گئی۔ پولیس کی بھاری نفری نے آ کر پرامن طور پر منتشر کیا۔ لاہور میں انجن شیڈ اور کیرج شاپ کے ملازمین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مزدور رہنماﺅں کا کہنا تھاکہ افسران اپنی تنخواہیں وصول کر لیتے ہیںجبکہ محنت کرنے والے غریب ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ ادھر ریلوے کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے لاہور میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لئے 8 کروڑ کا چیک بھی ڈس آنر ہو گیا۔ ریلوے ملازمین نے آج منگل کو تنخواہوں کی ادائیگی کی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کر دی تاہم ریلوے حکام کو دھمکی دی ہے کہ اگر آج تنخواہیں نہ ملیں تو ٹرین آپریشن دوبارہ جام کر دیں گے۔ فیصل آباد میں بھی ملازمین نے پٹریوں پر دھرنا دیا اور ٹرین روک لی۔ وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ میرے استعفیٰ دینے سے ریلوے ٹھیک نہیں ہو گی اگر ریلوے کو بیل آ¶ٹ پیکج مل جاتا تو آج خسارہ کم ہوتا‘ اس مرتبہ چین کو انجن کی پیشگی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ کراچی سے کامرس رپورٹر کے مطابق کراچی سے اندرون ملک جانے والی تمام ٹرینیں روک دی گئیں۔ اعلیٰ افسران اپنے دفتروں سے غائب ہو گئے‘ ملازمین نے ہڑتال کی۔ سکھر‘ پشاور‘ ملتان کے ریلوے ملازمین نے بھی احتجاجی مظاہرے کئے۔ علاوہ ازیں صدر آصف زرداری کی زیر صدارت ریلوے بحران سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ صدر نے کہا کہ ریلویز کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریلوے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت چلایا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ ریلوے ملازمین کو تنحواہوں‘ پنشن کی ادائیگی ایک ہفتے کے اندر کی جائے۔ انجنوں کی مرمت کے لئے حکومت 6 ارب روپے کے قرضے کا بندوبست کرے۔ وزیر ریلوے بشیر احمد بلور نے اجلاس کو بتایا کہ انجن نہ ہونے کی وجہ سے فریٹ ٹرینیں بھی معطل ہیں جس کی وجہ سے 9 ارب روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ریلوے کو پرائیویٹ پبلک سیکٹر تعاون سے بہتر بنایا جائے گا۔ ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق صدر نے یہ ہدایت اس وقت دی جب ریلوے کے وزیر حاجی غلام احمد بلور نے اجلاس میں بتایا کہ ریلوے کے پاس نئے انجن خریدنے اور خراب انجنوں کی مرمت کے لئے رقم نہیں ہے۔ سٹیٹ بنک سے ریلوے نے 40 ارب روپے قرض لیا ہوا ہے اس پر اسے ماہانہ 35 کروڑ سٹیٹ بنک کو ادا کرنا ہوتا ہے جس پر صدر نے کہا کہ یہ معاملہ آپ مشترکہ مفادات کی کونسل میں اٹھائیں۔ غلام احمد بلور نے ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بتایا کہ ریلوے کے کئی پل ایک سو سال پرانے ہیں اور اس کے اکثر انجن خراب پڑے ہیں۔ علاوہ ازیں صدر زرداری نے کہا کہ ریلوے چلتی رہے گی اسے بند نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایوان صدر میں وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور کی قیادت ریلوے کے اعلیٰ سطح کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علاوہ ازیں ریلوے افسران اور ریل مزدور اتحاد کے رہنما¶ں کے درمیان مذاکرات میں طے پایا کہ مزدوروں کو آج (منگل) ہر صورت میں تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی جس پر ملازمین نے پہیہ جام ہڑتال ختم کر دی تاہم پیر کے روز صبح ساڑھے 9 بجے سے معطل ہونے والا ٹرین آپریشن رات 9 بجکر 5 منٹ پر مارگلہ ایکسپریس کی روانگی کے ساتھ بحال ہو گیا۔ دوسری طرف ریلوے پریم یونین نے ریلوے ملازمین کے مطالبات کے حق میں آج (منگل) 11 بجے لاہور ریلوے سٹیشن پر دھرنا دینے اور مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے ریلوے مزدوروں کے نمائندوں سے رابطہ کر کے انہیں احتجاجی دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے ریلوے کے بحران کے خلاف 21 اکتوبر کو احتجاجی دھرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ٹرینیں روک لی