امریکہ دباﺅ نہ ڈالے‘ پاکستان سے تعلقات کے سوا چارہ نہیں‘ سیکرٹری جنرل نیٹو‘ بار بار کہنے کے باوجود امریکی اور افغان فورسز فضل اللہ کیخلاف کارروائی نہیں کر رہیں : ترجمان پاک فوج

امریکہ دباﺅ نہ ڈالے‘ پاکستان سے تعلقات کے سوا چارہ نہیں‘ سیکرٹری جنرل نیٹو‘ بار بار کہنے کے باوجود امریکی اور افغان فورسز فضل اللہ کیخلاف کارروائی نہیں کر رہیں : ترجمان پاک فوج

اسلام آباد (رائٹرز + اے پی اے + ریڈیو نیوز) پاک فوج نے امریکی اور افغان افواج پر زور دیا ہے کہ سرحد پار سے حملوں میں ملوث طالبان رہنما فضل اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔ ”رائٹرز“ کو انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ فضل اللہ کے جنگجو¶ں نے حالیہ چند ماہ میں کئی مرتبہ سرحد پار سے حملے کئے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے کئے گئے حملوں میں تقریباً سو پاکستانی سکیورٹی اہلکار جاںبحق ہو چکے ہیں۔ میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ حملوں میں ملوث فضل اللہ گروپ کے خلاف امریکی اور افغان فورسز نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور اتحادی افواج مولوی فضل اللہ گروپ کے خلاف امریکی اور افغان فورسز نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور اتحادی افواج مولوی فضل اللہ گروپ کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان اور امریکی قیادت میں وہاں تعینات اتحادی افواج پر بار بار زور دیا ہے کہ وہ مفرور پاکستانی طالبان کمانڈر مولوی فضل اللہ کے خلاف کارروائی کریں لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ مولوی فضل اللہ اور اس کے گروپ کے دیگر ارکان دیر کے راستے سوات میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں‘ ان کے خلاف کارروائی کی ہماری درخواست پر اتحادی اور افغان افواج اس گروپ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی ہیں اور مسئلہ وہیں کا وہیں موجود ہے‘ ایک سوال کے جواب پر عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں شدت پسندوں کی جانب سے سرحد پار حملوں کی شکایات پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ تازہ شکایت افغانستان سے اس کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ سرحد کی غیر م¶ثر نگرانی کا فائدہ اٹھا کر عسکریت پسند سرحد پار اہم اہداف پر حملے کر رہے ہیں۔ سوات میں 2009ءمیں پاکستانی طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد فضل اللہ نے مبینہ طور پر فرار ہونے کے بعد افغانستان کے مشرقی کنڑ صوبے میں پناہ لے لی تھی جہاں اس نے مقامی عسکریت پسندوں کی مدد سے اپنے جنگجو¶ں کو دوبارہ منظم کرنے کے بعد سرحد پار پاکستانی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جنرل عباس کا کہنا ہے کہ شدت پسند ایک بار پھر پاکستان کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ ”اب فضل اللہ اور اس کے ساتھی (شمال مغربی ضلع) دیر کے راستے دوبارہ سوات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں“۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان فضل اللہ اور حملہ کرنے والے دوسرے گروپوں کے مقامات کی نشاندہی بھی کر چکا ہے اور ان کے حوالے سے امریکی و اتحادی فوج اور افغان حکومت کو معلومات بھی دے چکا ہے تاہم ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ جب مولوی فضل اللہ سوات سے فرار ہوئے تھے تو ان کا گروپ تتر بتر تھا تاہم افغانستان میں انہیں وقت اور حمایت میسر آ گئی جس سے وہ مضبوط ہو گیا۔ دریں اثناءافغانستان کے نیشنل ڈاریکٹوریٹ برائے قومی سلامتی کے ترجمان لطف اللہ نے کہا ہے کہ حملہ آور عام طور پر سرحد پار سے آتے ہیں اور حملے کرتے ہیں اور ایک بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ افغانستان میں کوئی گروپ مقیم ہے نہ یہاں دوبارہ منظم ہوا ہے۔
برسلز ( نمائندہ خصوصی+مانیٹرنگ ڈیسک) سیکرٹری جنرل نیٹو راسموسن نے کہا ہے کہ امریکی الزامات کے باوجود پاکستان سے تعلقات رکھنا ہوں گے۔ نیٹو کے پاس پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ متبادل نہیں‘ پاکستان سے تعلق رکھنا ہی آخری حد ہے۔ پاکستانی حکومت اور فوج کو حقانی نیٹ ورک سے دور رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں‘ پاکستان یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں۔ پاکستان سے قریبی اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔ دریں اثنا شمالی وزیرستان کے ساتھ منسلک سرحد پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے سوال پر ترجمان پینٹاگون نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت کی تصدیق یا تردید نہیں کریں گے۔ حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں‘ حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کی پاکستان سے افغانستان میں مداخلت جاری ہے۔ ملا فضل اللہ کے افغانستان سے پاکستان پر حملوں کے بارے میں معلوم نہیں۔ مزید برآں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ حالات کی سنگینی کے باوجود پاکستان سے رابطے بحال ہیں۔ اہم اتحادی ملک سے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے طریقہ کار پر مذاکرات جاری ہیں تاہم اس سلسلے میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف واضح پیغام پہنچا دیا گیا ہے‘ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور اس سلسلے میں پاکستان کو بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف افغان حکومت کی شرائط پر پورا اترنے والے شدت پسندوں سے مصالحت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا اور اس حوالے سے تعاون کا خواہشمند ہے۔سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر دباﺅ نہ بڑھائے نہ ڈالے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قریبی اور مثبت پارٹنر شپ کا سلسلہ جاری رکھے
نیٹو / پینٹاگون