پٹرول کا بحران جاری‘ سیکرٹری پٹرولیم سمیت چار افسر معطل‘ یہ انتہائی نااہلی ذمہ دار حکومت ہے‘ نثار : لاہور میں سی این جی پمپ دو روز کیلئے کھل گئے

پٹرول کا بحران جاری‘ سیکرٹری پٹرولیم سمیت چار افسر معطل‘ یہ انتہائی نااہلی ذمہ دار حکومت ہے‘ نثار : لاہور میں سی این جی پمپ دو روز کیلئے کھل گئے

اسلام آباد + لاہور+ فیصل آباد (نمائندہ خصوصی+ خبر نگار+ نیوز رپورٹر+ خبر نگار خصوصی+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگاران) لاہور سمیت پنجاب بھر میں پٹرول کا بحران پانچویں روز بھی جاری رہا۔ پٹرول کی قلت شہریوں کیلئے دردِ سر بنی رہی۔ معمولات زندگی مفلوج ہو گئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پٹرول کی قلت کے باعث پیدا شدہ بحران کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم سمیت 4 افسروں کو فوری طور پر معطل کردیا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب سے وطن واپسی پر ائر پورٹ پر ہی اجلاس طلب کرلیا جس میں افسروں سے تیل کی عدم دستیابی کے بارے میں بازپرس کی۔ وزیراعظم نے چار افسروں کو معطل کر دیا جن میں سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید، ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم نعیم ملک، ڈی جی آئل ایم اعظم اور ایم ڈی پی ایس او ڈاکٹر امجد جنجوعہ شامل ہیں۔ اجلاس میں پٹرول کی سپلائی بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتیں پٹرول کی بلیک میں فروخت روکیں۔ ادھر وزیراعلی پنجاب نے پٹرول کی قلت کا نوٹس لے لیا، وفاقی وزیر پٹرولیم سے رابطہ کے بعد لاہور میں کچھ سی این جی سٹیشن کھل گئے۔ دوسری جانب لاہور میں پٹرول کی قلت کے باعث ریسکیو 1122 کی بھی صرف چار گاڑیاں آپریشنل ہیں۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں پمپس پر پٹرول نہ ملنے پر شہریوں کے سٹاف سے تلخ کلامی اور جھگڑوں کے واقعات پیش آ تے رہے۔ صوبے کے 80 فیصد پٹرول پمپس پر پٹرول دستیاب نہیں، جہاں پٹرول مل رہا وہاں بھی پٹرول انتہائی محدود پیمانے پر ہی فروخت کیا جارہا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی پٹرول پمپس ایندھن نہ ہونے کے باعث بند رہے جبکہ جن پٹرول پمس پر پٹرول موجود تھا وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما خواجہ آصف کے مطابق لاہور کے 5 فیصد کھلے پمپوں پر موٹر سائیکل کو 100 روپے اورگاڑی کو 500 روپے تک کا پٹرول دیا جارہا ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق ملک میں تیل کی درآمدات مکمل طور پر رک جانے سے پاکستان میں تیل کا سٹاک صرف 3 دن کا رہ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2 دن بعد پٹرول آنا شروع ہوجائیگا۔ 2 روز بعد مزید 2 جہاز تیل لیکر پاکستان پہنچ جائیں گے۔ پی ایس او حکام کا کہنا ہے کہ کراچی بندرگاہ پر پٹرول کی اَن لوڈنگ شروع ہوگئی ہے جس سے پنجاب کے پٹرول بحران پر ایک دو روز میں قابو پا لیا جائیگا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خان خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے تک پٹرول کا بحران حل ہوجائیگا۔ لاہور میں سی این جی سٹیشنز 2 روز کیلئے کھلیں گے۔ مخصوص حالات میں لاہور کو سی این جی دے رہے ہیں۔ قصور میں پٹرول غائب ہونے پر شہریوں نے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں کھڑی کردیں، بچوں اور مسافروں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا رہا۔ جن پمپوں پر پٹرول دستیاب تھا وہاں شہریوں کو گھنٹوں انتظار کی اذیت برداشت کرنا پڑی۔ گوجرانوالہ، کامونکے، سادھوکے میں پٹرول کی قلت شہریوں کیلئے عذاب بنی رہی۔ کئی مقامات پر لڑائی جھگڑے دیکھنے میں آئے۔ ذخیرہ اندوزوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی ایجنسیوں پر پٹرول 150 روپے لٹر تک فروخت کیا۔ پتوکی میں پٹرول نہ ملنے سے ایمبولینس سروس بھی معطل ہوگئی۔ شیخوپورہ میں کچھ پمپوں پر لمبی قطاریں لگی رہیں۔ عوام نے پٹرول کی نایابی پر شدید احتجاج کیا۔ ننکانہ صاحب، خانقاہ ڈوگراں، بچیانہ میں بھی بیشتر پمپ بند رہے۔ ننکانہ میں پٹرول 200 روپے لٹر تک فروخت ہوتا رہا۔ بہاولپور، قائد آباد، بصیر پور، سیالکوٹ، ساہیوال، سرگودھا، جہلم، دینہ میں بھی پٹرول کی نایابی سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں اضافہ کردیا۔ شہری پٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔ ادھر ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان یونس نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز میں پٹرول کا بحران ختم ہوجائیگا۔ پٹرول پمپ اور سی این جی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے موقع پر سیکرٹری انفارمیشن پٹرولیم ڈیلرز خواجہ عاطف الدین نے کہا کہ پٹرول کا بحران وزارت پٹرولیم اور اوگرا کا مشترکہ پیدا کردہ اور انکی بدانتظامی کا ثبوت ہے۔ ڈی سی او نے کہا کہ لاہور میں صرف پٹرول کی کمی ہے ڈیزل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلا پٹرول بیچنے کی پابندی ہے جو کھلا تیل اور مہنگا پٹرول بیچے گا اسکے خلاف کارروائی ہوگی۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اوگرا سے پٹرول کی قلت پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان پی ایس او نے کہا ہے کہ پٹرول کا دوسرا جہاز 24 جنوری کو پہنچے گا۔ وزیر پٹرولیم نے پاکستان قطر ایل این جی مذاکرات کے حوالے سے پی ایس او کے معطل ایم ڈی امجد پرویز جنجوعہ کا این او سی منسوخ کردیا۔
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) وزیر داخلہ چودھری نثار نے پٹرول کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاروں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حکومت کی نااہلی کا اعتراف کرلیا۔ پریس کانفرنس میں چودھری نثار نے کہا کہ پہلے سی این جی کیلئے لمبی لمبی لائنیں لگتی تھیں۔ پٹرول کیلئے اتنی لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر مجھے سخت شرمندگی ہے۔ یہ نااہلی ہے اور حکومت کو اسکی ذمہ داری لینا چاہئے۔ بحران کے ذمہ دار ہم ہیں جو صحیح بات ہے اسکا اعتراف کرلینا چاہئے۔ چودھری نثار نے کہا میں وزیراعظم سے بات کروں گا اور اس نااہلی میں جو ملوث ہوا اسکے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسلام آباد (جاوید صدیق) وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پی ایس او تیل کی ضروریات کیلئے صرف 48 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، باقی 52 فیصد تیل نجی کمپنیاں درآمد کرتی ہیں۔ اس لئے صرف پاکستان سٹیٹ آئل موجودہ قلت کا ذمہ دار نہیں ہے۔ نوائے وقت سے بات چیت میں وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ تیل کے پانچ ٹینکر اگلے پانچ سے سات دن میں پہنچ رہے ہیں جس کے بعد یہ بحران ختم ہوجائے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا درست ہے کہ پی ایس او کے پاس رقم نہیں اس لئے وہ تیل درآمد کرنے سے قاصر ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک وجہ ہے لیکن اچانک پٹرول کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوجانے سے ملک میں موجود پٹرول کا ذخیرہ تیزی سے استعمال ہوا ہے۔جن لوگوں کے پاس سی این جی کٹس موجود ہیں انہوں نے بھی پٹرول کی قیمت کم ہونے کے بعد پٹرول استعمال کرنا شروع کردیا جس سے پٹرول کی مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پٹرولیم کے وزیر نے بتایا کہ ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
شاہد خاقان