قتل کے مجرم اکرام الحق لاہوری کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیدی گئی

قتل کے مجرم اکرام الحق لاہوری کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیدی گئی

لاہور + شورکوٹ چھا¶نی (سٹاف رپورٹر + نامہ نگار) کوٹ لکھپت جیل میں اکرام الحق عرف لاہوری کو پھانسی دیدی گئی۔ پھانسی کے بعد نعش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ پھانسی صبح 6 بجے دی گئی۔ اکرام الحق عرف لاہوری نے 2001ءمیںاہل تشیع نیئر عباس کو فیصل آباد کے قریب قتل کردیا تھا جس کے کیس میں اکرام الحق عرف لاہوری کو فیصل آباد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2004ءمیں موت کی سزا سنائی جو دوسری عدالتوں میں اپیلوں اور نیئر عباس کے بیٹوں کے معاف کرنے کے باوجود بحال رہی۔ جیل میں اکرام الحق عرف لاہوری کی دوبارہ اسکے ورثاءسے ملاقات کروائی گئی اور گذشتہ روز اکرام الحق عرف لاہوری کو جیل کے سپرنٹنڈنٹ اسد وڑائچ، مقامی ڈاکٹر، مجسٹریٹ و دیگر افسران کی موجودگی میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اسکی موت کی تصدیق کے بعد نعش کو ورثاءکے حوالے کر دیا گیا جو اسے آبائی گاﺅں لے گئے۔ اس موقع پر جیل میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ اس سے قبل مجرم کو احکامات ملنے کے بعد 8 جنوری کو پھانسی دی جانی تھی۔ اکرام الحق عرف لاہوری کی ورثاءسے ملاقات بھی کروا دی گئی تھی اور پھانسی کی تمام تر تیاریاں مکمل تھیں۔ ورثاءکی جانب سے مدعیوں سے صلح نامے کی وجہ سے پھانسی مو¿خر کی گئی۔ جیل حکام کے مطابق دونوں فریقین عدالت میں پیش ہوئے جہاں صلح نامہ بھی پیش کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے سزائے موت کی سزا برقرار رکھنے کے احکامات جاری کئے جس کے بعد اسے گذشتہ روز پھانسی دیدی گئی۔ مزید برآں شورکوٹ چھا¶نی کے نامہ نگار کے مطابق سزائے موت پانے والے اکرام الحق عرف لاہوری کی میت آبائی شہر شورکوٹ چھا¶نی پہنچانے کے بعد تدفین کر دی گئی۔ میت کو سخت سکیورٹی میں شورکوٹ چھا¶نی دن 12 بجے لایا گیا۔ نماز جنازہ اکرام الحق عرف لاہوری کے بھانجے مولانا فیصل محمود نے پڑھائی۔ ڈی پی او جھنگ ذیشان اصغر‘ ڈی ایس پی شاہد نذیر اور ایس ایچ او کینٹ مہر حیات سرگانہ نے سکیورٹی کی مکمل نگرانی کی۔
اکرام الحق/ پھانسی