آڈٹ ہو گا‘ بیرونی امداد صرف حکومت کے ذریعے ملے گی‘ دہشت گردی میں ملوث مدارس کیخلاف کارروائی پر اتفاق

آڈٹ ہو گا‘ بیرونی امداد صرف حکومت کے ذریعے ملے گی‘ دہشت گردی میں ملوث مدارس کیخلاف کارروائی پر اتفاق

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں اور دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے شانہ بشانہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے خودکش حملوں اور پاکستان کیخلاف مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیدیا۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث افراد کیخلاف بلاامتیاز کارروائی پر اتفاق کیا ہے، مدارس کی رجسٹریشن کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اتحاد تنظیمات مدارس پر مشتمل کمیٹی قائم ہوگی، مدارس اپنے حسابات کی آڈٹ رپورٹ دینگے، مدارس کا نصاب خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر بنایا جائیگا، ملک میں علماءکرام اپنے خطبات میں اسلام کا پیغام امن عام کرینگے۔ یہ فیصلے دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے کیلئے وزیر داخلہ کی زیرصدارت اجلاس میں کئے گئے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی خواجہ ظہیر احمد اور بیرسٹر ظفر اللہ خان، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، سرکاری اداروں کے سربراہوں اور دینی مدارس کی پانچوں نمائندہ تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ شرکاءنے گستاخانہ خاکے چھاپنے والے مغربی جرائد کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام انبیاءکرام علیہم السلام اور تمام مذاہب کے شعائر کے احترام کو یقینی بنانے کیلئے عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے۔ اجلاس کے شرکاءنے گستاخانہ طرزِعمل پر پوپ فرانسس کے موقف کو سراہا اور قوم کے نام پیغام دیا کہ شرانگیزی کیخلاف احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور قومی املاک کو ہرگز نقصان نہ پہنچایا جائے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق تمام شرکاءاجلاس نے سانحہ پشاور کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس بات کا عزم کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور مذہبی اکابرین دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ اجلاس میں اتفاق رائے قرار پایا کہ کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے فرد یا ادارے کیخلاف ملکی قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائیگی۔ مدارس کی رجسٹریشن کیلئے کمیٹی اتفاق رائے سے ایک جامع رجسٹریشن فارم تیار کریگی تاکہ تمام کوائف ایک ہی وقت میں حاصل ہو سکیں۔ علماءکرام نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ مدرسوں کو بیرونی امداد صرف حکومت کے ذریعے آئیگی اور حکومت اس ضمن میں طریقہ کار وضع کریگی۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں علماءکرام نے اس بات پر زور دیا کہ مدارس سے متعلق قانون سازی اتحاد تنظیمات مدارس کی مشاورت سے کی جائیگی جس پر اجلاس نے قرار دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صرف طاقت کا استعمال ہی نہیں بلکہ فکری و نظریاتی سطح پر بھی ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ مدارس کے نصاب اور اس سے متعلقہ معاملات کو طے کرنے کیلئے وزارت تعلیم‘ وزارت مذہبی امور‘ صوبائی حکومتوں اور اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائیگی جو سفارشات مرتب کریگی۔ دینی مدارس کی قیادت نے سیاسی‘ جماعتوںسفارتکاروں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے و شخصیات کو دعوت دی کہ وہ دینی مدارس کے دورے کرکے نظام و نصاب کا ازخود مشاہدہ کریں۔ علماءنے مطالبہ کیا کہ دینی اور مذہبی کتب پر اشاعت کے بعد پابندی عائد کرنے کی بجائے ان کی اشاعت سے قبل جائزہ لے کر مسودہ کی منظوری دی۔
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مدارس اور میڈیا کے نمائندوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں حکومت کی مکمل حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، علمائے کرام اور میڈیا کی تمام تنظیمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ ہیں، ہم اپنے ملک، مستقبل اور اقدار کا ہر صورت دفاع کریں گے اور ملک کو فساد سے نکالیں گے، توہین کرنے والے دہشت گردی کی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں، مقدس ہستیوں کی توہین کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ نے ہفتے کو یہاں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ہمیں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑنی ہے۔ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، سرحدوں سے شروع ہونے والی جنگ اب ہمارے گلی محلوں تک پہنچ چکی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب متحد ہوں اور مل کر اس ناسور کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حوصلے کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دینا، وقت آگیا ہے کہ ملک کیلئے ہم سب بہترین خدمات سرانجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عورتوں اور بچوں پر حملوں کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے، ہم تو صرف اپنے ملک کا دفاع چاہتے ہیں۔ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرکے آزادی اظہار رائے کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پورا عالم اسلام اس وقت سراپا احتجاج ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں بھی توہین آمیز خاکوں پر متفقہ قرار داد لائی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے گستاخانہ خاکوں پر پوپ فرانسس کے بیان کو سراہا اور کہا کہ ہم ان کے بیان کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک، مستقبل اور اقدار کا ہر صورت دفاع کریں گے۔ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور قومی لائحہ عمل پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اگر کسی مدرسہ کے خلاف دشتگردی اور انتہاءپسندی کے حوالے سے کوئی ثبوت پائے گئے تو مدرسہ کی انتظامیہ کارروائی کرنے میں حکومت کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے 90 فیصد سے زائد مدارس دہشت گردی میں ملوث نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مدارس کے منتظمین نے حکومت کا ساتھ دینے کا عزم کیا ہے۔ مدارس کے خلاف کارروائی ثبوتوں کی بنیاد پر ہوگی۔ بغیر کسی ثبوت کے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فاٹا سمیت تمام مدارس کی رجسٹریشن کی جائےگی۔ چودھری نثار علی خان نے کہاکہ 21ویں آئینی ترمیم پر قانون سازی کیلئے دو جماعتوں کے تکنیکی خدشات کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کا حلقہ تنگ کر دیا جائے گا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں ہی ملک کی بقاءہے۔ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ دہشت گردی کے مزید حملے بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ان واقعات پر مرعوب یا تقسیم نہیں ہونا ہوگا۔ قوم متحد ہوکر کہے کہ ہم دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا اپنا کردار بخوبی سرانجام دے رہا ہے جو قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ۔ بھارت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ موقف اپنا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے حوالے سے بھارت کا پراپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو جدید آلات سے لیس کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور میں کسی غیرملکی کی شمولیت کے شواہد نہیں ملے۔ توہین آمیز خاکوں سے آزادی رائے کے نام پر ہمارے مذہب کی تضحیک کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، خاکے شائع کرنے والے دہشت گردوں کے دست راست بنے ہیں۔ جب تک مذاہب کا احترام نہیں ہوگا تب تک دہشت گرد فائدہ اٹھائیں گے۔ 21 ویں ترمیم پر دو جماعتوں کو تکنیکی تحفظات ہیں، انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق مزید حملے ہوں گے، قوم سے گزارش ہے کہ حملہ ہو تو تقسیم نہ ہو، تمام مکاتب فکر کے مدارس دہشت گردی کے خلاف ہیں، میڈیا اپنی طاقت ملک بچانے کیلئے استعمال کرے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حکومت نہیں ریاست کا ساتھ دے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ہم ہمت ہار جائیں اسی لئے وہ گھناﺅنے حملے کر رہے ہیں۔ سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے الزام تراشی سے بچا جائے۔ پوری قوم کو عہد کرنا ہوگا کہ برے سے برے وقت میں بھی ہمت نہیں ہارنی۔ ریاست کے تمام ستون دہشت گردی کیخلاف متحد ہیں، میڈیا سے معاملات حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، میڈیا کی تنظیموں نے دہشت گردی کے معاملے پر ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، میڈیا پر قدغن نہیں لگائیں گے، جان کیری سے سمجھوتہ ایکسپریس پر واضح نشاندہی کی، سکیورٹی ایجنسیوں کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کریں گے، تمام مدارس کی رجسٹریشن ہو گی۔ فاٹا کے مدارس رجسٹر کرنے کیلئے قانون سازی ہوگی، مدارس میں کالی بھیڑوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا دہشت گردی اور انتہاپسندی میں ملوث مدرسوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ چودھری نثار نے کہا مدارس کی انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد تحقیقات کی جائیگی۔ اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا مدارس کی اصلاحات تھا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ 65ءکی جنگ میں پوری قوم بھارت سے مقابلے کےلئے متحد تھی آج 65ءسے زیادہ گھمبیر حالات ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے دہشت گردوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اس لئے اپنے اوپر الزامات پر خاموش ہوں۔ اس وقت دہشت گردوں کو پیغام جانا چاہئے کہ قوم ان کے خلاف متحد ہے الزام تراشی کر کے قوم کو تقسیم نہ کیا جائے۔ سکول میں ہونے والی دہشت گردی میں کسی غیر ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے ‘ مارے جانے والے تمام دہشت گرد پاکستانی تھے‘ افغانستان سانحہ کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے۔ بھارت کا پاکستان اور مسلمانوں بارے رویہ منہ میں رام بغل میں چھری کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا طے ہوا ہے کوئی بھی مدرسہ جو دہشت گردی میں ملوث ہو اس کے خلاف ثبوت ہوں تو اس کے خلاف مدارس کی تنظیمیں حکومت کا ساتھ دیں گے۔ ہم نے واضح کیا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر گڑ بڑ کر رہا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ دریں اثناءملک کی تمام میڈیا تنظیموں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، آل پاکستان پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی زیر صدارت ہفتہ کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید، وزیراعظم کے معاونین خصوصی عرفان صدیقی، بیرسٹر ظفراللہ خان، خواجہ محمد ظہیر احمد کے علاوہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی چیئرپرسن ماروی میمن نے شرکت کی۔ اجلاس میں دہشت گردی کیخلاف شروع کئے گئے قومی ایکشن پلان کی بھرپور حمایت کی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں نے اتفاق رائے سے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا م¶ثر کردار ادا کریں گے۔ وزیر داخلہ نے میڈیا سے رابطے کیلئے ایک حکومتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی اور وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن شامل ہونگے۔ میڈیا کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی میں چاروں تنظیموں کے سربراہان شامل ہونگے۔
نثار