پہلی ترجیح الیکشن‘مشرف کیخلاف مقدمہ نہیں چلا سکتے: نگران حکومت‘ آپ کے پاس مکمل اختیارات ہیں: سپریم کورٹ

پہلی ترجیح الیکشن‘مشرف کیخلاف مقدمہ نہیں چلا سکتے: نگران حکومت‘ آپ کے پاس مکمل اختیارات ہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت نیوز) نگران حکومت نے مشرف غداری کیس میں وفاق کی جانب سے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کی پہلی ترجیح انتخابات ہیں لہٰذا پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ابھی نہیں چلا سکتے۔ نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری انتخابات کرانا ہے، یہ آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کے خلاف مقدمہ درج کرانے کو اپنا اختیار نہیں سمجھتی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نگران حکومت مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ وقت کی کمی کے باعث مقدمے سے متعلق فوری م¶قف دینا ممکن نہیں۔ م¶قف دینے سے نگران حکومت کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔ دیکھنا ہے کہ نگران حکومت کے پاس م¶قف دینے کا مینڈیٹ ہے یا نہیں۔ پرویز مشرف سے متعلق معاملہ کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔ م¶قف دینے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی جائے۔ جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست مسترد کر دی اور حکم دیا کہ ایک گھنٹہ میں م¶قف جمع کرایا جائے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے پاس اور کاموں کے لئے وقت ہے اس کام کے لئے نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کے بارے میں ایسی بات نہ کی جائے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بادی النظر میں پرویز مشرف کے خلاف کارروائی وفاقی حکومت کا کام ہے۔ عدالت کی نظر میں نگران حکومت کے پاس مکمل مینڈیٹ ہوتا ہے۔ نگران حکومت کے پاس مکمل اختیارات موجود ہیں۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ دکھ کی بات ہے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز بھی پرویز مشرف کی معاونت کرنے والوں میں شامل تھے۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وفاق ایسا سمجھتا ہے تو ججوں پر مقدمہ چلائے، عدالت حاضر ہے۔ انہوں نے کہا ہم یہاں کھڑے ہیں پی سی او ججز کا نام آنے پر ہم خوفزدہ نہیں ہم حاضر ہیں، وفاق مقدمہ چلائے ہم یہاں کھڑے ہیں فیڈریشن ججوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ جن 14 ججوں نے مشرف کے خلاف فیصلہ جاری کیا ان سب نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ یہ نہ سمجھیں ججوں کا نام آئے گا تو کارروائی سے رک جائیں گے۔ عدالت کی برہمی کے بعد وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کرا دیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ اس سے قبل سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ وفاق بتائے مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی جسے سپریم کورٹ نے رد کر دیا۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے وفاق کا جواب جمع کرانے کے لئے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی اور کہا کہ موجودہ حکومت نگران سیٹ اپ کا حصہ اور اس کا محدود مینڈیٹ آزاد اور شفاف انتخابات کرانا ہے، دیکھنا ہو گا کہ کیا ایسی کارروائی سے نگران حکومت کی غیر جانبداری متاثر تو نہیں ہو گی۔ قائم مقام سیکرٹری قانون سہیل قدیر صدیقی نے کہا کہ کارروائی کا اختیار سیکرٹری وفاقی حکومت 1994ءمیں قانونی حکم جاری کر چکی ہے جس کے تحت غداری جیسے مقدمات کی کارروائی کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا ہے، وہی ایسے مقدمہ کا اندراج کرائیں گے۔ ایس آر او کے ذریعے سیکرٹری داخلہ کو مقدمے کا مجاز افسر مقرر کر دیا ہے۔ وزارت قانون نے ایس آر او 1994ءمیں جاری کر دیا تھا۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل سمیت کسی نے نہیں بتایا کہ مجاز افسر مقرر ہو چکا ہے۔ عدالت نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ دستاویزی شواہد دیں کہ سینٹ کی قرارداد کے بعد کیا کارروائی کی گئی۔ غداری مقدمے کی سماعت کیلئے لارجر بنچ کی درخواست چیف جسٹس کو بھیجی جائے۔ چیف جسٹس لارجر بنچ سے متعلق فیصلہ کرینگے، سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دستاویزات اور شواہد طلب کر لئے ہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق عدالتی حکم جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لئے منظور ہونے والی سینٹ کی قرارداد پر اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سینٹ قرارداد پر دستاویزی ثبوت فراہم کریں، عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے 31 جولائی 2009ءکے سپریم کورٹ کے فیصلہ اور سینٹ میں منظور ہونے والی قرارداد کی روشنی میں کئے گئے اقدامات کی تفصیل طلب کی ہے عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بظاہر وفاق نے درخواستوں میں اٹھائے گئے نکات پر اقدام نہیں اٹھایا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران پیش ہو کر بنچ سے استدعا کی کہ نگران حکومت کو کیس میں جواب داخل کرانے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ وفاقی کابینہ پرویز مشرف کے بارے میں موقف تیار کر سکے عرفان قادر نے کہا کہ نگران کابینہ کے سامنے بہت سے سوالات ہےں جن میں سے ایک یہ ہے کہ نگران کابینہ کے پاس ایسا مینڈیٹ ہے کہ وہ اس اہم معاملہ پر کوئی م¶قف اپنا سکے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر نگران حکومت نے پرویز مشرف سے متعلق کسی بھی قسم کا م¶قف اپنایا تو اس بات کا امکان ہے کہ ان کی غیر جانبداری متاثر ہو گی، نگران حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ملک میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہیں اس لئے سپریم کورٹ ایک ہفتے کی مہلت دے اس دوران وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو گا اور کوئی موقف اپنانے سے متعلق غورکیا جا سکتا ہے سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ 31 جولائی 2009ءکے فیصلہ پر م¶قف پیش کر کے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا چاہئے یا نہیں عدالت نے حکومت سے یہ بھی پوچھا تھا کہ بتایا جائے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے گذشتہ چار سال کے دوران کیا اقدامات کئے گئے۔ جسٹس جواد خواجہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ بارہ بجے تک حکومت کا جو بھی م¶قف ہے وہ لے آئیں نگران حکومت کا میندیٹ نہیں تو وفاق یہی بات لکھ کر دے دے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ ہمارے احکامات کو اہمیت نہیں دی جاتی نگران حکومت کو کیس سے متعلق عدالتی حکم کو سنجیدگی سے لینا چاہئے تھا جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بادی النظر میں فیڈریشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس میں مقدمہ درج کرائے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی موقف دے اس کا اپنا اختیار ہے لیکن عدالت یہ سمجھتی ہے کہ نگران حکومت مکمل طورپر بااختیار ہے اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرائے۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ نگران حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی نگران وزیر اعظم کے پاس دوسرے کاموں کے لئے وقت ہے مگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کے لیے وقت نہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے کہ غداری کا مقدمہ درج کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے عدالت کے حکم کرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ عرفان قادر نے کہا کیا نگران حکومت کا میندیٹ آزاد اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا نہیں ہےٍ؟ کیا غداری مقدمہ پر کارروائی نگران حکومت کی غیر جانبداری متاثر نہیں کرے گی؟ کیا یہ مناسب نہیں کہ اس طرح کی کارروائی انتخابات کے بعد کی جائے؟ مولوی اقبال حیدر کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ قانون ہے کہ ٹرائل کے لئے خصوصی عدالت فیصلہ ہونے تک مجرم کو حراست میں رکھے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ یہ کوئی عام کیس نہیں وفاق کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالہ سے کارروائی کرے درخواست گذار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت وفاق کی عدم دلچسپی پر توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ سنگین غداری کے مقدمہ میں باقاعدہ ٹرائل ضروری ہے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ہم جرم ثابت ہونے تک گرفتاری کا حکم نہیں دے سکتے یہ کوئی توہین عدالت کا کیس نہیں کہ مشرف کو عدالت میں بلا لیا جائے جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ دوران سماعت درخواست گذار ڈاکٹر امجد نے کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اس کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو مستقبل میں بھی اسی مثالیں قائم ہوں گی عدالتی جواب پر حکومت پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔ درخواست گذار توفیق آصف نے کہا کہ اخبارات میں پڑھا کہ حکومت کہتی کہ عدالتی حکم پر عمل کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے اپنا ذاتی م¶قف پیش کےا پنجاب کے ایک سےاسی ایڈووکیٹ جنرل بھی اپنی پارٹی کی نمائندگی کر رہے تھے، انہیں ہٹا دےا گےا، اب اٹارنی جنرل کو چاہئے کہ وہ استعفیٰ دے دیں ےا انہیں تبدیل کر دےا جائے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عدالت ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گذار چودھری اکرام کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ ڈائریکشن کے لئے سادہ ہدایت ہے نگران حکومت وہ کام نہیں کر رہی جو آئین کے مطابق ہو۔ درخواست گذار شیخ احسن نے کہا کہ نگران حکومت نے جب حلف لے لےا تو وہ آئین و قانون کے تحت رےاست کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جس طرح منتخب حکومت ہوتی ہے، یہ اس کی مکمل ڈیوٹی ہے مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ہونا چاہئے۔ میڈےا کی نیوز سے سماعت متاثر ہو رہی ہے اس پر پابندی لگائی جائے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے میڈےا نے نہیں میڈےا آزاد ہے اسے خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے، لوگوں کا حق ہے کہ وہ حقائق جانیں، مقدمہ فیڈریش نے درج کرانا چاہئے وہ ایک کے خلاف ہو کہ زےادہ کے خلاف، حکومت وہی رہتی ہے صرف اسے چلانے والے افراد بدلتے ہیں ہم منصف کے عہدے پر بیٹھے ہیں ہم نے کیس پراسیکیوٹ نہیں کرنا وہ 3 رکنی ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل سپیشل بنچ ہو گا جو ٹرائل کرے گا جیسا کہ سینٹ کی قرارداد میں کہا گےا ہے وہ کورٹ فیڈریشن تشکیل دے گی۔ احمد رضا قصوری نے م¶قف اختیار کیا کہ آئین توڑنے یا معطل کرنے والے کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار صرف وفاق کے پاس ہے، عدالت اس کے لئے کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی، اگر ایسا کیا گیا تو یہ اختیارات سے تجاوز ہو گا۔ وکیل کا کہنا تھاکہ جن ججوں نے مشرف کے پی سی او کا حلف لیا وہ بھی شریک جرم ہوں گے اور ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے، عدالت لاجر بنچ کے لئے چیف جسٹس کو کہے۔ مشرف کے دوسرے وکیل ابرہیم ستی نے کہا سندھ ہائی کورٹ نے صرف کیس سنا مشرف کے خلاف کارروائی کا فیصلہ نہیں دےا حکومت کے اعلیٰ معاملات صدر وزیراعظم، مشرف کیس کو صرف تین، پانچ اور ساتھ رکنی بنچ سن سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت، امریکہ کے کورٹس کی مثالیں دیں۔ عدالت نے تمام ریفرنس کو تحریری طور پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دےا جبکہ مشر ف کے ایک اور وکیل ملک قمر افضل نے کیس کی سماعت کے لئے لارجر بنچ کی استدعا کی۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس کیس کے لئے لارجر بنچ کی تشکیل کی درخواست کی ہے جس میں چیف جسٹس شامل نہ ہوں۔ درخواست گذاروں کے وکلا نے لارجر بنچ کی تشکیل کی درخواست کی مخالفت کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے اس لئے درخواست ان کو بھیجی جا رہی ہے۔ مقدمے کی سماعت 22 اپریل پیر تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔