عمران خواجہ‘ آصف‘ وقاص اکرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت: وجاہت حسین‘ اسلم مڈھیانہ‘ ہمایوں کرد‘ جتک نااہل‘ فیصلہ نہ ہونے والی اپیلیں مسترد تصور ہونگی: الیکشن کمیشن

عمران خواجہ‘ آصف‘ وقاص اکرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت: وجاہت حسین‘ اسلم مڈھیانہ‘ ہمایوں کرد‘ جتک نااہل‘ فیصلہ نہ ہونے والی اپیلیں مسترد تصور ہونگی: الیکشن کمیشن

لاہور+کوئٹہ (وقائع نگار خصوصی + ایجنسیاں + نوائے وقت نیوز) انتخابی ٹربیونلز میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے دائر اپیلوںکی سماعت کا مرحلہ گزشتہ روز مکمل ہوگیا۔ انتخابی ٹربیونلز نے چودھری وجاہت حسین، چودھری زاہد اقبال، ہمایوں عزیز کرد، علی مدد جتک، اسلم مڈھیانہ، احسان شاہ، محبت مری، ظہور کھوسو، عبدالغفور لہڑی کو الیکشن کیلئے نااہل قرار دیدیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف اور سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ ترجمان الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ فیصلہ نہ ہونے والی اپیلیں مسترد تصور ہونگی۔ این اے 55 راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری افتخار کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دئیے گئے اور نااہل قرار دیدیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیلیں خارج کرتے ہوئے دونوں امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ فاضل ٹربیونل نے اس سلسلے میں داخل کئے گئے اعتراضات خارج کر دئیے۔ عمران خان کے کاغذات لاہور کے حلقہ این اے 122 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں کاغذات واپسی کے مرحلے کے آغاز میں مسلم لیگ (ن)کے میاں مرغوب احمد اور حافظ نعمان کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے شفقت محمود و دیگر درجنوں امیداروں نے اپنے مختلف حلقوں میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے ہیں۔ این اے120 مسلم لیگ (ن)کے میاں مرغوب، حافظ نعمان ،ایم کیو ایم کے شاہد بھٹی، پیپلز پارٹی کے بابر لطیف کاردار ،پی ٹی آئی کے نوید کمال بھٹی کے علاوہ آفتاب احمد ورک ایڈووکیٹ، ایاز بوبی، زبیر خان نیازی ۔پی پی159 سے مسلم لیگ ن کے راﺅ شہاب الدین ،سر دار عادل عمر،چودھری محمد منشاءسندھو، سیف الملوک، افضل کھوکھر ۔ پی پی143 سے مسلم لیگ (ن)کے عبدالرشید ،حلقہ این اے 123 سے مسلم لیگ (ن) کے میاں طاہر صدیق، پی پی144 سے اخلاق احمد ،حلقہ این اے118 سے پی ٹی آئی کے محمد خالد ،پی پی141 سے خواجہ سلمان رفیق، پی پی150 سے شعیب خان نیازی، این اے 127 سے پی ٹی آئی کے شفقت محمود ،این اے126 سے سمیر کھوسہ، پی پی 151 سے سیف نیازی ،عنصر علی،ایم کیو ایم کی بسمہ آصف ،مسلم لیگ (ن) کے پی پی152 سے میاں مرغوب احمد ،سمیر کھوسہ اور عاصم شوکت علی ۔این اے125 سے پی ٹی آئی کے شفقت محمود،مسلم لیگ ن کے خواجہ سلمان رفیق اور وجیہہ الدین خان ،پی پی155 سے احسن رشید ،چوہدری سجاد اور خواجہ سلمان رفیق نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے ہیں۔ علاوہ ازیں جھنگ کے حلقہ این اے 89 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار شیخ وقاص اکرم کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے۔ جعلی ڈگری پر ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کئے تھے۔ الیکشن ٹربیونل ملتان بنچ نے شیخ وقاص اکرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ این اے 161 ساہیوال سے تحریک انصاف کے امیدوار رائے حسن نواز کو نااہل قرار دیدیا گیا ہے۔ این اے 144 اوکاڑہ سے آزاد امیدوار عارف چودھری کو انتخاب لڑنے کیلئے اہل قرار دیا ہے۔ کوئٹہ کے الیکشن ٹربیونل نے کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 48 سے بی این پی عوامی کے صوبائی صدر احسان شاہ کو الیکشن کیلئے نا اہل قرار دیدیا ہے۔ احسان شاہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کیخلاف الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ احسان شاہ کو جعلی ڈگری اور اثاثے چھپانے پر نااہل قرار دیا گیا۔ الیکشن ٹربیونل نے سابق سینیٹر اور رکن صوبائی اسمبلی محبت خان مری کو بھی جعلی ڈگری پر نا اہل قرار دیا۔ محبت خان مری پی پی کوہلو سے ق لیگ کے امیدوار تھے۔ سابق ارکان بلوچستان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کے ظہور حسین کھوسو اور عبدالغفور لہڑی بھی جعلی ڈگریوں پر الیکشن کیلئے نا اہل قرار دیدیئے گئے۔ الیکشن ٹربیونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 5 سے سابق وزیر داخلہ بلوچستان علی مدد جتک کو بھی الیکشن کیلئے نا اہل قرار دیدیا ہے۔ الیکشن ٹربیونل میں این اے 276 سے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کیخلاف دائر اپیل میں سابق رکن قومی اسمبلی ہمایوں عزیز کرد بھی نا اہل قرار پائے ہیں۔ الیکشن ٹربیونل نے نیشنل پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر یاسین بلوچ کی اپیل منظور کرلی اور انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیدی۔ زمرد خان اچکزئی،مخدوم مجتبیٰ کو پی کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ الیکشن ٹربیونل نے سابق صوبائی وزیر امین عمرانی کو بھی نا اہل قرار دیدیا ہے۔ لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے پی پی 31 سے اسلم مڈھیانہ کے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر ریٹرنگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اسلم مڈھیانہ کو الیکشن کیلئے نا اہل قرار دیدیا ۔ لاہور ہائی کورٹ نے چیچہ وطنی کے حلقہ پی پی224سے پنجاب اسمبلی کے امیدوار چودھری جاوید رسول ارائیں اور این اے162 اور این اے163سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوارچودھری شفقت رسول گھمن کو الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار دیدیا ہے، چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ ن کے امیدوار حلقہ این اے 162 چودھری زاہد اقبال کو نااہل قرار دے دیا جبکہ عدالت عالیہ لاہور کے ڈبل بنچ نے تحریک انصاف کے امیدوار حلقہ پی پی 224 چودھری وحید اصغر ڈوگر ایڈووکیٹ کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کا اہل قرار دے دیا۔ این اے 55 راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری افتخار کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے۔ الیکشن ٹربیونل نے (ق) لیگ کی سیمل کامران کی اپیل بھی مسترد کردی گئی۔ ٹربیونل نے این اے 162 سے شفقت رسول گھمن کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف دائر اپیل منظور کرلی۔ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی منظوری اور مسترد کئے جانے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے آخری روز الیکشن ٹربیونلز میں درجنوں اپیلوں کی سماعت کی جا چکی ہے۔ الیکشن کمشن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن ٹربیونل میں جن اپیلوں کا فیصلہ نہ ہو سکا وہ مسترد تصور کی جائینگی۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔ الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کو این اے 122 لاہور سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔ الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کے خلاف دائر اپیل خارج کردی۔ علاوہ ازیں الیکشن ٹربیونل نے ق لیگ کے امیدوار چودھری وجاہت کونااہل قرار دیدیا ہے۔ انہوں نے حلقہ این اے 104 گجرات سے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ چودھری وجاہت حسین ق لیگ کے سربراہ شجاعت حسین کے بھائی ہیں۔ دریں اثنا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کیخلاف اپیلوں کی سماعت کیلئے 3 رکنی بنچ تشکیل دیدیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس فاروق شاہ اور جسٹس غلام رسول میمن شامل ہیں۔ بنچ کے روبرو پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر مراد علی شاہ سمیت دیگر نے اپنی آئینی درخواستیں جمع کرادی ہیں۔ علاوہ ازیں الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ آصف کو انتخابات کے لئے اہل قرار دیدیا، نجی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف کے خلاف جماعت اسلامی کے ارشد بگو کے تمام الزامات مسترد کر دئیے گئے۔ ملتان سے سپیشل رپورٹر کے مطابق الیکشن ٹربیونل نے فیصل آباد سے عابد شیر علی کے بھائی عمران شیر علی کے کاغذات کو تینوں حلقوں سے مسترد کردیا ہے۔ لیہ سے تعلق رکھنے والے نیاز گجر کے کاغذات نامزدگی کو بھی مسترد کردیا گیا ہے۔ فیصل آباد سے طلال بدر کے کاغذات کو بھی مسترد کردیا گیا ہے۔ آن لائن کے مطابق الیکشن ٹربیونل نے جعلی ڈگری کیس میں گرفتار سابق ایم پی اے خلیفہ عبدالقیوم کی درخواست پر انکو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 24 ڈیرہ اور پی کے 64 ڈیرہ شہر پر الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔ علاوہ ازیں ترجمان الیکشن کمشن خورشید عالم نے کہا ہے کہ قانون کے تحت اپلیٹ ٹربیونل کو سات روز کے اندر ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر سات روز کے اندر کسی اپیل پرفیصلہ نہ ہو سکے تو ایسی اپیلیں عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت خود بخود خارج ہو جاتی ہیں ایسی صورت میں ریٹرننگ افسروں کا فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اٹھارہ اپریل تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں۔ 19 اپریل کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔