سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم‘ وزیرداخلہ کو تاحیات مراعات‘ سکیورٹی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم‘ وزیرداخلہ کو تاحیات مراعات‘ سکیورٹی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو تاحیات مراعات اور سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو ریکارڈ سمیت آج جمعرات ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ کنٹرولر جنرل پاکستان عاطف عثمان نے بتایا کہ ان کی سکیورٹی پر سالانہ 28 کروڑ 97 لاکھ 55 ہزار روپے اخراجات آئینگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ رحمن ملک عدالت کو بتائیں کہ ان کی زندگی کو کیا خطرات لاحق ہیں اور انہیں کیوں سکیورٹی چاہیے؟ آرٹیکل 9 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے۔ عدالت نے سابق وزیراعظم اور ممبران اسمبلیز کو تاحیات مراعات اور سکیورٹی دینے کا 14-3-13 کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے قرار دیا کہ بادی النظر میں نوٹیفکیشن بغیر کسی قانون کے جاری کیا گیا۔ رحمن ملک کے وکیل کا کہنا تھا اسی دن ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے رحمن ملک نے ان مراعات کو لینے سے انکار کر دےا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بار نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسی بات کی گئی ہے پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق ہے، پرسنل سٹاف کس نے دینا اور تنخواہ کس نے دینا تھی؟ رحمن ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ نادرا نے جاری کرنا تھیں کیونکہ وہ وزارت داخلہ کے انڈر کام کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لائف ٹائم ایف آئی اے پولیس کی سکیورٹی اور پروٹوکول بھی غیر قانونی ہے، آئین میں ایسا کچھ نہیں، یہ ایف آئی اے کے ایکٹ 1973ءکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے سندھ حکومت کے آخری دن منظور بل کے تحت چیف منسٹر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ممبران اسمبلی کو مراعات کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کی تو سندھ کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے بتاےا کہ وہ اس حوالے سے کوئی جواب تےار نہیں کر سکے جبکہ اٹارنی جنرل دوسرے کیس میں مصروف ہیں، عدالت نے ان سے استفسارکےا کہ یہ مرعات کا بوجھ وفاق نے اٹھانا ہے ےا سندھ کی صوبائی حکومت ان اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی کی سکت رکھتی ہے؟ یہ کس قانون کے تحت دی گئیں؟ عدالت نے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی اور وقت کی کمی کے باعث مزید سماعت آج جمعرات 18 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔