بھارت تشدد کا راستہ ترک کرے‘ پائیدار امن کیلئے مقبوضہ کشمیر کا حل لازم ہو گیا: زرداری

بھارت تشدد کا راستہ ترک کرے‘ پائیدار امن کیلئے مقبوضہ کشمیر کا حل لازم ہو گیا: زرداری

مظفر آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر حل کرنا لازم ہو گیا ہے جنوبی ایشیا کے امن کو شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت نے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمےرےوں کی شرکت ضروری ہے۔ مظفر آباد مےں قانون ساز اسمبلیءاور کشمےر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ آئندہ بھی بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاتے رہیں گے۔ کشمیری 60 سال سے اپنے حق خود ارادیت کی جہدوجہد کر رہے ہیں یہ مسئلہ 65 سال سے لٹک رہا ہے۔ افضل گورو کی سزائے موت سے کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری عوام کے مفادات سے ہٹ کر بھارت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور بس سروس سمیت دیگر اقدامات کشمیری عوام کے دکھوں کو کم کرنے کی چھوٹی سی کوشش ہے پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کشمیریوں کی خواہشات کو ہمیشہ مدنظر رکھا ہے۔ پاکستان جنگ کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ کشمیری ایک قوم ہیںاور قوموں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ بھارت تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے کشمیریوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں یہاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کو دہرانے آیا ہوں میں مسئلہ کشمیر کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے عزم کا اظہار کرتا ہوں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی پیروی کرتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہا ہوں۔ کشمیری گزشتہ ساٹھ سال سے اپنی آزادی کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیریوں کی نسلوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں افواج اور آپریشن کشمیریوں کے خلاف استعمال کئے گئے لیکن اس سے کشمیریوں کی آواز کو دبایا جا سکا نہ ہی ایسا مستقبل میں ہو سکتا ہے قید و بند کی صعوبتیں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا راستہ نہیں روک سکتیں بلکہ ان باتوں سے آزادی کی تڑپ میں مزید اضافہ ہوگا اور وقت کے ساتھ ساتھ آزادی کے جذبہ میں مزید اضافہ ہوگا حالیہ احتجاجی تحریک کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ افضل گورو کی پھانسی نے کشمیریوں کے غم و غصہ میں مزید اضافہ کیا اس موقع پر صدر زرداری نے فیض احمد فیض کا یہ شعر سنایا۔ ”جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ بات سلامت رہتی ہے۔ یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں“ صدر زرداری نے کہا کہ کشمیری ایک قوم ہیں اور قوموں کو کبھی شکست نہیں دی جاسکتی شاعری اور فلسفہ کشمیریوں کے بارے میں لکھا جائے گا لوگ کشمیریوں سے طاقت حاصل کرتے ہیں چھوٹی اور بڑی قوموں کے لوگ نے سبق حاصل کیا ہے کہ بے رحم فوج بھی کشمیریوں کو دبا نہیں سکتی ہمیں کشمیریوں پر فخر ہے پوری پاکستانی قوم کو کشمیریوں پر فخر ہے آنے والی نسلیں بھی کشمیریوں پر فخر کریں گی۔ کشمیری پیدا ہوئے اور پھر کشمیر کاز کے لیے لڑنے کے قابل بننا اس نسل کے لیے کافی ہے کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے جو تشدد سے پاک ہے کشمیری اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں اس مقصد کے لیے خواتین و جوان اور بچے سب اپنا حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، صحافی اور دانشوروں سمیت کشمیریوں پر مظالم کا نوٹس لینے پر مجبور ہوئے ہیں کشمیر کی صورتحال سے بہت سے بھارتی بھی پریشان ہیں۔ بھارتی حکومت کو ایسی آوازوں پر کان دھرنا چاہیے اور تشدد کا راستہ ترک کر دینا چاہیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا حل نہ ہونے والا مسئلہ ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا ہے عالمی برادری کشمیریوں کو حقوق دلانے کے لیے پر عزم ہے لیکن بد قسمتی سے عالمی برادری کشمیریوں کو حقوق دلانے میں کامیاب نہیں ہوئی میں کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سلام پیش کرتا ہوں میں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ جمہوری حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں ہم نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرآواز بلند کی ہم نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بین الاقوامی فورموں پر آواز اٹھائی ہے اس میں اقوام متحدہ اور او آئی سی شامل ہیں پاکستانی پارلیمنٹ نے متعدد قراردادیں پاس کی ہیں جن میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ افضل گورو کی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔کشمیری قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان تمام مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ صدر نے کہا کہ بھارت میں بھی کشمیر میں ہونیوالے مظالم کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے۔