اسلام آباد ہائی کورٹ نےسابق صدرپرویزمشرف کی درخواست ضمانت مسترد کردی.سکیورٹی اہلکاروں نے سابق صدر کوگرفتارکرنے کی بجائے فرار کرادیا.

اسلام آباد ہائی کورٹ نےسابق صدرپرویزمشرف کی درخواست ضمانت مسترد کردی.سکیورٹی اہلکاروں نے سابق صدر کوگرفتارکرنے کی بجائے فرار کرادیا.

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیرصدیقی نے پرویزمشرف کی درخواست ضمانت پرسماعت کی. وفاق کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود جہانگیری عدالت میں پیش ہوئے،،،پرویزمشرف کے وکیل قمرافضل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججزکو نظربند کرنے کا حکم پرویزمشرف کا نہیں، بلکہ اس وقت کی وفاقی حکومت کا تھا،،، ججزکونظربند نہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے گھروں کے باہرحفاظتی باڑلگائی گئی تھیں مشرف کے خلاف براہ راست کسی متاثرہ جج نے درخواست دی اورنہ ہی ایف آئی آردرج ہونے کے بعد پرویزمشرف کوشامل تفتیش ہونے کے لیے کوئی نوٹس جاری ہوا،،،جسٹس شوکت عزیرصدیقی نے ریمارکس دیئے کہ عوامی مفاد میں کوئی بھی شخص ایسے واقعے کی ایف آئی آردرج کرا سکتا ہے،،،جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے پرویزمشرف کے وکیل قمرافضل سے مکالمہ میں کہا کہ ججزنظربندی کے وقت میں اورآپ تحریک میں شامل تھے، مگرآج آپ کیوں اس اقدام کودرست قراردے رہے ہیں،،،تھانہ سیکرٹریٹ کے تفتیشی افسرنے بتایا کہ پرویزمشرف کوشامل تفیش ہونےکےلیےبلایا گیا تھا مگران کی طرف سے جواب آیا کہ وہ عدالت میں جائیں گے،،، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ پرویزمشرف کےخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت بھی مقدمہ بنتا ہے،،،کیونکہ ججوں کی نظربندی کا معاملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے،،،جسٹس شوکت عزیرصدیقی نے پرویزمشرف کے وکیل سے استفسارکیا کہ وہ براہ راست ہائی کورٹ آنے کی بجائے سیشن کورٹ کیوں نہیں گے جس پرایڈووکیٹ قمرافضل کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کی سیکورٹی اورہائی پروفائل کیس ہونے کی وجہ سے براہ راست ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے،،عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ براہ راست اس درخواست ضمانت کی سماعت نہیں کرسکتی، جس کے بعد عدالت نے پرویزمشرف کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئےگرفتاری اور مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کرنے کاحکم دیا،،،درخواست مسترد ہی سکیورٹی اہلکار پرویزمشرف کوبچانےکےلیے فوری طورپرکمرہ عدالت سےلے گئےسماعت کے بعد عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ پوٹوہار ریجن کے صدرنصراللہ خان کا کہنا تھا کہ عدالت نے فیصلے میں جانبداری کا مظاہرہ کیا. دوسری جانب راولپنڈی ہائی کورٹ کے بارکے صدرتوفیق آصف کا کہنا تھا کہ مشرف کو ہائی کورٹ سے فرارکرانےمیں نگران حکومت ملوث ہے.   پرویزمشرف کےخلاف دہشت گردی کی دفعات کے بعد اب ججزنظربندی کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کرے گئی۔