سندھ کے بارش سےمتاثرہ علاقوں میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرین کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

سندھ کے بارش سےمتاثرہ علاقوں میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرین کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

دادو اور نوشہروفیروز سمیت سندھ کے متعدد علاقوں میں سیلاب اور بارش کے پانی سے مختلف امراض پھیل رہے ہیں۔ دادو کی تحصیل جوہی کے علاقے کاچھو میں آلودہ پانی کے باعث پیٹ کے امراض پھوٹ پڑے ہیں۔چار روز گزرنے کے باوجود کاچھو کے متعدد دیہاتوں کا زمینی رابطہ بحال نہیں ہو سکا ہےاور اب بھی چارسے پانچ فٹ پانی کھڑا ہے۔ نوشہروفیروز میں بارشوں کے باعث وبائی امراض میں اضافہ ہواہے۔ ادھر بھریا روڈ ،جعفر آباد کالونی،تھارو شاہ سمیت مختلف علاقوں میں بھی بارش کا پانی کھڑا ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حیدرآباد کےعلاقوں قاسم آباد فیز ون اور ٹوسمیت مختلف علاقوں میں موجود بارش کے پانی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ جھڈو سےاپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے والے ہزاروں متاثرین بے یارو مددگارمختلف علاقوں میں کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ بدین کے علاقے خیر پور گمبوہ کے قریب کھوسکی ڈسٹری نہر میں آر ڈی گیارہ کے مقام پرپچیس فٹ چوڑا شگاف جبکہ گلاب لغاری خچر ڈسٹری نہر میں بھی پندرہ اور بیس فٹ چوڑے دو شگاف پڑ گئے ہیں جن کے باعث سات دیہات اور سیکڑوں ایکڑ اراضی زیرآب آگئی ہے۔ خیر پورکی تحصیل نارا اور فیض گنج میں سیلابی ریلوں اور بارش سے سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے،چارلاکھ پچھہتر ہزار سیلاب متاثرین کا کیمپوں میں اندراج کیا جا چکا ہے اور انھیں خوراک سمیت دیگر ضروری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔