سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض اور خوراک کی قلت کے باعث مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے

سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض اور خوراک کی قلت کے باعث مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے

سندھ کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد بھوک اور بیماری سے بے حال ہیں۔بیشتر علاقوں کے زمینی رابطے منقطع ہیں اور متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔بدین گزشتہ ایک ماہ سے بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں ہے۔سیم نالوں اور نہروں میں پے در پے پڑنے والے شگافوں سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔طویل عرصے تک پانی جمع رہنے اور گندگی کے باعث متاثرہ علاقوں میں ملیریا، ہیضہ اور دیگر وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔میر پور خاص کے علاقے نوکوٹ میں بھی بارشوں سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں جو اب مختلف علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت خیموں میں زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ٹھٹھہ کی تحصیلوں جاتی اور میرپوربٹھورو کے کئی دیہات کا دس روز سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔متاثرین کو اب تک کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی اوران علاقوں میں غذا کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔