بگلیہار ڈیم کی تعمیر سے چیئرمین ارسا کی لاعلمی پر شدید دھچکا لگا تھا: فضل الرحمن

اسلام آباد (علی شیر / وقت نیوز) امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ‘ قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب سے وہ چیئرمین کشمیر کمیٹی بنے ہیں دو مواقع پر انہیں دھچکہ لگا‘ پہلا یہ تھا کہ ارسا نے اعتراف کیا کہ طویل عرصہ تک اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بگلیہار ڈیم تعمیر ہو رہا ہے اور دوسرا یہ تھا کہ پی پی پی کی موجودہ حکومت نے بغیر سوچے سمجھے پرویز مشرف کے ساتھ کشمیر پر ہوئی بات چیت سے لاتعلقی اختیار کر لی حالانکہ وزارت خارجہ اور آئی ایس آئی اس وقت بھی مذاکرات میں شریک تھے اور اب بھی ہیں۔ یہ انکشافات مولانا فضل الرحمن نے وقت نیوز اسلام آباد آفس کے دورے کے دوران وقت نیوز سے خصوصی گفتگو میں کئے۔ دورے کے موقع پر مولانا فضل الرحمن نے نوائے وقت گروپ کی نظریاتی پالیسی کی تعریف کرتے ہوے مجید نظامی کی ملی خدمات کو سراہا اور کہا کہ نوائے وقت گروپ نے ہمیشہ دو قومی نظریے کے لئے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا‘ امید ہے مستقبل میں بھی ایسا کرتا رہے گا۔ وقت نیوز واحد چینل ہے جو غیر ملکی اثر سے آزاد اور پاکستانیت کا عکاس ہے۔ دریں اثنا مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک بار ارسا کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ اجلاس میں بگلیہار ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ آیا تو انہوں نے چیئرمین ارسا سے پوچھا کہ اگر عالمی بنک پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر اور دیگر دریاں کے معاملے میں ضامن ہے تو اس سے کئی سال پہلے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس پر چیئرمین ارسا نے کہا کہ بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع ہونے کا انہیں طویل عرصے تک پتہ ہی نہیں چلا‘ جس پر اجلاس ورطہ حیرت میں ڈوب گیا۔ دوسرا موقع حیرانگی کا یہ آیا کہ جب مجھے بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی مسئلہ کشمیر پر پرویز مشرف کے چار نکات سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے کیونکہ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی ان کی ذاتی پالیسی تھی جس پر میں نے متعلقہ لوگوں سے کہا کہ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی اور مذاکرات میں آئی ایس آئی اور وزارت خارجہ شامل تھے‘ بھارت کی طرف سے بھی تجاویز آئی ہوں گی‘ اس سارے عمل کو دیکھ لیا جائے اگر کچھ درست ہو تو آئندہ کی کشمیر پالیسی میں شامل کر لیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ حیران رہ گئے جب کہا گیا کہ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی پر غور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور پاکستان کے ماضی اور حال کے کردار کے سوال پر مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حقاق یہ ہیں پاکستان کی کشمیر پالیسی اس حد تک اتار چڑھا کا شکار رہی ہے کہ جس سے کشمیریوں میں بھی مایوسی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاءالحق نے افغانستان میں مجاہد گروپوں کی صلح کروائی اور مجاہدین کو کشمیر بھیجنا شروع کیا تو بھارت عالمی طاقتوں کے سامنے چیخ اٹھا جس کے بعد عالمی طاقتوں نے جنرل ضیاءالحق کو راستہ سے ہٹا دیا حالاتانکہ ضیاءالحق کا مقصد جہاد افغانستان کو جہاد کشمیر کی طرف منتقل کرنا محض اقتدار کو طول دینے کے لئے تھا۔ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ابھی تک طیب آغا جو کہ سابق گورنر قندھار رہ چکے ہیں کے ذریعے جو مذاکرات ہوئے ہیں وہ محض قیدیوں کے تبادلے کی حد تک تھے۔ ایبٹ آباد کمشن کے بارے میں سوال پر فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حمود الرحمن کمشن کے نتائج تو سامنے ہیں اللہ کرے اس میں سے کچھ نکل آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب عید گزر چکی ہے جے یو پی ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کو اکٹھا بٹھانے کا وعدہ پورا کرے۔