چیئرمین نیب کو فوری کام سے روکا جائے‘ چودھری نثار نے تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز+ ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے روز اول سے ان کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں مﺅقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین نیب کو فوری طور پر کام سے روکا جائے۔ اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی وساطت سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر میں جمع کی گئی درخواست میں وفاقی وزارت قانون، سیکرٹری قانون ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیدار حسین شاہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر کی جانیوالی درخواست میں چودھری نثار علی خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے اس لئے یہ تقرر آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی اس لئے ان کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی پٹیشن پر فیصلہ آنے تک دیدار حسین شاہ کو بطور چیئرمین نیب کام سے روکا جائے۔ صحافیوں سے گفتگو میں چوہدری نثار کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کےلئے مشاورت کے عمل کا مطلب ایسی مشاورت ہوتا ہے جو بامقصد اور نتیجہ خیز ہو اور اس میں شریک مشورہ شخص کی رائے کو وزن دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چودھری نثار علی خان کو پہلے جسٹس (ر) مختار جونیجو اور پھر جسٹس(ر) دیدار حسین شاہ کے نام بھجوائے تھے جن پر قائد حزب اختلاف نے نہ صرف اعتراض کیا بلکہ حکومت کو مدلل خط کے ذریعے تحفظات سے آگاہ کیا اور حکومت نے تحفظات اور خدشات دور کرنے اور خط کا جواب دینے کے بجائے ازخود تقرری کر ڈالی اور یہ تقرری کسی بھی طور پر معیار پر پورا نہیں اترتی۔ بی بی سی کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ دیدار حسین پیپلز پارٹی میں سرگرمی سے سیاست کرتے رہے ہیں اور وہ دو مرتبہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں لہٰذا ان کی غیرجانبداری مشکوک ہے۔ تقرری غیرقانونی، غیرآئینی اور قومی احتساب بیورو کے 1999ءکے آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔ دریں اثناءنجی ٹی وی سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہاکہ صدر نے اپنی من پسند شخصیت کو چیئرمین نیب لگاکر احتساب اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔