مسلم لیگ ن کی وکلا اور سول سوسائٹی سے مشاورت‘ لانگ مارچ ہو سکتا : پارٹی ذرائع

لاہور (رپورٹ سلمان غنی) مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ کیخلاف حکومتی سازشوں اور بعض عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی ممکنہ کوششوں سے نمٹنے کیلئے وکلاءقیادت اور سول سوسائٹی کے ذمہ داران سے مشاورتی عمل شروع کردیا ہے جس کے تحت اگر حکومت نے اپنا طرزعمل درست نہ کیا اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے گریز اور محاذ آرائی کی کیفیت جاری رکھی تو عدلیہ کے تحفظ اور این آر او پر عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے عوامی طاقت کو بروئے کار لایا جائیگا اور اس کیلئے لانگ مارچ کا آپشن استعمال ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دارذرائع نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جس راستے پر گامزن ہے وہ تباہی کا راستہ ہے اور اس سے جمہوری عمل کو بھی خطرات درپیش ہوگئے ہیں لہٰذا ہم دیگر سیاسی قوتوں، وکلاءاور سول سوسائٹی سے ملکر ایسا لائحہ عمل طے کرینگے کہ حکومت کو نہ صرف اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرنا پڑیگی بلکہ این آر او کے فیصلہ پر عملدرآمد یقینی بنانا پڑیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے طرزعمل، اقدامات اور اعلانات کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ آزاد عدلیہ کے عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے تیار نہیں اور یہ امر اور یہ عمل بذات خود پاکستان میں جاری جمہوری سسٹم کیلئے خطرہ کا باعث ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم جمہوریت کی بقاءاور استحکام کیلئے عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کو کمزور نہیں ہونے دینگے اور نہ ہی حکومت کو بلڈوز کرنے کی اجازت دینگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ذمہ داران کا لندن میں پارٹی کے قائد میاں محمد نوازشریف سے مسلسل رابطہ ہے اور نوازشریف کی واضح ہدایات ہیں کہ ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بننا جس کا مقصد ریاستی اداروں کی کمزوری ہو اور خصوصاً ملک میں کرپشن، کمیشن اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے این آر او کے فیصلہ پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ذرائع نے اس امر کی تصدیق بھی کی کہ دیگر سیاسی جماعتوں، وکلاءقیادت اور سول سوسائٹی سے رابطوں کی ہدایات بھی خود نوازشریف نے دی ہیں اور کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کو حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے عوامی طاقت ہے۔ اسکی حفاظت بھی کرینگے اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے ایوانوں کے اندر اور باہر سے دباﺅ بھی ڈالینگے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ججز کی بحالی کیلئے جاری ایگزیکٹو آرڈر کی مبینہ واپسی سمیت دیگر حکومتی ہتھنڈوں پر پارٹی کے ذمہ داران کا غوروخوض جاری ہے اور جلد ہی پارٹی کی سطح پر اس حوالہ سے واضح لائحہ عمل جاری کردیا جائیگا۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے آپشن پر مشاورتی عمل نتیجہ خیز ہوگا اور اگر حکومت نے اپنا طرزعمل تبدیل نہ کیا تو پھر نوازشریف کی وطن واپسی پر لانگ مارچ کا باقاعدہ اعلان کردیا جائیگا۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے حوالہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آج اتوار کے روز اپنے قوم سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے رہنماءکے طور پر خطاب کرنے کی بجائے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر قوم کو اعتماد میں لیں اور عدالتی فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عملدرآمد کا اعلان کریں تاکہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کا اثر زائل ہو اور عوام کے اندر اس حوالے سے پائی جانیوالی تشویش بھی ختم ہو۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے خطاب سے قبل مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے ان سے باضابطہ رابطہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ دوسری جانب ایک وفاقی وزیر نے اپنا نام مخفی رکھنے کی اپیل پر نوائے وقت کو بتایا کہ عدلیہ کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال پر خود حکومت کے اندر دو آراءموجود ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں جن کا براہ راست ایوان صدر سے تعلق ہے، یہ کہنا ہے کہ اس موقع پر کسی قسم کی لچک ہمارا سیاسی کیس بھی ختم کردیگی لہٰذا ہمیں ڈٹ جانا چاہئے جبکہ وزیراعظم کے قریبی حلقے اور وزراءکی اکثریت کی رائے میں ہمیں عدلیہ سے محاذ آرائی کی بجائے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور اس مقصد کیلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ مذکورہ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا قوم سے خطاب عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے ہے لہٰذا یہ امر خارج از امکان ہے کہ وزیراعظم کوئی ایسا اعلان کرنے جا رہے ہیں جس سے ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش میں اضافہ ہو۔ مذکورہ وزیر کے مطابق اسلام آباد میں ہونیوالی بعض سیاسی پیشرفت کے باعث مذکورہ خطاب موخر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وزیراعظم اپنی تقریر کے ذریعے ملک میں استحکام اور عوام میں اطمینان دیکھنا چاہتے ہیں۔