کراچی سمیت بڑے شہروں میں فوج تعینات‘ لاہور میں بھی زبردست چیکنگ‘ ائرپورٹس پر پورٹر سسٹم معطل

کراچی سمیت بڑے شہروں میں فوج تعینات‘ لاہور میں بھی زبردست چیکنگ‘ ائرپورٹس پر پورٹر سسٹم معطل

لاہور + کراچی + اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں فوج تعینات کرتے ہوئے تمام ایئرپورٹس پر پورٹر سروس بھی معطل کر دی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں حساس مقامات پر فوج تعینات کر دی گئی ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔ یہ فیصلہ سول انتظامیہ کی درخواست پر کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف ملک کے تمام ایئرپورٹس پر پورٹر سروس بھی معطل کر دی گئی ہے، اب مسافر اپنا سامان خود باہر لائیں گے۔ جبکہ شمالی وزیر ستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار نے کہا ہے کہ تمام اہم مقامات اور تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور تمام اہم شاہراہوں پر پٹرولنگ کے لیے گاڑیاں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ کسی بھی مشکوک شخص و چیز کے موجود ہونے کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ فوجی آپریشن کے بعد کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی‘ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سمیت تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی، ہسپتالوں کے پارکنگ ایریاز میں گاڑیاں کھڑی کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں کو 24 گھنٹے ہسپتال میں حاضر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادھر باجوڑ ایجنسی میں تمام سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیئے گئے ، ذرائع کے مطابق فاٹا سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں خصوصی حکم جار ی کیا ہے۔ بند کئے جانیوالوں سکولوں میں، کالجز، ہائی ، مڈل اور پرائمری اور تمام چھوٹے سکول شامل ہیں ۔جبکہ انتظامیہ نے ایجنسی بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہیںاور داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہیں۔ چمن کے ساتھ پاک افغان سرحد کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی۔ علاوہ ازیں اہم شہروں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حساس تنصیبات پر سول انتظامیہ نے سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لئے فوجی دستوں کو چوکس کر دیا گیا ہے جہاں سول انتظامیہ کسی ہنگامی صورتحال میں ان دستوں کو مدد کیلئے فوری طور پر طلب کر سکے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کا فرار روکنے کے لئے پاک افغان سرحد پر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ افغان نیشنل آرمی اور افغان بارڈر پولیس کو اپنی جانب سرحد سیل کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کو سرحد پار فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ افغان نیشنل آرمی سے تحریک طالبان کے دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور کنڑ، نورستان اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں ان کے ٹھکانوں کا خاتمہ کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے شمالی وزیرستان کے اردگرد مقامی فورسز کے علاوہ فوج کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، ذرائع کے مطابق فوج ریزرو فورسز کے طور پر کام کرے گی۔ حساس مقامات پر سکیورٹی کے 3 حصار بنائے جائینگے، پہلا حصار پولیس کے پاس ہو گا، دوسرا حصار ایف سی اور رینجرز جبکہ تیسرا حصار فوج کے پاس ہو گا۔ ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں و حساس تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لئے فوج کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں، کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ فوج کو طلب کر سکے گی، ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ملک بھر میں حساس تنصیبات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ فوج کے دستوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوج کو طلب کر سکے گی۔ علاوہ ازیں فوجی آپریشن کے رد عمل میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر کی سکیورٹی کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا جبکہ کئی شہروں میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے باعث اہم عمارتوں، حساس علاقوں، اہم سرکاری تنصیبات سمیت ائر پورٹس اور تمام بڑے شہروں کی سکیورٹی میں اضافہ کرنے کی ہدایت کردی ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورک کو پوری طرح چوکس رہنے کا کہا گیا ہے، تمام سینئر پولیس افسروں کو اپنے اپنے علاقوں میں سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ریپڈ رسپانس فورس کی معاونت پاک فوج کرے گی، ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی کے لئے فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرے گی۔ مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے لئے ملک کے کئی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں، راولپنڈی میں گذشتہ دو روز سے جاری سرچ آپریشن کے دوران کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جبکہ وزارت داخلہ نے غیر ملکیوں کو نقل و حرکت میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔ ادھر پنجاب حکومت نے صوبے میں دہشت گردی سمیت کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے کالعدم تنظیموں کیخلاف بھرپور آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اور تمام اضلاع کے ڈی پی اوز کو کالعدم تنظیموں جماعتوں کی مانٹیرنگ مزید سخت کر نے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے پنجاب میں بھی طالبان کی حمایتی کالعدم تنظیمیں کارروائیاں کر سکتیں ہیں جس کے بعد پنجاب حکومت نے دہشت گردوں کیخلاف بھرپور آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے تمام تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کے لئے بند کردیئے گئے جبکہ خیبر پی کے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ شدت پسندوں کو فرار سے روکنے کیلئے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت خیبر پی کے نے صوبے کے تمام ہیلتھ سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔ ائر پورٹ، کینٹ سے ملحقہ علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔ ادھر شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشت گردی کے شدید خطرہ کے پیش نظر کوئٹہ ائر پورٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور تمام فلائٹیں منسوخ کر دی گئیں ہیں اور پاک افغان بارڈر چمن میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد شدت پسندوں اور نقلِ مکانی کرنے والے افراد کی سندھ میں ممکنہ منتقلی کو روکنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔  وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے داخلہ امور شرف الدین میمن نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ اس آپریشن کے بعد سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے صوبہ میں ریڈ الرٹ جاری کیا جاچکا ہے، کراچی سمیت پورے سندھ میں تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ ادھر پشاور کی ضلعی انتظامیہ کے گاڑیوں کے کالے شیشوں کے استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور ظہیر الاسلام کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت پشاور میں کالے شیشوں کے استعمال پر پابندی ہو گی۔ غیر رجسٹرڈ ا ور اپلائیڈ فار رجسٹریشن والی گاڑیوں کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں، محکمہ صحت اور ریسکیو 1122 کو بھی تمام اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔

(فوج تعینات)