شمالی وزیرستان : بمباری سے مزید 27 شدت پسند جاں بحق‘ جھڑپ میں سات حملہ آور ہلاک دو اہلکار شہید ہو گئے : آئی ایس پی آر

شمالی وزیرستان : بمباری سے مزید 27 شدت پسند جاں بحق‘ جھڑپ میں سات حملہ آور ہلاک دو اہلکار شہید ہو گئے : آئی ایس پی آر

میرانشاہ/ میر علی/ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ جاری ہے پاک فوج نے پیشقدمی کرتے ہوئے میر علی، میرانشاہ سمیت شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں کا محاصرہ کر لیا جبکہ شوال میں جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے انہیں تباہ کر دیا جس میں 27 شدت پسند مارے گئے جبکہ بمباری سے شدت پسندوں کا بڑا کمیونٹی سنٹر اور کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے جبکہ آپریشن کے دوران فوج کے حصار سے بھاگنے کی کوشش کے دوران 7 شدت پسند مارے گئے جبکہ 2 جوان شہید ہو گئے۔ آپریشن میں 3 جوان زخمی ہوئے، شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں کی نقل و حمل روکنے کیلئے باقی ایجنسیوں سے سرحد کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے شمالی وزیرستان کے اردگرد مقامی فورسز کے علاوہ فوج کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، آپریشن شروع ہونے کے بعد سے 2 روز میں شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 184 ہوگئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں شہری آبادی والے علاقوں میں تاحال آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد چمن کے ساتھ پاک افغان سرحد کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی جبکہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی جاری ہے اور تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد افغانستان نقل مکانی کرگئے ہیں۔ بنوں میں آئی ڈی کیمپ اور رجسٹریشن پوائنٹس قائم کردئیے گئے ہیں۔ پیر کو آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کیخلاف جاری ’’ضربِ عضب‘‘ آپریشن کے دوران جیٹ طیاروں کی بمباری سے ہلاک ہونیوالے شدت پسندوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی، ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں ازبک شامل تھے۔ بمباری میں شوال میں دہشت گردوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ علاقے میں شہری آبادیوں میں ابھی تک آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ دیگان اور بویا میں فضائی کارروائی میں ہلاک شدت پسندوں کی تعداد 140 ہوگئی۔ کارروائیوں میں عام شہریوں کی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوج نے میران شاہ اور میر علی سمیت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کا گھیراؤ کرلیا۔ گزشتہ رات میر علی کے نواحی علاقے سے 7 شدت پسند فرار ہوتے ہوئے ہلاک کردیئے گئے جبکہ میران شاہ میں 3 شدت پسند بارودی مواد نصب کرتے ہوئے سپیشل سروسز گروپ کی کارروائی میں مارے گئے۔ گزشتہ رات میر علی کے قریب دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 3 فوجی زخمی بھی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے شہری آبادی والے علاقوں میں کوئی آپریشن شروع نہیں کیا گیا اور شہریوں کا محفوظ انخلا یقینی بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزرستان کے آئی ڈی پیز کے لیے بنوں میں کیمپ قائم کئے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے شمالی وزیرستان کی ناکہ بندی کرلی گئی ہے اور پاک افغان سرحد پر بھی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان فوج اور افغان بارڈر پولیس سے بھی سکیورٹی بڑھانے اور کنڑ، نورستان اور دیگر افغان علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کا محاصرہ کر لیا گیا جبکہ ایجنسی کے اردگرد مقامی سکیورٹی کے علاوہ پاک فوج کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہیگا۔ لوگوں کی علاقے سے منظم اور باوقار نقل مکانی کیلئے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ آئی ڈی پیز کو ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا کام مقامی انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کر رہی ہے۔ پاک فوج نے جنگ چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والوں کیلئے سرنڈر پوائنٹس بھی قائم کر دیئے ہیں جبکہ علاقے کی مسلسل فضائی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ادھر باجوڑ ایجنسی کے تمام تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردئیے گئے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد خیبر پی کے کے بیشتر علاقے حالت جنگ میں آگئے ہیں۔ شدت پسندوں کو فرار سے روکنے کیلئے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں شمالی وزیرستان میں آپریشن میں پاک فضائیہ، آرٹلری اور ٹینک استعمال کئے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی میں ہزاروں اہلکار حصہ لیں گے، تاہم حکام کے مطابق آپریشن میں 20 سے 25 ہزار اہلکار حصہ لیں گے۔ بی بی سی کے مطابق جمعہ کی شام سے علاقے میں کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ تقریباً 80 ہزار فوجی جوان شمالی وزیرستان میں تعینات کئے گئے ہیں مگر وہ براہ راست آپریشن میں حصہ نہیں لیں گے۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران آرمی حصار سے بھاگنے والے 7 شدت پسند مارے گئے۔ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران 2 جون شہید ہوئے۔ شدت پسندوں نے 7 بجکر 45 منٹ پر آرمی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ میرانشاہ کے قریب سپیشل سروسز گروپ کی کارروائی میں  بارودی سرنگ نصب کرتے ہوئے تین شدت پسند مارے گئے
شمالی وزیرستان/ آپریشن