اعتماد میں نہیں لیا گیا‘ نزلہ ہم پر گرے گا : دعا ہے آپریشن کامیاب ہو‘ فوج کیساتھ ہیں : عمران

اعتماد میں نہیں لیا گیا‘ نزلہ ہم پر گرے گا : دعا ہے آپریشن کامیاب ہو‘ فوج کیساتھ ہیں : عمران

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہمیں بتائے بغیر آپریشن شروع کرکے اب ہم سے حمایت مانگ رہے ہیں۔ اگر ہمیں پہلے اعتماد میں لیا جاتا تھا تو بہتر تجاویز دیتے،  آدھے سے زیادہ خودکش حملے خیبر پی کے میں ہورہے ہیں‘ آپریشن کا نزلہ ہم پر گرے گا‘ مجھے اور وزیراعلی کو ٹی وی چینلز سے آپریشن کے شروع ہونے کا پتا چلا‘ ہمیں اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا‘ ہم دشمن نہیں‘ مرنا جینا پاکستان کیلئے ہے۔ وزیراعظم سیاسی قیادت کو آپریشن  پر اعتماد میں لیں، یہ ملکی تاریخ کا اہم  ترین مرحلہ ہے، ساری قوم امن چاہتی ہے، امن کے دو راستے ہیں ایک سیاسی اور دوسرا ملٹری، ہم الیکشن میںقوم کے پاس گئے‘ عوام سے  امن کیلئے ووٹ لئے۔ ملٹری آپریشن سے مسائل  ہمیشہ حل ہونے کی بجائے بگڑے ہیں، اسی  لئے ہم مذاکرات کی جانب گئے، یہ امن لانے کی  ہی ایک کوشش تھی، وزیراعظم ملنے آئے تو میں نے کہا کہ ہم آپ کو مکمل حمایت دیں گے۔ جس  ملک میں دہشت گردی ہورہی وہاں سرمایہ کاری کیسے آئیگی ، مذاکرتی عمل شروع کیا گیا تو اسے سبوتاژ کردیا گیا۔ ہمیں بتا دیتے ہم کوئی دشمن تو نہیں ہیں۔ فوج کیساتھ لڑ رہے ہیں، فوج مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے  اعلان کیا کہ آپریشن شروع ہوگیا ہے لیکن آئی ڈی پیز کیلئے تیاری نہیں کی گئی، 7 لاکھ پاکستانی وہاں بستے ہیں۔ ہمیں بتادیا جاتا کہ ان کیلئے کیا بندوبست  کرنا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ اس ملک میں امن لائے اور اس عذاب سے بچائے، آپریشن کامیاب ہو۔ ہم سے رائے نہ لینے پر  میں احتجاج کرتا ہوں۔ ہمارا اب بھی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم سب کو بٹھا کر اعتماد میں لیں۔ یہ فوج ہماری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ فوج مضبوط ہو۔ جنرل کیانی نے اپنی بریفنگ میں پارلیمانی سربراہان سے کہا تھا کہ فوج نے اپنا کام کر دکھایا اب سیاستدان کدھر ہیں۔ وزیر اعظم کو ایوان سے نہیں جانا چاہیے تھا وزیر اعظم ایک سال سینٹ نہیں گئے تھوڑی دیر اور نہ جاتے تو قیامت نہیں آجاتی پوری قوم امن چاہتی ہے فوجی حل کے ماضی میں اچھے نتائج نہیں نکلے مذاکرات اتنا بڑا ہی ایشو تھا تو وزیراعظم کو خود لیڈ کرنا چاہئے تھا قرآن کہتا ہے کہ مشاورت کرو، مذاکرات کے دوران خیبر پی کے سمیت ملک بھر میں خود کش حملے پہلے سے آدھے ہو گئے۔ کیا یہ جمہوریت میں ٹھیک ہے کہ آئی ایس پی آر آپریشن شروع ہونے کا اعلان کرے۔ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قبل ازیں کور کمیٹی کے اجلاس میں تحریک انصاف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن فوج کی بھرپور حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ کور کمیٹی نے کہا ہے کہ عام شہریوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں، مذاکرات کے حامی طالبان کو موقع دیا جائے، وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک آپریشن سے متعلق بھرپور مدد کریں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ پارٹی کی ہدایت ہے کہ متاثرین کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے جو مذاکرات کرنا چاہتا ہے اسے تنگ نہ کیا جائے جو بات چیت نہیں کرنا چاہتا اس کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے۔
عمران