جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا: شریف خاندان، اسحاق ڈار نے رپورٹ چیلنج کردی، جلد 10 کو خفیہ رکھنا بدنیتی ہے،وزیراعظم

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا: شریف خاندان، اسحاق ڈار نے رپورٹ چیلنج کردی،  جلد 10 کو خفیہ رکھنا بدنیتی ہے،وزیراعظم

 شریف خاندان اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔وزیراعظم نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کی جلد نمبر10 پبلک کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی کے نمائندے پر اعتراض کیا۔ برطانوی قانونی فرم کی معاونت لینے پر اعتراض کیا گیا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکے کزن کی فرم سے خدمات لینے پر اعتراض کیا گیا۔ جے آئی ٹی کے تفتیشی عمل‘ دائرہ کار اور جے آئی ٹی کے ارکان پر اعتراض کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے اعتراضات میں کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جلد 10 کو خفیہ رکھنا بدنیتی ہے۔ یہ وزیراعظم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کا نامزد آفیسر ادارے کا ملازم ہی نہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیراعظم کی ذات اور نوکری کے حوالے سے حقائق تصوراتی ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ بے بنیاد‘ شکوک و شبہات اور مفروضوں پر مبنی ہے۔تمام تفتیشی عمل متعصب‘ غیر منصفانہ اور جانبدارانہ ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر کام کیا۔ غیر شفاف تحقیقات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ شریف خاندان کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عظمیٰ میں اعتراضات پر مشتمل درخواست جمع کرائی۔درخواست میں شریف خاندان کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ جے آئی ٹی ارکان کی نامزدگی پر بھی اعتراضات ہیں اور اس کی رپورٹ جانبدارانہ ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا رویہ غیر منصفانہ تھا اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ,جے آئی ٹی سے 13سوالوں کے جوابات مانگے گئے تھے درخواست میں کہاگیا کہ جے آئی ٹی نے قانونی طور پر کام نہیں ¾ کسی کے خلاف دستاویز خود سے حاصل کیں تو پوچھنا ضروری ہوتا ہے مگرنہیں پوچھا گیا، جے آئی ٹی نے ہر معاملے پر حتمی رائے قائم کی ,کسی تفتیش طلب شخص کو قصور وار قراردینے کا اختیار جے آئی ٹی کے پاس نہیں۔شریف خاندان نے اعتراضی درخواست میں سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا کی۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اپنی درخواست سپریم کورٹ جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا کی ہے اسحاق ڈار نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات حقائق کے منافی ، بدنیتی پر مبنی ہیں۔ میری آمدنی اور اثاثوں کی تفصیل ثبوتوں کے ساتھ 1983ءسے 2016ءتک موجود ہے جے آئی ٹی رپورٹ میں 2003ءسے 2008ءکی تفصیلات بھی ہیں جب میں بیرون ملک تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ غلط، بدنیتی پر مبنی، بے بنیاد ہے جس میں حقائق گھڑے گئے۔