کرپشن کیوجہ سے پاکستان مویشیوں کا باڑہ بن گیا، پٹواری سے لے کر بڑے عہدے تک بدعنوانی نظر آئیگی: سپریم کورٹ

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
 کرپشن کیوجہ سے پاکستان مویشیوں کا باڑہ بن گیا،  پٹواری سے لے کر بڑے عہدے تک  بدعنوانی نظر آئیگی:  سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے کرپشن کے حوالے سے ایک مقدمہ میں آبزرویشن دی ہے کہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ہم نے ماتحت عدالتوں کو حکم دیا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں ملوث ملزموں کو زیادہ سے زیادہ سزائیں دی جائیں کیونکہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان مویشیوں کا باڑہ بنا ہوا ہے۔ کانسٹیبل اور پٹواری سے لے کر بڑے عہدوں تک جائیں تو کرپشن ہی کرپشن نظر آئے گی۔ اس ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے اپنے معاشرے کو تبدیل کرنا ہو گا۔ معاشرے کی تبدیلی کے لئے ججز، وکلائ، زمینداروں، فوج، ریڑھی بان، رکشے والے اور گدھا گاڑی چلانے والوں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے راولپنڈی کے بسال سٹیشن پر تعینات ایک کلرک احتشام الحق کی طرف سے کی گئی ایک لاکھ 94 ہزار روپے کی کرپشن کے حوالے سے مقدمے میں دائر اپیل کی سماعت کی۔ اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 4 سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ملزم کے وکیل ظہیر الدین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ملزم 2 سال کی سزا بھگت چکا ہے اس کے تین بچے ہیں۔ عدالت ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے رہا کرنے کا حکم دے جس پر جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ بعض اوقات چیونٹی اتنی بڑی چیز اٹھاتی ہے کہ وہ چیز چلتی نظر آتی ہے نیچے چیونٹی نظر نہیں آ رہی ہوتی۔ ہم نے گذشتہ روز ایک فیصلہ دیا ہے جس میں قرار دیا ہے کہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس فیصلے کی نقول تمام متعلقہ اداروں کو بھجوا دی گئی ہیں جس میں ججز کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں زیادہ سے زیادہ سزائیں دی جائیں۔انہوں نے کہا ماضی میں ایسے بھی واقعات ہیں کہ افسر جس پر صرف کرپشن کا الزام لگا تھا تو اس کی بیٹیوں اور بیٹوں کو کوئی رشتہ دینے کو تیار نہیں ہوتا تھا لیکن اب گاڑیاں اور بنگلے دیکھے جاتے ہیں کردار نہیں دیکھا جاتا۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا جب ملک غیرمسلموں کے ہاتھ میں ہوتا تھا اس وقت محلوں میں ایک بابو تعینات ہوتا تھا جو لوگوں کی امانتیں بحفاطت ان تک پہنچاتا تھا اور اس ہندو معاشرے میں بھی بابو مسلمان کو تعینات کیا جاتا تھا۔ اس ملک نے ہمیں اتنا وقار دیا لیکن ہم نے اس کے بدلے میں اسے کیا دیا ہے۔ معاشرے میں گمراہ لوگ ہیں تو ان کو سمجھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے میانہ روی کا حکم دیا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی صورتحال ہے کہ اگر محلے میں رہنے والا کوئی بڑا افسر گھر میں رنگین ٹی وی لے آتا ہے تو کلرک کی بیوی بھی وہی تقاضا کرتی ہے۔ کلرک بیوی کو سمجھانے کے بجائے کرپشن پر جت جاتا ہے۔ جب تک ہم یہ نہ سوچیں کہ ہم نے اپنے ملک کو کچھ دینا ہے اس وقت تک بہتری نہیں آ سکتی۔ آئین ہمیں حقوق دیتا ہے تو ریاست کے کچھ تقاضے بھی ہیں جو ہمیں پورے کرنے چاہئیں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی پاسداری کرے۔ چین، ملائیشیا سمیت متعدد ممالک نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی اور اس وقت وہ ترقی میں کہاں جا رہے ہیں اور ہم کہاں جا رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ملک میں پروبیشن آرڈیننس بھی موجود ہے لیکن اس کا کہیں استعمال نظر نہیں آتا۔ جسٹس دوست نے کہا کرپشن کرنے والے ایسے ملزمان اس دنیا میں بھی خوار ہوتے ہیں۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ جس رفتار سے کرپشن بڑھ رہی ہے اس کو روکنے کے لئے ہمیں کسی ملزم پر رحم نہیں کرنا چاہئے۔