دہشتگرد داڑھی والا ہو یا کلین شیو، مدرسے کا ہو یا یونیورسٹی کا، اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے: سراج الحق

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
دہشتگرد داڑھی والا ہو یا کلین شیو، مدرسے کا ہو یا یونیورسٹی کا، اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے: سراج الحق



امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ دربار لعل شہباز قلندر پر حملہ اسلام اور پاکستان پر حملہ ہے،دو دنوں میں چار دھماکوں سے واضح ہو گیا کہ دشمن جہاں اور جس وقت چاہے حملہ کر سکتا ہے۔جمعہ کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سنیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا، حکومت کچھ دن جاگتی رہی،پھر سو گئی ہے۔سراج الحق نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد مدارس اور مساجد کا محاصرہ نہیں تھا، دہشتگردی کے ساتھ مذہب کا نام لے کر اسے محدود کیا گیا، پاکستان کو صحرا بنانے کا اعلان کرنے والے بھارت کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد داڑھی والا ہو یا کلین شیو، مدرسے کا ہو یا یونیورسٹی کا، اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ضروری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے راستہ صرف جمہوری ہے۔ بندوق کی نوک پر اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے زور دیا کہ چمن بارڈر کو کھولا جائے، اس سے نہ صرف افغانوں اور پاکستانیوں کا بھی روزگار وابستہ ہے۔