گورنر عشرت موجود، متحدہ کا فیصلہ سیاسی حلقوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا

گورنر عشرت موجود، متحدہ کا فیصلہ سیاسی حلقوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا


لاہور (فرخ سعید خواجہ) متحدہ قومی موومنٹ نے ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے تاہم ڈاکٹر عشرت العباد ابھی تک گورنر سندھ کے عہدہ پر فائز ہیں۔ سیاسی حلقوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے پیپلز پارٹی سے ناطہ توڑنے کے فیصلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ باوجود اس کے کہ ایم کیو ایم کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے پیپلز پارٹی اور اس کی حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ وضاحت کی کہ اس مرتبہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی دراصل متحدہ قومق موومنٹ نے پچھلے دس پندرہ سال میں حکومتوں میں شامل رہنے کے لئے جس طرح کئی مرتبہ اپنے اعلان کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے اس اعلان کو واپس لیا اس سے اس کی اصولی سیاست کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اب عام تاثر یہی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنا ہر فیصلہ پاور پالیٹکس میں ان رہنے کے لئے کرتی ہے اور اسے جگ ہنسائی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ایم کیو ایم کے موجودہ فیصلے کا تعلق چونکہ آنے والے عام انتخابات کے ساتھ ہے اس لئے ان کا فیصلے کا ایک سبب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ پانچ سال پاور شیئرنگ کر کے مزے لوٹ لئے اور اب جب عوام کے ووٹ سے احتساب کرنے کا وقت آیا تو ایم کیو ایم پیپلز پارٹی پر الزامات کی بارش کر کے خود کو ان کے جرائم اگر کوئی ہیں تو ان سے الگ کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک مرتبہ پھر سندھ میں ووٹ لئے جا سکیں۔ دوسرا سبب کٹھ پتلی تماشا بھی ہو سکتا ہے جس کے تحت انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھائیں اور نگران حکومتوں پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ ایم کیو ایم کا سندھ کی وزارت اعلیٰ کے حصول کا خواب پرانا ہے مگر اس میں ناکامی ہی ان کا مقدر رہا ہے۔ اب ان کا پیپلز پارٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ بھی سندھ کی نگران حکومت میں مرضی کی وزارت اعلیٰ کے لئے کوشش قرار دی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کے حواریوں کے میل ملاپ سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ مستقبل کے لئے کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گورنر موجود/ متحدہ