کوئٹہ : خودکش بم دھماکہ میں 80 جاں بحق‘ 200 زخمی‘ ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کیا گیا : پولیس

کوئٹہ : خودکش بم دھماکہ میں 80 جاں بحق‘ 200 زخمی‘ ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کیا گیا : پولیس


کوئٹہ+ لاہور (امجد بھٹی / بیورو رپورٹ+خصوصی رپورٹر) کوئٹہ میں کرانی روڈ پر مارکیٹ کے باہر خودکش بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 80 افراد جاںبحق اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔ متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق یہ خودکش دھماکہ پانی کے ٹینکر کے ذریعے کیا گیا۔ دھماکے سے 2 عمارتیں منہدم، 25 گاڑیاں، موٹر سائیکل اور رکشہ تباہ ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق جاںبحق ہونے والے افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ دھماکے سے 4 مارکیٹیں بھی تباہ ہوئیں۔ بم دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دور دراز تک آواز سنائی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ دھماکے سے عمارتوں اور گاڑیوں، رکشوں کو شدید نقصان پہنچا۔ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، کسی کو بھی دھماکہ کی جگہ جانے کی اجازت نہ دی۔ سول اور پی ایم سی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دھماکے کے بعد کیرانی روڈ اور اطراف میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ زخمیوں کو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں، دھماکے کی جگہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ علاقے میں شدید خوف و ہراس پیدا ہو گیا، دھماکے کی آواز پورے شہر میں سنی گئی۔ مشتعل افراد نے ریسکیو ٹیموں پر پتھرا¶ کیا، مجلس وحدت المسلمین نے آج ہڑتال اور دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ مشتعل افراد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور پتھرا¶ کیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کو کلیئرنس کے بعد دھماکے کی جگہ جانے دیا گیا۔ دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے کیرانی روڈ اور بروری روڈ پر احتجاج کیا اور گاڑیوں پر پتھرا¶ بھی کیا جس سے کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد مشتعل ہو گئی۔ انہوں نے ریسکیو ٹیموں پر پتھرا¶ کیا، سکیورٹی فورسز نے علاقے میں امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لئے محاصرہ کر لیا ہے۔ کوئٹہ میں شٹر ڈا¶ن ہڑتال ہو گی، تحفظ عزاداری کونسل نے سات روزہ اور جعفریہ الائنس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ یکجہتی کونسل نے آج کوئٹہ میں شٹر ڈا¶ن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد واٹر ٹینکر میں رکھا گیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق دھماکہ خیز مواد 800 سے 1000 کلو گرام تک تھا اور علمدار روڈ سے زیادہ مقدار میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ علما کونسل نے کراچی میں کوئٹہ بم دھماکہ کے خلاف ملیر چوک کراچی میں دھرنا دیا۔ گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی نے کوئٹہ دھماکے پر آج کوئٹہ میں سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کر دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق آج کوئٹہ میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بلوچستان کی تاریخ میں سب سے بڑا دھماکہ تھا۔ دھماکے کے بعد نعشوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل ہسپتال، سول سنڈیمن ہسپتال اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچادیا گیا، دھماکوں کے بعد کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹروںکو فوری طور پر ڈیوٹیوں پر طلب کر لیا گیا جنہوں نے ہسپتالوں میں پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی زخمیوں میں 20 کے قریب افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کوگھیرے میں لیکر میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جائے وقوعہ کی جانب کی اجازت نہیں دی گئی۔ مشتعل افراد نے دھماکے کی جگہ پر جانے کی کوشش کرنے والی بم ڈسپوزل کی گاڑی پر بھی پتھرا¶ کیا جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ علاقے کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ رات گئے تک امدادی ٹیمیں گرنے والی عمارتوں کا ملبہ اٹھانے میں مصروف تھیں۔ دھماکے کے بعد زخمیوں اور نعشوں کو ہسپتال پہنچانے کیلئے جائے وقوعہ پرایدھی ایمبولینسز موقع پر پہنچی تو مشتعل مظاہرین نے انہیں جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہ دی جس کے باعث ایدھی ایمبولینسز واپس آ گئیں۔ یاد رہے کہ ایدھی ایمبولینسز کو جائے وقوعہ پر اس لئے نہیں چھوڑا گیا کہ علمدار روڈ پر ہونیوالے والے دھماکے بعد دوسرا دھماکہ ایمبولینس میں رکھے بم کے پھٹنے سے ہوا تھا۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کے ترجمان طارق احمد جعفری، تحفظ عزاداری کونسل پاکستان کے چیئرمین رحیم جعفری، مجلس وحدت المسلمین، تحریک انصاف بلوچستان کے سینٹرل میڈیا کوارڈی نیٹر سردار روح اللہ خلجی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ پر بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے واقعہ کے خلاف آج کوئٹہ شہر میں مکمل شٹرڈا¶ن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ کو فوری طور پر پاک فوج کے حوالے کر کے کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن کیا جائے، بم دھماکے مین زخمی ہونے والوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ واٹر ٹینکر کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا، دھماکے سے 12 فٹ گہرا اور 6 فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر میر زبیر محمود نے کہا ہزارہ ٹا¶ن میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات جاری ہے۔ کوئٹہ کو ایک بار پھر بڑی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکہ کی جگہ سے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے ملبے تلے زخمی یا نعشیں موجود ہو سکتی ہیں ملبے کو ہٹانے کے لئے میونسپل کارپوریشن کی مشینری کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی سکیورٹی کے لئے پولیس اور ایف سی موجود تھی تحقیقات کے بعد ہی یہ بتایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد بارودی مواد کو علاقے تک کیسے لے کر آئے اور اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی غفلت کا عنصر پایا گیا تو غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سی سی پی او نے کہا کہ دہشت گردوں کی نشاندہی کرنے والے کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا، شدی زخمیوں کو سی 130 کے ذریعے کراچی منتقل کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم نے کوئٹہ دھماکے کے خلاف آج یوم سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے آج کوئٹہ میں شٹر ڈا¶ن ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے آج صوبے میں سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے یوم احتجاج منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شٹر ڈا¶ن ہڑتال کی جائے گی۔ شیہ علما کونسل نے کوئٹہ دھماکے کے خلاف کراچی کے علاقے ملیر 15 پر دھرنا دیا۔ حیدرآباد میں بھی علما کونسل کے زیر اہتمام دھرنا دیا گیا۔ دریں اثناءلشکر جھنگوی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ وفاق المدارس، عوامی تحریک اور ملت جعفریہ نے کوئٹہ دھماکے پر احتجاج کیا ہے۔ صدر عوامی تحریک ایاز لطیف پلیجو نے آج یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔ دریں اثنا صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف، گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، (ق) لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین، نائب وزیراعظم چودھری پرویز الٰہی، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا المناک واقعہ قرار دیا ہے۔ قومی رہنما¶ں نے کہا کہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان رہنما¶ں نے جاںبحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ نوازشریف نے کہا کہ حکومت لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے، امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے۔ اے این پی کے رہبر اسفندیار ولی اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے بھی بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بم دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بم دھماکہ میں زخمی ہونے والوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے دھماکہ میں جاںبحق ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خاتمہ کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ صدر زرداری نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کو فون کیا اور ہدایت کی کہ ہزارہ برادری کو تحفظ دینے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔ صدر نے گورنر کو ہدایت کی کہ آپ خود ریلیف آپریشن کی نگرانی کریں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہزارہ برادری کی ہرممکن مدد کریں۔ وزےراعظم راجہ پروےز اشرف نے چےف سےکرٹری بلوچستان بابر ےعقوب فتح محمد سے ٹےلےفون پر رابطہ کرتے ہوئے کوئٹہ بم دھماکے کی تفصےلات سے آگاہی حاصل کی، وزےراعظم نے دہشت گردی کی اس بہےمانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے قےمتی انسانی جانوں کے ضےاع پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزےت کا اظہار کےا۔ وزےراعظم نے کہا کہ پوری قوم سوگوار خاندانوں کے دکھ اور غم مےں برابر کی شرےک ہے۔ انہوں نے چےف سےکرٹری کو ہداےت کی کہ امدادی سرگرمےوں اور زخمےوں کو طبی امداد کی فراہمی مےں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور چےف سےکرٹری نے پولےس اور انتظامےہ کو ہداےت کی ہے کہ واقعہ کی تفصےلی رپورٹ فوری طور پر مرتب کرتے ہوئے بتاےا جائے کہ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود دہشت گردی کا واقعہ کس طرح رونما ہوا ہے اور اگر کسی بھی سطح پر سکیورٹی کمزوری پائی جاتی ہے تو ذمہ دار حکام کے خلاف کاروائی کی جائے۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے بم دھماکے کی شدےد مذمت کرتے ہوئے دھماکے مےں قےمتی انسانی جانوں کے ضےاع پر دلی رنج و غم کا اظہار کےا ہے۔ اپنے تعزےتی بےان مےں گورنر نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ لوگوں بالخصوص خواتےن اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوئی مذہب و معاشرہ اجازت نہےں دیتا۔ گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاںبحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمی ہونے والے بے گناہ شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی کے ذمہ دار عناصر کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاںبحق ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومین کے لئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ لاہور سے سٹاف رپورٹر کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دلی رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے مشترکہ بیان میں جماعت اسلامی کے رہنما¶ں نے کہا کہ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے نہ ہی انسانیت سے کوئی واسطہ ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت عوام کے قتل عام کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کوئٹہ میں کرانی روڈ پر ہونے والے دعماکے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی انسانی جانوں کے ض یاع کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والے سفاک درندے ہیں اور انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، صدر جاوید ہاشمی، مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عارف علوی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود نے بم دھماکے کی شدید مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ پارٹی رہنما¶ں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ہر قسم کی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں۔ ملت جعفریہ کے رہنما آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے بم دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے شہداءکی بلندی درجات کے لئے اور دہشت گردی کے خلاف تین روزہ ایام ترحیم منانے کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ رمن ملک نے آئی جی بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حیئرمین سینٹ نیئر چسین بخاری، ڈپٹی چیئرمین صابر حسین بلوچ، سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، گورنر خیبر پی کے انجینئر شوکت اللہ، (ق) لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید، آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن، جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ ساجد نقوی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم، وفاقی وزرا قمر زمان کائرہ، احمد مختار، سید نوید قمر، سید خورشید شاہ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، اسرار اللہ زہری، میر چنگیز چمالی، ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری، امیر ہزار خان بجارانی، منظور وٹو، وزیر اعلیٰ خیبر پی کے امیر حیدر خان ہوتی، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ، صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب، وزیراعظم چودھری عبدالمجید، قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان، سینیٹر اسحاق ڈار، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سینیٹر زاہد خان، بشریٰ گوہر اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنما¶ں نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بہیمانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی، سیاسی و مذہبی رہنما¶ں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائے۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں کرانی روڈ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نہتے معصوم افراد کا قتل لمحہ فکریہ اور حکومت و انتظامیہ کیلئے سوالیہ نشان ہے گورنر راج میں انتظامیہ تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں جس کہ وجہ سے انتظامیہ، سکیورٹی فورسز و حکومت نے فائدہ نہیں اُٹھایا جبکہ قتل و غارت گری کرنے والے شرپسند اس کا بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں جماعت اسلامی اس شرپسندی اور ظلم کی شدید مذمت اور اس ظلم درندگی کے خلاف آج کے ہڑتال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تاجروں دکانداروں سے اپیل کی کہ سانحہ میں لاتعلق بے گناہ افراد کی سوگ وغم میں آج کاروبار بند رکھیں۔

کوئٹہ / بم دھماکہ