دہشت گردوں کی بریت کی شرح خطرناک....شہریوں کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے : چیف جسٹس

دہشت گردوں کی بریت کی شرح خطرناک....شہریوں کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے : چیف جسٹس


اسلام آباد (نوائے وقت + ثناءنیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارمحمد چودھری نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات پر مکمل عمل نہ ہونے سے مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ۔ ٹرائل کورٹ کے ججز کو تحفظ حاصل نہیں گواہوں، ججوں اور تفتیش کاروں کو بھی تحفظ حاصل نہیں انہیں تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے مقدمات کے ملزموں کے خلاف گواہی کے لئے نہیں آتے ۔ گواہوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے ۔ اس کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہر ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق ہے جن ملزموں کا ٹرائل ہو چکا ان کو سزاملنی چاہیے۔ شہریوں کو جرائم پیشہ افراد کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے زیر التوا مقدمات کی بڑی وجہ ججز کی کمی ہے ججز کی تعیناتی میں تاخیر بھی کیسز کے التوا کی ایک وجہ ہے ۔ناکافی شواہد کی وجہ سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ ان خیالات کا چیف جسٹس نے انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر ملزموں کو سزا دینا ممکن نہیں۔ ملزموں کی بریت کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں پر تنقید ہوتی ہے۔ ہر ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق ہے ججز کی تعیناتی میں تاخیر بھی ایک مسئلہ ہے ۔ تحفظ فراہم کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ گواہوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ جن ملزموں کا ٹرائل ہو چکا انہیں سزا ملنی چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں محدود وسائل میں بہترین کارکردگی دکھانا ہو گی۔ زیر التوا مقدمات کی ایک بڑی وجہ ججز کی کمی ہے۔ ٹھوس شہادت کے بغیر کسی کوسزا نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گردی کی عدالتوں میں سنگین جرائم کے مقدمات چلتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کے دوران ناکافی شواہد ملزموں کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کلین چٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں دہشت گردی کے جرائم بار بار ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شیخ لیاقت کیس میں فیصلہ کیا ٹرائل کرنے کے لئے کچھ گائیڈ لائنز دی جانی چاہئیں۔ جو شخص دہشت گردی کے کیس کا سامنا کر رہا ہے اس کے بارے میں اور وہ ایجنسی جو کہ اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ دہشت گردی کے الزام کا سامنا کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے تاکہ اس کے ذریعہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے، ایسے افراد جو دہشت گردی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ایسا کرنے سے باز رہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ جو ججز انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارروائی کا جائزہ لے رہے ہیں ان کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں ان میں سپریم کورٹ کے ججز اور ہائی کورٹس کے ججز شامل ہیں اسی طرح ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز بھی دہشت گردی کے مسئلہ کو ججز کے ساتھ گفت و شنید کرنے کے بعد دئیے جانے والے فیڈ بیک کے بعد ہدایات جاری کریں گے تاکہ اس بات کا یقین کیا جائے کہ ملزم جو کہ الزامات کا سامنا کر رہا ہے اور اس کا ٹرائل ختم ہو چکا ہے ان ملزموں کو سزا دی جائے۔ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات پر عمل نہ ہو تو مطلوبہ نتائج نہیں نکلتے ہمیں محدود وسائل کے اندر بہتری دکھانا ہو گی۔دریں اثناءچیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے دہشت گردی کی بریت کی شرح کو خطرناک قرار دیا جبکہ سندھ میں دہشت گردی مقدمات کے 6 گواہوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ موبائل ڈیٹا کے حصول کے لئے صوبائی حکومتوں کو قانون سازی کی ہدایت کی گئی اجلاس میں اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی دو عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اور دہشت گردی کے نمٹائے گئے مقدمات کا جائزہ لیا گیا۔
چیف جسٹس