مسجد شہدا سے واہگہ بارڈر تک کارواں انڈیا سے دوستی و تجارت مسترد کے نعرے‘بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دیا تو لاہور سے اسلام آباد مارچ کریں گے:دفاع پاکستان کونسل

مسجد شہدا سے واہگہ بارڈر تک کارواں انڈیا سے دوستی و تجارت مسترد کے نعرے‘بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دیا تو لاہور سے اسلام آباد مارچ کریں گے:دفاع پاکستان کونسل

لاہور(خصوصی نامہ نگار/ سٹاف رپورٹر) دفاع پاکستان کونسل نے دھمکی دی ہے اگر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا گیا تو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا جائے گا، حکمرانوں کو کسی صورت ایسا ناپسندیدہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، رحمان ملک نے واقعی بھارت کو بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت دیئے ہیں تو اس سے تجارتی معاہدے کرنے کا کیا جواز باقی رہ جا تا ہے، جو بھارت سے محبت کرتا ہے اسے پاکستان چھوڑ کر وہاں جانا ہوگا، حکمران مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے تجارت نہ کرنے کے پرانے بنیادی مﺅقف پر واپس آجائیں ، ورنہ عوام ان کا احتساب کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے دفاع پاکستان کے کاروان کے اختتام پر واہگہ میں لاکھوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا گیا تو لاہور سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کریں گے۔ بھرپور تحریک چلا کر حکمرانوں کو ایسے ناپسندیدہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس موقع پر لاکھوں افراد نے دونوں ہاتھ اٹھا کر حافظ محمد سعید قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہیں کے زوردار نعرے لگائے۔ حافظ سعید نے کہا کہ ہم واہگہ آ کر بھارت کو صاف پیغام دیتے ہیں کہ وہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنا چھوڑ دے وگرنہ اس کا انگ انگ ٹوٹ جائےگا۔ کشمیر کے مسئلہ پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ پرویز مشرف نے اس مسئلہ پر کئی آپشن پیش کئے مگر ہم برملا کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ پر کوئی آپشن نہیں چلے گا، کشمیریوں کو مکمل آزادی ملنی چاہیے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چالیس ملکوں کی فوجوں کیساتھ افغانستان میں نہیں ٹھہر سکے تو بھارت کو بھی جلد مقبوضہ کشمیر سے نکلنا ہوگا اب بھی وقت ہے بھارت خود کو سنبھال لے اور مقبوضہ کشمیر سے نکل جائے ورنہ مشرقی پاکستان سمیت سارے مسائل میدانوں میں حل کیے جائیں گے ۔ 16دسمبر 1971ءکو سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے اگلے دن اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ بات کہی تھی کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں بہا دیا ہے۔ اس وقت سے لیکر بھارت آج تک پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک پروان چڑھائی جا رہی ہے، رحمان ملک نے پاکستان آ کر یہ بات کہی ہے کہ میں نے انڈیا کو بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت پیش کیے ہیں اگر واقعی انہوںنے ایسا کیا ہے تو پھر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے اور اس سے تجارتی معاہدے کرنے کا کیا جواز باقی رہ جا تا ہے، ہم صاف کہتے ہیں وہ بھارت کو ناپسندیدہ ملک قرار دینے کا اعلان کریں ورنہ قوم سمجھے گی کہ آپ یہاں آکر جھوٹ بول رہے ہیں۔ سخت سردی میں لاکھوں لوگوں کا یہاں جمع ہونا حکمرانوں کیلئے بہت بڑا پیغام ہے کہ غیور پاکستانی قوم بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ بھارت سے ایک ہی رشتہ ہے عداوت کا انتقام کا، ہمارا سرمایہ جہاد ہے امریکی سامراج افغانستان میں آخری سسکیاں لے رہا ہے روس کے بھاگنے اور امریکہ کی شکست کے بعد بھارت اپنی اوقات یاد رکھے۔ کشمیری مسلمان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں۔ حکومت کی پالیسیوں سے ہم سب غیر محفوظ ہو چکے ہیں، بھارت ایٹمی ملک پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ چین کی پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کرنے کیلئے بھارت کو لایا گیا ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ بھی پاکستان کی دشمنی چاہتا ہے۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا کہ نوجوانوں میں عقابی روح بیدار ہو چکی ہے، سقوط ڈھاکہ پاکستانیوں پر بہت بڑا زخم ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں شکست کھا کر جا رہے ہیں، روس اور امریکہ دونوں اس خطہ میں آکر برباد ہوئے۔ بھارت، امریکہ اور روس سے زیادہ اسلحہ اور فوج جمع نہیں کر سکتا، وہ خوفزدہ ہے کہ امریکہ کے یہاں سے جانے کے بعد اس کا کیا بنے گا۔ ہمیں بولڈ میڈیا چاہئے سولڈ میڈیا نہیں۔ واہگہ پر آکر ہم نے بھارت کو اور اپنے حکمرانوں کو ایک پیغام دینا ہے ۔ یا ہندوستان بچے گا یا ہم، لیکن ان شاءاللہ بھارت برباد ہوگا اور پاکستان بچے گا۔ تم نے ہمارا ایک بازو کاٹا تھاہم پیغام دیتے ہیں کہ اب ہم تمہاری طرف آگئے ہیں۔ من موہن سنگھ کو ہوش کرنی چاہئے کیا تم خالصتان کو بھول گئے ہو ہم نے کشمیر سمیت بھارتی مسلمانوں کو بھی آزاد کرانا ہے۔ سکھ حریت پسندوں کو بھارت کیخلاف اٹھنا چاہئے۔ ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ اہلسنت والجماعت پاکستان کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ آج ہم نے واہگہ کی طرف مارچ کر کے ابتدا کی ہے۔ ہم بتا کر رہیں گے کہ جو بھارت سے محبت کرتا ہے اسے پاکستان چھوڑ کر وہاں جانا ہوگا، رحمان ملک وہیں رہ جائے اور ہماری بھی جان چھوٹ جائے۔ وہ بھارتی ایجنٹ ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ محمد بن قاسم ایک مسلمان بہن کی خاطر عراق سے کراچی پہنچ کر انتقام لیا مگر کشمیر میں ہزاروں ماﺅں بہنوں کی عصمت دری کی گئی۔ قبرستان ہوتے رہے مگر انہوںنے نہ حوصلہ چھوڑا نہ جہاد چھوڑا۔ میں حیران ہوں کہ اسلام آباد کے حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ جماعة الدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ 65سال بعد لاہور سے بھارت کی طرف قافلہ چلا ہے۔ اب بھارت دیکھ لے تاریخ بدل رہی ہے۔ دفاع پاکستان کے لاکھوں شرکاءدہلی کو دلہن بنانے کیلئے تیار ہیں۔ بھارت پسندیدہ نہیں بلکہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔ انصار الامہ کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ یہ کارواں حکومت کو پیغام دینے آیا ہے کہ بھارت کے ساتھ معاہدے تیرے حق میں نہیں۔ بھارت نام نہاد حکمرانوں کی باتوں میں مت آئے۔ ہم امن والے ہیں، بھارت کشمیر آزاد کرے، پاکستانی دریاﺅں پر قبضہ ختم کرے، مسلمانوں پر مظالم بند کرے ان معاملات پر کسی بھی صورت کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ جمعیت علماءاسلام نظریاتی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ اہل بلوچستان کی جانب سے اہل لاہور کو مبارکباد پیش کرتا ہوں واہگہ بارڈر پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر حکمرانوں کی ان تمام پالیسیوں کو مسترد کر چکا ہے جو بھارت کیساتھ دوستی چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن تھا ہے اور رہے گا ۔ بلوچستان میں بھارت کے تمام منصوبے ناکام بنائیں گے۔ کوئی قوت بلوچستان کو پاکستان علیحدہ نہیں کر سکتی۔ جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا ہم نے پاکستان کو 1857ءکی جنگ آزادی کے زخموں کے نوے سال بعد حاصل کیا جس کیلئے بے شمار قربانیاں دی گئیں۔ یہ قربانیاں بھارت کے سامنے جھکنے کیلئے نہیں تھیں۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ آج ہم علامتی طور پر دفاع پاکستان کے پرچم تلے پلٹے ہیں اور واہگہ تک آکر بھارت کو پیغام دینے آئے ہیں کہ انڈیا کے مسلمان کشمیر کی بیٹیاں پریشان نہ ہوں پاکستانیوں نے واہگہ آکر ڈیرہ لگا لیا ہے اب ان شاءاللہ دہلی تک جائیں گے۔ امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ آج کا کارواں زرداری، پرویز اشرف اور رحمان ملک کو یہ بتانے کیلئے جمع ہوا ہے کہ بھارت پسندیدہ نہیں بلکہ ناپسندیدہ ترین ملک ہے۔ مولانا سمیع الحق، حافظ سعید کی قیادت میں نظام خلافت راشدہ قائم ہوگا۔ جماعة الدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما قاری محمد یعقوب شیخ اور حافظ محمد مسعود نے کہا کہ بھارت سے دوستی اور مذکرات کرنے والے جعلی ڈگریوں اور دہری شہریت والے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ تحریک غلبہ اسلام کے مرکزی رہنما قاری منصور احمد نے کہا کہ پلٹن میدان کی ذلت، نظریہ پاکستان، کشمیری عوا م کی قربانیوں اور قیام پاکستان کے وقت لٹنے والی عزتوں کو حکمران فراموش کر چکے ہیں۔ آج کا یہ کارواں غفلت دور کرنے کیلئے ہے۔ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کریں گے۔ تحریک آزادی کشمیر کے چیئرمین حافظ سیف اللہ منصور نے کہا کہ آج سے اکتالیس سال پہلے بھارت نے پاکستان کے دو ٹکڑے کئے۔ ایک لکیر لگی مگر اصل چیز اسلام ہے۔ حافظ سعید کے روحانی بیٹے چل پڑے ہیں، دہلی پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے۔ محسنان پاکستان فاﺅنڈیشن کے عبداللہ گل، میاں محمد اجمل قادری، انٹر نیشنل ختم نبوت کے یونس حسن، تحریک تحفظ پاکستان کے چیئرمین ایڈمرل (ر) جاوید، اہلسنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمان معاویہ، تحریک تحفظ قبلہ اول کے چیئر مین شمشاد احمد سلفی، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر سید وسیم اختر، زاہد بختاوری، جمعیت علماءاسلام(س) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرﺅف فاروقی، پیر سیف اللہ خالد نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل دفاع پاکستان کونسل کے قائدین نے مسجد شہداءسے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو اور خطاب میں کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے آخری حد تک جائیں گے، پرویز مشرف نے کشمیری جہادی تنظیموں پر پابندی لگا کر ملک و قوم سے غداری کی، کشمیری تنظیموں پر سے پابندی ختم کی جائے۔ پاکستانی قوم بھارت سے مشرقی پاکستان کا انتقام لینا چاہتی ہے، وہ بھارت کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرانے کیلئے افغانستان میں دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپ کھول رکھے ہیں، بھارت کی کمزوریوں سے واقف ہیں، پاکستان کو دولخت کرنے والے بھارت کا انگ انگ توڑنے کو پوری قوم تیار ہے، افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بعد ملک کو بھارتی کالونی نہیں بننے دینگے۔ امریکہ کے خطہ سے نکلنے کے بعد بھارت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پاکستان کو معاشی طور پر اپاہج بنانے اور اسے بھارت کی منڈی نہیں بننے دینگے۔ لاہور کی طرح ملک کے کونے کونے میں دفاع پاکستان کارواں، جلسوں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، جنرل (ر) حمید گل، شیخ رشید احمد، سراج الحق، مولانا فضل الرحمن خلیل، حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا عبدالقادر لونی، ابتسام الٰہی ظہیر، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا امیر حمزہ، قاری محمد یعقوب شیخ، مولانا عبدالرﺅف فاروقی، پیر سیف اللہ خالد، حافظ سیف اللہ منصور، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، شیخ نعیم بادشاہ، حافظ محمد مسعود، مولانا محمد حسنین صدیقی، عبداللہ گل، اجمل قادری، ڈاکٹر وسیم اختر، زاہد بختاوری، حافظ عبدالرﺅف، محمد یحییٰ مجاہد، مولانا عاصم مخدوم، حافظ خالد ولید، حافظ طلحہ سعید، شمس الرحمن معاویہ، علی عمران شاہین اور دیگر نے کیا۔ کارواں کے شرکاءنے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کیخلاف شدید نعرے لگائے، پاکستان کا غدار قرار دیتے رہے۔
لاہور (خصوصی نامہ نگار + سٹاف رپورٹر) بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے خلاف دفاع پاکستان کونسل کے مسجد شہدا سے واہگہ بارڈر تک دفاع پاکستان کارواں میں مذہبی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی۔ مسجد شہداء سے واہگہ بارڈر تک کے علاقے بھارت سے رشتہ کیا، نفرت کا انتقام کا، بھارت و امریکہ کا ایک علاج، الجہاد الجہاد کے نعروں سے گونج اٹھے، اہلیان لاہور نے بھارت سے دوستی و تجارتی معاہدوں کو مسترد کرنے کا مضبوط پیغام دیا۔ طلباءوکلائ، تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاءہزاروں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، کاروں بسوں، ویگنوں اور دیگر سواریوں پر قافلوں کی صورت میں مسجد شہداءپہنچے تو دور دور تک ہر طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور کلمہ طیبہ والے پرچم لہراتے نظر آئے۔ دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں جماعة الدعوة، جمعیت علمائے اسلام (س)، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، اہلسنت والجماعت اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد صبح آٹھ بجے ہی مسجد شہداء مال روڈ پر پر پہنچنا شروع ہو گئی تھی ساڑھے نو بجے تک بہت بڑا جم غفیر مال روڈ پر جمع ہو چکا تھا اس موقع پر زبردست جذباتی کیفیت دیکھنے میں آئی، بھارت اور امریکہ مخالف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔کارواں کے راستوں میں ہال روڈ، لکشمی چوک، ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو، کوآپ سٹور، شالا مار باغ، سلامت پورہ، داروغہ والا، جلو موڑ اور دیگر مقامات پر جماعة الدعوة کے ہزاروں کارکنوں نے دفاع پاکستان کارواں کا پرجوش استقبال کیا۔