الطاف کا شجاعت‘ فضل الرحمن‘ قصوری اور مشاہد کو فون ۔۔ بابر غوری کا اسحاق ڈار سے رابطہ

لاہور (خصوصی رپورٹر + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں) ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے (ق) لیگ کے رہنما چودھری شجاعت اور مشاہد حسین کو ٹیلی فون کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ معلوم ہوا ہے کہ الطاف حسین نے خورشید محمود قصوری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحق ڈار سے بھی رابطہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سے رابطے شروع کئے ہیں تاکہ انہیں پیپلز پارٹی کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔ الطاف حسین نے مسلم لیگ ہمخیال کی سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین میاں خورشید محمود قصوری سے گفتگو میں انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ 25 دسمبر تک مسلم لیگ ہمخیال کے رہنما وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات نہ کریں۔ ذرائع نے بتایاکہ الطاف حسین نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ کی پیپلز پارٹی کو دی گئی ڈیڈ لائن تک صبر کیا جائے اگر پیپلز پارٹی اپنے رویہ پر نظرثانی کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں متحدہ اور مسلم لیگ ہمخیال سمیت دیگر جماعتوں کو پیپلز پارٹی کا مل کر محاسبہ کرنا چاہئے۔ معلوم ہوا ہے کہ الطاف حسین مسلم لیگ ق کے رہنماﺅں سے خود رابطہ کرینگے۔ مسلم لیگ ن سے متحدہ کے دیگر رہنما بھی رابطہ کریں گے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ محب وطن سیاسی قوتوں کو اتحاد و یکجہتی سے کام کرنا چاہئے۔ جی این آئی کے مطابق الطاف حسین‘ چودھری شجاعت حسین اور مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین کے درمیان ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کی موجودہ نازک صورتحال تمام محب وطن قوتوں سے جراتمندانہ موقف کا کا تقاضا کرتی ہے۔ تمام سیاسی قوتیں اپنے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک اور عوام کے اجتماعی مفادات کو اولیت دیں اور اس سلسلے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے دونوں رہنماﺅں نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اطلاعات کے مطابق الطاف حسین اور فضل الرحمن کے درمیان گفتگو میں جے یو آئی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی‘ جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت کے غیر مناسب رویہ اور ملک کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت میں دونوں رہنماﺅں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان باہمی احترام لازمی امر ہے مگر یہ امر افسوسناک بات ہے کہ حکومت کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہے جو سیاسی معاملات میں تلخیوں کو جنم دے رہا ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام محب وطن سیاسی جماعتیں ہر قسم کی مصلحت سے بالاتر ہو کر ملک کے عظیم تر مفاد اورجمہوریت کی بقاءکیلئے کام کریں اور آپس میں اتفاق رائے پیدا کریں۔ دونوں رہنماﺅں نے ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے اور آپس میں رابطوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر ملک کو درپیش عالمی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال ہوا دونوں رہنماﺅں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان حقیقی معنوں میں خود مختار ہو اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہو اور تمام بیرونی ممالک پاکستان کی آزادی‘ خودمختاری اور عزت و وقار کا احترام کریں۔