غیر آئینی اقدام کریں گے نہ تصادم ہوگا‘ وزیراعظم کی زبانی یقین دہانی پر اعتبار کیا جائے : وزیرقانون

اسلام آباد (نامہ نگار+ مانیٹرنگ ڈیسک+ وقت نیوز+ ایجنسیاں) وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے جمہوریت میں کسی ادارے کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں، غیرآئینی اقدام کرینگے نہ تصادم ہو گا، وزیراعظم کی زبانی یقین دہانی پر اعتبار کیا جائے۔ جواب دینا سیکرٹری قانون کا کام ہے، ہم آرٹیکل 6کے ملزموں کے ستائے ہوئے ہیں لیکن ہم کوئی بالائے آئین اقدام نہیں کریں گے۔ یہاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ حکومت ہر حال میں اپنے پانچ سال مکمل کرے گی‘ عدلیہ کے فیصلے بولنے چاہئیں‘ ٹکرز نہیں۔ پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت کوئی پی سی او‘ ای سی او یا ایل ایف او لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی تمام اداروں کا استحام پاکستان کا استحکام ہے‘ ججز نوٹیفکیشن ایشو پر بعض لوگوں نے سیاست چمکانے کی کوشش کی مگر انہیں ناکامی ہوئی اور آئندہ بھی ہوگی ہم آئین کو ناراض نہیں کریں گے چاہے ہم سے کوئی راضی ہو یا ناراض ہم آئین کے آرٹیکل 6 کے پابند جو اس سے نابلد ہیں وہ حکومت کے جانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا جب سے ہماری جمہوری حکومت آئی ہے اس کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں اور یہ کام پہلے ماہ سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ پگڑیاں اچھالنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے کسی ایک جماعت یا ایک فرد کا احتساب سب کے سامنے ہے۔ میری اور وزیر اطلاعات کی گزشتہ روز صدر زرداری سے ملاقات کے بعد جو غلط خبر چلائی گئی اس کا افسوس ہے اور ایسی خبروں سے اداروں میں تصادم کا خدشہ ہوتا ہے اس خبر کی تردید خود وزیراعظم نے کی پھر ابہام کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہئے کچھ لوگوں نے اس پر سیاست چمکانے کی کوشش کی مگر انہیں ناکامی ہوئی۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے رات دو بجے اٹارنی جنرل کے سیکرٹری کو نوٹس جاری کیا جس کی وجہ سے اٹارنی جنرل آج خود عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا صدر پاکستان وفاق کی علامت ہیں اور دوتہائی اکثریت سے صدر منتخب ہوئے ہیں ان کے خلاف بیان بازی اور غلط زبان استعمال کرنا درست نہیں۔ عوام کی منتخب حکومت کو کسی سے خطرہ نہیں کیونکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ چیئرمین نیب کے تقرر کے حوالے سے سب سے مشاورت کی گئی۔ آئندہ اگر کوئی بھی جج یا ادارہ کسی بھی آئین توڑنے والے کا ساتھ دے گا تو وہ بھی مجرم ہو گا۔ سرکار کی گاڑیاں اور مشینری استعمال کرنے والوں کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اگر سیاست کرنی ہے تو سرکاری سے باہر ہو کر کریں۔ آن لائن کے مطابق انہوں نے کہا ججز کی بحالی کے نوٹیفکیشن سے متعلق وزیراعظم کی زبانی یقین دہانی پر اعتبار کیا جائے کیونکہ ان کے زبانی اعلان پر ہی ججز بحال و رہا ہوئے تھے ، پیپلز پارٹی آرٹیکل 6کی خالق ہے ، کوئی ہم سے ایل ایف او یا پی سی او کی توقع نہ رکھے ،سرکاری اخراجات پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،کوئی تصادم ہوگا نہ حملہ جبکہ بعض لوگوں کی خواہش کو خبر کادرجہ دیا جارہاہے۔ جمہوری حکومت کے اقتدار میں آتے ہی حکومت کے جانے کی باتیں اور تاریخیں دینا شروع ہوگئی تھیں اور یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ موجودہ حکومت کے وزراءکی ملک سے روانگی کیلئے جہاز تیار ہوگیا ہے جبکہ وزراءکالونی میں سامان باندھنے کی خبریں بھی بتائی گئیں۔ یہ بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ کون کہاں سے گرفتار کیا جائے گا ،نجومیوں سے بھی ہمارے متعلق پیش گوئیاں کرائی جاتی رہیں اور ملک کے سربراہ کی نعش لے جانے کیلئے ایمبولینس کی جگہ بھی بتائی گئی تاہم اس کے باوجود جمہوری حکومت نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا جن اداروں کو سیاست کی اجازت نہیں وہ ادارے سیاست کرنے سے گریز کریں جبکہ کسی سرکاری اخراجات پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا وزیراعظم رولز آف بزنس کے تحت کام کرتے ہیں حکومت کی طرف سے وزیراعظم جوابی دعویٰ دائر نہیں کرتا اور یہ کام سیکرٹری قانون کا ہے۔ ہم اصغر خان کے پٹیشن کی سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی حماتی کرتے ہیں جبکہ احتساب یکطرفہ نہیں ہونا چاہئے۔قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ججز بحالی کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے‘ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹیفکیشن کی منسوخی کی اطلاعات پر نوٹس لینا خوش آئند اقدام ہے عدالت بغیر تحقیق کے خبریں نشرکرنے پر میڈیا کا بھی نوٹس لے عدالتوں میں جا کر اپنے خلاف دائر مقدمات کا سامنا کرتے ہیں عدالتوں پر شب خون مارنا ہماری جماعت کی پالیسی نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے باوجود عدالتوں میں پیش ہوئے اور ان کے فیصلوں کا احترام کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا ہم عدالتوں میں جا کر اپنے خلاف دائر مقدمات کا سامنا کرتے ہیں عدالتوں پر شب خون مارنا ہماری جماعت کی پالیسی نہیں۔ انہوںنے کہا ہم نے عدلیہ کی آزادی کےلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ بابر اعوان نے کہا اطلاعات کے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے، عدالتوں میں جواب داخل کرنا وزیراعظم کا نہیں سیکرٹری قانون کا کام ہے، کسی پر حملہ ہو گا نہ تصادم، اس بات کی تکلیف ہے جن اداروں کو سیاست کی اجازت نہیں وہ کیوں بولتے ہیں۔