عدلیہ کے خلاف سازش ہوئی تو پورے ملک میں دما دم مست قلندر ہوگا : وکلا رہنما ۔۔ سپریم کورٹ کے باہر علامتی مظاہرہ

اسلام آباد + لاہور (نمائندہ نوائے وقت + اپنے نامہ نگار سے + ایجنسیاں) سینئر وکلا رہنماوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے خلاف کوئی سازش کی گئی تو وکلا پہلے کی طرح سڑکوں پر ہوں گے اور پورے ملک میں دمادم مست قلندر ہو گا‘ حکومت ہوش کے ناخن لے اور عدلیہ کے حوالے سے کوئی بھی غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کرنے سے باز رہے‘ سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دے کر حکومت کی ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے جس پر تمام ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘ وکلا نے سپریم کورٹ کے باہر علامتی مظاہرہ بھی کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں قاضی انور نے کہا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ورنہ حکومت کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ مہلت نہ مانگتی۔ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ 31 جولائی کے فیصلے کے بعد انتظامی حکم کی کوئی حیثیت نہیں رہی‘ رات کی خبریں محض افواہیں نہیں‘ حکومت کے نادان مشیر اسے غلط مشورے دے کر اسے مشکلات کا شکار کر رہے ہیں‘ سوئس اکاونٹس میں پیسہ عوام کا ہے اسے واپس لایا جائے۔ سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ گذشتہ رات کی سازش بہت واضح تھی‘ جو میڈیا نے بروقت بے نقاب کر دی۔ جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا کہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا ایک خبر کی وجہ سے ہوا ہے تاہم حقیقت کے بارے میں تحقیقات ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کا وزیراعظم سے رابطہ نہیں ہو سکا ہو گا جو انہوں نے مہلت مانگی‘ وقت کے ساتھ ساری باتیں سامنے آ جائیں گی‘ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے اس کے لئے مشکلات پیدا ہوں‘ افتخار حسین گیلانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے قانونی مشیر انتہائی بے وقوف ہیں۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے کہا کہ صدر آصف زرداری کی شریف الدین پیرزادہ اور بابر اعوان کے ساتھ رات گئے ملاقات میں بہت کچھ یقینی طور پر طے پا گیا تھا مگر سپریم کورٹ اور میڈیا کو بروقت اطلاع ہو جانے سے سپریم کورٹ نے جو اقدامات کئے ہیں وہ آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ 18 فروری کے الیکشن کی کریڈیبلٹی کا سپریم کورٹ بھی نوٹس لے سکتی ہے۔ عدالت اٹھارہ فروری کے الیکشن کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ علی احمد کرد نے کہا ہے کہ 16 مارچ کو ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر واپس نہیں لیا جا سکتا‘ میری رائے میں ججز کو رات گئے نہیں بیٹھنا چاہئے تھا‘ ججز کو فارغ کیا گیا تو تحریک چلانے کا فیصلہ اس وقت کریں گے۔ سپریم کورٹ میں بعض وکلا نے علی احمد کر کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ججز بحالی کا انتظامی حکم واپس لینا خطرناک قدم ہو گا‘ اگر حکومت نے ایسا کیا تو وکلا کے تمام گروپ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘ میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر ثبوت کے خبریں نشر نہ کرے۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ بغیر آگ کے دھواں نہیں اٹھتا۔ فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو بجاطور پر خبردار کیا ہے کہ پرویز مشرف کی طریقے پر چلتے ہوئے قدم اٹھایا گیا تو وہ نہ صرف غیر آئینی اور غیر قانونی بلکہ آرٹیکل چھ کے تحت قابل سزا بھی ہو گا۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سپریم کورٹ کا ردعمل بہت ضروری تھا۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ تمام معاملات حیران کن ہیں‘ حکومت عدلیہ کے ساتھ تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدےداروں راجہ ذوالقرنین‘ میاں وحید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی باقیات اور اسٹیبلشمنٹ عدلیہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس بارے میں آئندہ لائحہ عمل کے لئے 22 اکتوبر کو وکلا کا نمائندہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے صدر میاں عبدالقدوس و دیگر نے آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے 18 اکتوبر کو کیانی ہال میں جنرل ہاوس کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ حامد خان نے کہا کہ نوٹیفکیشن واپس لینے کے بیانات عدلیہ پر دباو رکھنے کی مذموم کوشش ہے‘ عدلیہ سسٹم کو چلانے اور حکومت تصادم کی کوشش کر رہی ہے۔ اے کے ڈوگر‘ عبدالرشید قریشی نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی حیثیت پرویز مشرف کے اقدام جیسی ہو گی۔