صدر کے ساتھی جس غبارے میں ہوا بھر رہے تھے عدلیہ نے اس میں بروقت سوراخ کردیا

لاہور (تجزیہ سلمان غنی) عدلیہ اور حکومت کے درمیان این آر او کے مسئلہ پر جاری کشمکش اپنے حتمی مرحلہ اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک دفعہ یہ فیصلہ ہونا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے تمام فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کرتی ہے یا پھر شہید جمہوریت بننے کے لئے ریاست کے تمام ستونوں کو گرانے کا خطرہ مول لیتی ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے صدر زرداری کے قریبی رفقا کی جانب سے جس غبارے میں ہوا بھری جا رہی تھی عدلیہ نے اس میں بروقت سوراخ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق درحقیقت یہ ایک پرانا کھیل تھا جو باانداز دیگر اپنے نتائج کی توقع کے ساتھ اگلے چند روز میں دہرایا جانا تھا لیکن سپریم کورٹ نے حکمرانوں کو یہ پیغام دے دیا کہ وہ اپنی آئینی حیثیت کی حفاظت کے لئے متحد اور چوکس ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق 13 اکتوبر تک کے لئے حکومت کو ملنے والی عدالتی مہلت کے بعد صدر کے قریبی رفقا نے اس امر پر سوچ و بچار شروع کر دیا تھا کہ اس ایگزیکٹو آرڈر کو واپس لے لیا جائے جس کے تحت عدلیہ بحال ہوئی تھی۔ اگرچہ حکومت نے 13 اکتوبر کو اپنا وکیل تبدیل کر کے کئی تاریخ لینا تھی مگر حکومت نے وکیل تبدیل کیا تھا مگر دلیل تبدیل نہیں کی تھی اور وہ اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے قریبی رفقا نے صدر کو ایگزیکٹو آرڈر کی واپسی پر آمادہ کر لیا تھا اور اس کے لئے انہیں مناسب وقت کا انتظار تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کے پاس جو آپشن ہیں وہ نہایت محدود اور اعصابی طور پر کمزور کرنے والے ہیں‘ آخری آپشن کے طور پر اب وزیراعظم اتوار کے روز قوم سے خطاب کر کے ایک مرتبہ پھر حکومتی موقف پر عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق حکومت عدلیہ کو مطمئن کر کے میڈیا کے سرچشموں کو عدالتی زد میں لانے کی کوشش بھی کر سکتی ہے لیکن مذکورہ حلقے اسے حکومت کے لئے نہایت مشکل آپشن قرار دیتے ہیں۔ ذمہ دار ترین حکومتی ذرائع مصر ہیں کہ حکومتی حلقے اس مرحلہ پر اپنے آپشنز کے استعمال کے لئے جارحانہ موڈ میں نظر آتے ہیں جس میں وہ اپنی پارلیمانی قوت اور حکومتی طاقت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے حق میں ہیں جس کے تحت وہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف محاذ آرائی اور دوسری طرف عدلیہ کے خلاف نبرد آزمائی جاری رکھنے میں ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں‘ ان کے خیال میں کسی ہلاکت کی بجائے شہادت کا راستہ ہی اپنے سیاسی مفادات کو سمیٹنے اور مستقبل میں اپنے سیاسی کیس کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جماعت اسلامی‘ تحریک انصاف‘ مسلم لیگ (ن)‘ وکلا برادری‘ سول سوسائٹی کے درمیان گذشتہ رات سے رابطے شروع ہیں اور ان میں اس حوالہ سے لائحہ عمل کے لئے مشاورت جاری ہے۔