صدر سے وزیراعظم‘ اسفند یار ولی کی ملاقاتیں‘ عدلیہ کے معاملات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی +نیشن رپورٹ + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری سے وزیر عظم یوسف رضا گیلانی نے اہم ملاقات کی ہے جس میں دونوں رہنماﺅں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جس سے عدلیہ کی آزادی پر حرف آئے ‘ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے گا اور حکومت تمام امور پر اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ آئی این پی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے ملاقات میں ججز بحالی کا نوٹیفکیشن واپس لئے جانے کی خبروں اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے بھی صدر زرداری سے ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال‘ عدلیہ کے معاملات اور اتحادی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کی ہے کہ آرمی چیف کی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوئی جنرل اشفاق کیانی کی صدر اور وزیراعظم سے آج ملاقات ہو گی۔ ملاقات میں امریکہ سٹریٹجک مذاکرات پر بات ہو گی۔ آن لائن کے مطابق صدر‘ وزیراعظم ملاقات سپریم کورٹ کے سترہ رکنی لارجر بنچ کی طرف سے ججز بحالی نوٹیفکیشن کیس کی سماعت کے بعد ہوئی۔ ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے ملاقات میں صدر اور وزیراعظم نے کیس کی سماعت سے متعلق امور اور اہم آئینی و سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم اس بات پر حیران تھے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے ترجمان کی طرف سے جمعرات کی رات اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ ججز بحالی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور اس بارے میں خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اس کے باوجود عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس کے تحت کیس کی سماعت کی اور ایک حکم بھی جاری کردیا گیا صدر اور وزیراعظم کا اس بات پر اتفاق تھا کہ حکومت عدلیہ کے ساتھ کسی قسم کی کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتی اور اس کیس میں اعلیٰ عدلیہ کو حکومت کی طرف سے مکمل یقین دہانی کرائی جائے گی کہ عدلیہ آزادی کے ساتھ اپنا کام کرتی رہے گی ملاقات میں بعض سیاسی معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ این این آئی کے مطابق ذرائع کے مطابق صدر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں کچھ دیر کیلئے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان بھی شریک ہوئے اور صدر اور وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے 17رکنی بنچ کے فیصلے کے قانونی نکات اور مضمرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ صدر اور وزیراعظم نے سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم کو ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن بارے میں 18اکتوبر تک تحریری بیان داخل کرنے کیلئے دی گئی مہلت اور اس ضمن میں حکومتی حکمت عملی کے بارے میں اہم فیصلے کئے۔ علاوہ ازیں وقائع نگار خصوصی کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی سربراہی میں صوبائی وزرائ، افسران کیساتھ اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی مشکل اقتصادی صورتحال اور تباہ کن سیلاب کے باوجود بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں کوئی کٹوتی نہیں ہو گی، حکومت بلوچستان کی ترقی کیلئے پُرعزم ہے تاکہ وسائل صوبے کے عوام اور ملک کی مجموعی ترقی کیلئے استعمال کئے جا سکیں۔ فاٹا کے ارکان قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر منیر اورکزئی سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہاکہ حکومت نے قبائلی علاقہ جات کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور ترقی یافتہ شہری علاقوں کے برابر لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔نیشن رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم نے ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلزپارٹی کو حکمرانی کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے۔ حکومتی مﺅقف میں سختی موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق جب اٹارنی جنرل نے عدالت کو جواب دیا کہ وزیراعظم مصروف ہیں تو حکومت کی جانب سے عدالت کے ردعمل کا انتظار کیا گیا اور جب سپریم کورٹ نے سماعت 18اکتوبر تک ملتوی کر دی تو صدر اور وزیراعظم ایوان صدر میں مذاکرات کرنے بیٹھ گئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کچھ دیر صدر کے ساتھ رہے اور انہیں صورتحال پر مکمل بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ عام انتخابات تک حکمرانی ان کا آئینی حق ہے۔جی این آئی کے مطابق صدر زرداری اور وزیراعظم نے ملک میں سیاسی صورتحال پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر، اسفند یار ولی ملاقات اسی پالیسی کا ایک حصہ تھی۔ صدر ایک دو روز میں الطاف حسین سے فون پر رابطہ کرینگے اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرینگے جبکہ وزیراعظم گیلانی مسلم لیگ (ن) کے قائدین سے نظام بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرینگے۔