بجلی کی قیمت 3 مراحل میں 13.5 فیصد بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد (عترت جعفری) عالمی بنک‘ ایشیائی ترقیاتی بنک اور پاکستان کے 3 روزہ مذاکرات کے آخری دن بجلی کی قیمت اور سبسڈی کے معاملے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ جس کے تحت حکومت 55 ارب روپے سبسڈی ختم کرنے کیلئے صارفین پر بوجھ ڈالے گی۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے قرضہ کی 87.5 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کے اجراء میں حائل رکاوٹ دور ہونے کے ساتھ مزید 4 ارب ڈالر کے قرض کیلئے بھی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ مذاکرات کے آخری روز عالمی بنک اور اے ڈی پی نے یہ فیصلہ پاکستان پر چھوڑ دیا ہے کہ 55 ارب روپے کے بوجھ کب اور کتنے مراحل میں عوام پر منتقل کیا جائے گا۔ تاہم یہ مشورہ دیا ہے کہ حکومت جتنی جلد بجلی کی قیمت بڑھائے گی اتنا ہی بہتر ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت حکومت بجی پر 122 ارب روپے سالانہ سبسڈی دے رہی ہے۔ جس میں سے آئی ایم ایف نے 55 ارب روپے کی سبسڈی جاری رکھنے کی منظوری دیدی ہے۔ تھرمل بجلی گھروں کو تیل کی بجائے گیس کی فراہمی سے 12 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ یوں باقی 55 ارب روپے کا بوجھ صارفین کو منتقل کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کیلئے حکومت بجلی کی قیمت میں 13.5 فیصد اضافہ 3 مراحل اکتوبر‘ جنوری اور اپریل میں کریگی۔