پاکستان حالت جنگ میں ہے‘ فوجی عدالتیں عوام کی مرضی سے قائم کی گئیں: جنرل راحیل

پاکستان حالت جنگ میں ہے‘ فوجی عدالتیں عوام کی مرضی سے قائم کی گئیں: جنرل راحیل

لندن (نوائے وقت رپورٹ)  آرمی  چیف جنرل راحیل شریف  نے کہا ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ پاکستانی حکومت  اور فوج دہشتگردی  کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ دہشتگردوں  کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات  بہتر ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی  کے خاتمے کیلئے  سیاسی  و عسکری  قیادت ملکر کام کر رہی ہے۔ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ سانحہ  پشاور کے بعد تمام سیاسی  قیادت  متحد ہو گئی، فوجی  عدالتیں  عوام کی مرضی  سے قائم کی گئی ہیں۔ دہشت گردی ایک بیماری ہے جس  کو جڑ سے اکھاڑ  پھینکیں گے۔ قبل ازیں  آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گذشتہ روز برطانوی ملٹری اکیڈمی کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف نے ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں زیر تربیت پاکستانی کیڈٹس سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز کا بھی دورہ کیا اور سکیورٹی سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطاب کرتے کہا کہ پاکستانی کیڈٹس اپنی تربیت پر توجہ دیں اور ملک کا نام روشن کریں۔ کیڈٹس پاکستان کے حوالے سے نیک نام کمائیں۔ ملٹری اکیڈمی کے کمانڈر میجر جنرل سٹیورٹ نے جنرل راحیل شریف کا استقبال کیا۔ آرمی چیف کو ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا اور سکیورٹی کے معاملات پر پاکستانی مؤقف پیش کیا اور پاکستان کو درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا۔ پاکستان ہائی کمشن میں ہونے والے عشائیے میں برطانوی فوج کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ ڈپٹی ہائی کمشنر نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا استقبال کیا۔ آرمی چیف  نے کہا کہ پاکستان جلد تمام مسائل پر قابو پا لے گا۔ حالیہ واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشتگرد  کس حد تک جا سکتے ہیں۔