سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین اور عوامی تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مقدمہ کا ٹرائل فوجی عدالت میں کیا جائے کیونکہ موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں انہیں انصاف کی توقع نہیں ہے

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین اور عوامی تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مقدمہ کا ٹرائل فوجی عدالت میں کیا جائے کیونکہ موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں انہیں انصاف کی توقع نہیں ہے

پاکستان عوامی تحریک کی قیادت اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ سات ماہ گذرنے کے باوجود بھی انہیں تاحال انصاف نہیں ملا لہذا ان کا کیس بھی فوجی عدالت میں چلایا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے چودہ کارکن شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے جن کا مقدمہ وزیراعظم، وزیراعلٰی پنجاب، وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ سمیت متعدد پولیس افسران کے خلاف تھانہ فیصل ٹاؤن  میں درج کیا گیا تھا۔ عوامی تحریک کے مرکزی صدر رحیق احمد عباسی اور پارٹی کے قانونی مشیر نعیم الدین چوہدری کہتے ہیں، اکیسویں ترمیم کے تحت دہشت گردی کے تمام مقدمات فوجی عدالتوں میں سنے جائیں گے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی ریاستی دہشت گردی ہوئی ہے، اس لیے اِس کیس کو بھی فوجی عدالت میں سنا جائے