حکومتی نااہلی عدلیہ کے سر تھوپنے کی اجازت نہیں دے سکتے: جسٹس جواد

حکومتی نااہلی عدلیہ کے سر تھوپنے کی اجازت نہیں دے سکتے: جسٹس جواد

اسلام آباد(آن لائن+ صباح نیوز+ نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں چکوال کے رہائشی حیدر علی کو پولیس حکام کی جانب سے مقدمہ بازی میں الجھانے کے مقدمے میں دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے شائع ہونے والے وزیراعظم کے بیان پر سخت ردعمل اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کے زیرالتوا رہنے کی ذمہ دار عدالتیں نہیں خود سرکار ہے‘ حکومت خود کو نااہل قرار دے کر بھی تمامتر الزامات عدالتوں پر تھوپ دیتی ہے‘ ایک طرف سرکار کہتی ہے کہ ان کی اپنی نااہلی ہے کہ وہ موثر قانون سازی نہیں کرسکتی دوسری طرف کہہ رہی ہے کہ عدالتیں اپنا کام نہیں کرتیں‘ جب ملزمان کیخلاف شہادتیں اکٹھی نہیں ہوں گی‘ چالان مکمل نہیں ہوں گے ملزم عدالتوں سے بری ہوتے رہیں گے۔ جبکہ دوران سماعت جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں‘ کیا فوجی عدالتوں میں بیٹھے جج موجودہ اعلی عدلیہ میں بیٹھے ججوں سے زیادہ ذہین‘ فطین، فرض شناس اور قابل ہیں کہ وہ سارے مسائل کا خاتمہ کردیں گے‘ عدالتوں میں عملہ کم ہے بہتری کے لئے انہی عدالتوں میں مسائل ختم کرنے کی ضرورت ہے‘ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ عوام الناس کو انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالتیں اپنا کام کریں یا حکومت کا بھی کام کریں۔ اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو عدالت کو ہی حکومت کرنے کا اختیار بھی دے دے۔ آج تک پولیس کی زیادتیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اعلی پولیس افسروں کو عوام پر ظلم رواء رکھنے کیلئے کلین چٹ دے دی گئی۔ عدالت بار ہا کہہ چکی ہے کہ فوجداری قوانین میں خامیاں اور سقم ہیں۔ حکومت قانون سازی کیوں نہیں کرتی۔ حکومت اپنا کام کرتی تو آج مقدمات زیر التوا نہ ہوتے۔ پولیس کو نظم و ضبط ہم نے نہیں خود حکومت نے سکھانا ہے۔ حکومت عوام کیساتھ مذاق بند کرے یہ ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر سے کہا کہ آپ سرکار کے نمائندے ہیں انہیں جاکر بتائیں کہ وہ اپنا کام کرے‘ ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ اگر تفتیش شفاف‘ منصفانہ اور ایماندارانہ طریقے سے کی جائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ شیخوپورہ میں کیا ہوا اور دوسرے علاقوں میں کیا ہورہا ہے۔ کیا حکومت کو وہ نظر نہیں آتا۔ اب تو وزیراعظم پاکستان گریڈ 18 سے اوپر کے ملازمین کیخلاف انضباطی کارروائی کے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔ عوام پریشان ہیں عوام کو بھی تو پتہ چلنا چاہئے کہ ان کے عدالتوں میں مقدمات کیوں زیر التوا ہیں اور اس کے ذمہ دار کون لوگ ہیں۔ عدالتوں کا کام حقائق کی روشنی میں اور جمع کروائی گئی شہادتوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ عدالتیں کسی بے گناہ کو لٹکا نہیں سکتیں۔ حکومت قانون بنا دے کہ غلطی بھی حکومت کی ہے مگر عدالتیں ملزم کو بری نہ کریں۔ سارے الزامات عدالتوں پر لگانا کسی طور پر درست نہیں ہے۔ ہم حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی نااہلی ہمارے سر تھوپے۔ عدالت نے حکومت پنجاب سے نااہل افسران کیخلاف کارروائی بارے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ وقفے کے بعد عدالت نے دوبارہ سماعت شروع کی تو جسٹس جواد نے کہا کہ اس کیس کو کسی اور دن کیلئے رکھ رہے ہیں ہم نے اعدادو شمار اکٹھے کئے ہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ نظام کی خامی ہی ذمہ دار ہے۔ تفتیشی اداروں کی ناکامی ہے۔ حیدر علی کیخلاف غلط چالان پیش کیا گیا چالان پیش ہوگیا تو شہادت نہیں دی گئی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ جب شہادت نہ ہو تو کہہ دیا جائے کہ یہ کیس نہیں بنتا۔ ادارے اپنا کام پورا کریں اور اس کا ذمہ دار کسی اور کو نہ ٹھہرائیں‘ یہ پراپیگنڈہ ختم کریں‘ ہمارے پاس عدالتیں کم ہیں‘ افرادی قوت بھی کم ہے۔ باقی جگہوں پر دس ہزار افراد کیلئے ایک عدالت ہے۔ ہمارے لئے ایک لاکھ کیلئے ایک عدالت ہے۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ جب کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے تو اس میں سزا ملنے کا کوئی امکان تک نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ممکن ہے باقی ملزمان کی رہائی بھی شک کا فائدہ دے کر کی جاتی ہو۔ انہوں نے کہا خدارا: حکومت اپنا کام خود کرے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہیں کہ جن کو درج ہی نہیں ہونا چاہئے یہ مقدمات آخرکار اعلی عدلیہ میں آکر ختم ہوگئے۔ 2013ء میں 60 ہزار مقدمات عدالتوں نے ناکافی شہادتوں کی وجہ سے خارج کئے ہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ حکومت کی یہ کارکردگی ہوگی تو مقدمارت زیر التواء رہیں گے۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ جعلی مقدمات کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ میرٹ پر کارروائی ہو تو معاملہ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ ججز نے عدلیہ کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ دریں اثناء ملک بھر کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی حالت زار سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعظم کی جانب سے عدلیہ کے بارے میں دیا گیا بیان پڑھ کر دکھ ہوا۔ سترہ لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں جن کو سننے کے لیے صرف 2400  جج ہیں ۔ جج پورے کرنے کا کہا جائے تو فنڈز، جگہ اور دیگر مسائل آڑے آ جاتے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ بھی معاملے پر ذمہ داری ادا کرے۔ عدلیہ اپنی استعداد سے بڑھ کر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی وجہ عدالتیں نہیں حکومت، تفتیش اور استغاثہ کی کوتاہی ہے عدلیہ اپنی استعداد سے بڑھ کر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ ناقص تفتیش کی وجہ سے لوگ بری ہو جاتے ہیں استغاثہ کی کارکردگی ناقص ہے تفتیش درست انداز میں کی جائے تو ملزمان سزا سے نہیں بچ سکتے نظام کی تمام خرابی کا بوجھ عدلیہ پر نہ ڈالا جائے۔ اس وقت ملک میں 17 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں جن کو سننے کے لئے صرف 2400 جج کام کر رہے ہیں۔ جسٹس جواد نے بھی کہا کہ مقدمات کے زیر التوا ہونے کی کوتاہی عدالتی نہیں حکومتی مسئلہ ہے۔ عدالتوں کے خلاف یہ کہنا درست نہیں کہ عدالتیں سزائیں نہیں دیتیں کیونکہ عدالتیں انصاف کے لئے ہوتی ہیں سزاؤں کے لئے نہیں۔ جسٹس سرمد جلال نے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ نامکمل تفتیش کر کے چالان پیش کرنے والے تفتیشی افسران کے خلاف آج تک کیا کارروائی کی گئی اب وقت آگیا ہے کہ ا نتظامیہ بھی ا س معاملے کے بارے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔