جوڈیشل کمشن کہہ دے انتخابات میں صرف بدانتظامی ہوئی تسلیم کر لینگے: عمران

جوڈیشل کمشن کہہ دے انتخابات میں صرف بدانتظامی ہوئی تسلیم کر لینگے: عمران

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) عمران خان نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمشن کہے کہ الیکشن میں صرف بدانتظامی ہوئی تو تسلیم کرلیں گے، مجھے وزیر اطلاعات کی باتیں سمجھ نہیں آتیں، ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگ رہا۔ احتجاجی والدین کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی شاید وہی کرتا جو انہوں نے کیا، شہداء کے والدین کو غصہ مجھ پر نکالنا ہے تو میں سکول میں پھر جانے کو تیار ہوں۔ میرے ساتھ پروٹوکول کی گاڑیاں صرف 6 تھیں، باقی وزراء کی گاڑیاں تھیں، آئندہ آپ کبھی میری گاڑی کے ساتھ پروٹوکول نہیں دیکھیں گے۔ ہمیں ایک جج سے مایوسی ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں اگر ری الیکشن نہ بھی ہو تو جوڈیشل کمشن کے نتیجے میں آئندہ انتخابات بہتر ہوں گے۔  میں خاموشی سے آرمی پبلک سکول جانا چاہتا تھا، پہلے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ آرمی چیف آ رہے ہیں آپ دو دن بعد آجائیں، اسی لئے دودن بعد گیا۔ وہ سکول حکومت نہیں فوج کے تحت ہے۔ میں میڈیا کیلئے نہیں بچوں کیلئے اپنی اہلیہ کے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ فیصلہ کیا ہے کہ اب پروٹوکول کے بغیر جائوں گا۔ والدین کے اندر غصہ اور درد ہے ان کا درد کم ہوتا ہے تو پھر جانے کیلئے تیار ہوں۔ این اے 122 سے این اے 124 حلقے کے ووٹ ملے، سب کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، عدلیہ کہہ دے کہ حکومت کو مینڈیٹ مل گیا تھا تو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ ووٹوں کی گنتی نہیں آڈٹ ہو رہا ہے، کمشن کہہ رہا ہے کہ 34 ہزار ووٹ غیر مصدقہ ہیں، الیکشن کمشن کا قانون ہے تھیلا بند کرتے ہوئے دو فارم 14 اور 15 ہوتے ہیں۔ اے پی سی کے فیصلوں پر عمل کرلیں پاکستان بدل جائے گا۔ اے این پی نے بھی بیان دیا خیبر پی کے میں دھاندلی ہوئی۔ حکومت پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جو ٹرم آف ریفرنس تیار کیا تھا اس پر فوری عمل کیا جائے 30 دسمبر کو ہماری جانب سے مذاکرات اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے حکومتی ٹیم کے سربراہ کو جو خط لکھا گیا تھا وہ دوبارہ سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے ہم نے  مذاکرات کو کیسے خوشگوار رکھنا ہے ہم چاہتے ہیں ملک آگے بڑھے دہشت گردی کی موجودہ فضا میں ہم بھی سڑکوں پر آکر احتجاج نہیں کرنا چاہتے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مذاکرات میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر جس اتفاق رائے پر پہنچی تھی اس پر فوری عمل کیا جائے۔ فرانسیسی میگزین میں دوبارہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی پی ٹی آئی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔