بھارت منظم طریقے سے پاگل پن کر رہا ہے‘ بلوچستان میں دہشتگردی کو ہمسایہ ممالک کی سپورٹ ہے: فوجی ترجمان

بھارت منظم طریقے سے پاگل پن کر رہا ہے‘ بلوچستان میں دہشتگردی کو ہمسایہ ممالک کی سپورٹ ہے: فوجی ترجمان

لندن (صباح نیوز + نوائے وقت رپورٹ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیاں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں، خطے میں امن کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بھارت میں ہونے والے واقعات سے غافل نہیں رہ سکتے، مسئلہ کشمیر پاک بھارت امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پاک فوج دہشتگردوں کیخلاف بلا تفریق کارروائی کر رہی ہے۔ گز شتہ  روز آپریشن ضرب عضب پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے آپریشن ضرب عضب تمام دہشت گردوںکے خلاف بلاتفریق جاری ہے وزیرستان میں آپریشن کے دوران اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کاروائیاںکی گئیں اور آپریشن کے دوران اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا گیا تھا ۔کسی بڑے نقصان سے پہلے تمام دہشت گردوں کو ختم کیا گیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی ائرپورٹ پر حملہ اہم تھا جس پر حکومت نے ضرب عضب شروع کرنے کا فیصلہ کیا  حکومت نے پہلے مذاکرات سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی تو آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ طالبان کا شمالی وزیرستان میں کافی کنٹرول تھا طالبان کا شمالی وزیرستان میں موثر مواصلاتی نظام تھا ۔ طالبان کے افغانستان میں دہشت گرد گروپوں سے موثر رابطے تھے  شمالی وزیرستان میں طالبان نے کئی بم فیکٹریاں قائم کی تھیں ۔ انہوں  نے کہا کہ خیبر ایجنسی کے دہشت گرد گروپ طالبان کو مضبوط مدد فراہم کرتے تھے ۔خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے پاس اسلحہ اور دیسی ساختہ بموں کا بڑا ذخیرہ تھا جسے تباہ کردیا گیا ہے۔آپریشن ضرب عضب سے پہلے ایساف کو آگاہ کیا تھا کہ دہشت گرد بارڈر پار کر کے افغانستان پہنچ سکتے ہیں بعض جگہوں پر ایساف نے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی افغانستان کے کچھ علاقوں میں ایساف کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔ بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیاں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ سرحدی خلاف ورزیوں پر پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھارت کیساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی اور اس سلسلے میں بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ بھارت نے سیکرٹری سطح کے مذکرات معطل کئے۔ پاکستان نے بھارت کو ڈی جی سطح پر بھی مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط الزام لگا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پاک بھارت امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔آپریشن ضرب عضب دہشتگردوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔  انہوں نے اس عزم کا دوبارہ اعادہ کیا کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں  نے کہا کہ طالبان  کے افغانستان  میں دہشتگرد گروپوں  سے موثر رابطے تھے  شمالی وزیرستان میں طالبان نے کئی بم فیکٹریاں قائم کی تھیں۔ خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کے پاس اسلحہ اور دیسی ساختہ  بموں کا بڑا ذخیرہ تھا۔ خیبر ایجنسی  کے دہشتگرد گروپ  طالبان کو مضبوط مدد فراہم کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی عدالتیں  صرف دہشتگردوں  کے مقدمے  سنیں گی۔ مدارس  میں اصلاحات  زیر غور ہیں،  مولانا عبدالعزیز کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ حکومت دہشتگردی  کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے۔  صرف ان مدرسوں  کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے جن کا تعلق دہشتگردوں سے ہے۔  بلوچستان کے دہشتگردوں کے کیمپس  افغانستان میں موجود ہیں۔ بلوچستان  میں دہشتگردی  کو ہمسایہ  ممالک کی سپورٹ  حاصل ہے۔ دہشتگردی  فوری ختم نہیں ہو سکتی۔ کوئی بھی دہشتگرد  تنظیم مالی وسائل  کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔  بھارت کی سرحد پر خلاف ورزی  دہشتگردی  کیخلاف جنگ میں مشکلات پیدا کر رہی ہے سانحہ پشاور  نے پوری قوم کو دہشتگردوں سے جنگ کرنے کا ایک نیا عزم دیا۔ طالبان  کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ختم کر دیا۔ آپریشن ضرب عضب  میں  2000 دہشتگرد ہلاک  دو سو فوجی شہید ہوئے۔ آپریشن  ضرب عضب  میں 800 سے زائد زخمی ہوئے۔ پاکستان کی افغانستان،  ایران اور بھارت کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ  سرحد ہے۔ بھارت  کے ساتھ 3  ہزار کلو میٹر کا بارڈر ہے جس میں بہت تھوڑے علاقے میں باڑ لگائی گئی ہے۔ دہشتگردوں کے معاشی مدد کے ذرائع  کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشتگردوں کے معاشی وسائل، فنڈنگ کے ذرائع  کو ختم کر دیا جائے۔  دہشتگردوں کی فنڈنگ  ختم کرنے کیلئے بین الاقوامی  سپورٹ  بہت ضروری ہے۔ بھارت کی سرحدی خلاف ورزیاں  دہشتگردی  کیخلاف  جنگ میں  مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط  الزامات لگا رہا ہے۔ بھارت پاکستان کی امن   کی خواہش  سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ بھارت منظم طریقے سے  پاگل پن  کا مظاہرہ کر رہا ہے۔