آزادی اظہار کی حدود ہیں‘ مذہب کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا: پوپ فرانسس

آزادی اظہار کی حدود ہیں‘ مذہب کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا: پوپ فرانسس

پوپ کے طیارے سے (رائٹر+ اے ایف پی) پوپ فرانسس نے فرانسیسی جریدہ چارلی ایبڈو پر گزشتہ ہفتے کے حملے پر ردعمل میں اگرچہ آزادیٔ اظہار کا دفاع کیا ہے تاہم کہا ہے کہ کسی دوسرے کے مذہب کی توہین کر کے دوسروں کو اشتعال دینا غلط بات ہے۔ ایسی توہین کی صورت میں کسی کو ایسے ہی ردعمل کی توقع کرنی چاہئے۔ ایشیائی دورے کے دوسرے مرحلے میں سری لنکا سے فلپائن جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کسی کو اشتعال نہیں دلا سکتے، آپ دوسروں کے مذاہب کی توہین نہیں کر سکتے، آپ مذہب کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔ انہوں نے میگزین پر حملے کے تناظر میں کہا کہ میرے خیال میں اظہار اور مذہب کی آزادی دونوں بنیادی انسانی حقوق ہیں، کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر آزادی کا  کھلے عام اظہار حق ہے۔ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کو تشدد کے ساتھ ردعمل نہیں دکھانا چاہئے لیکن اگرچہ ہم دونوں اچھے دوست ہیں لیکن اگر یہ (میرا دوست) میری ماں کو گالی نکالے تو یہ ایک نارمل سی بات ہے کہ اسے بھی پھر جوابی طور پر ایک مکے کی توقع رکھنی چاہئے، یہ آزادیٔ اظہار کی کچھ حدود ہیں۔ لوگوں نے اشتعال دلایا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ دوسروں کے مذاہب کو کھلونا نہیں بنا سکتے۔ اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ تاریخ کو کرنے دیں تاہم اگر ہم گناہگار بھی تھے تو خدا کے نام پر کسی کو ہلاک نہیں کرنا چاہئے، یہ ایک نامعقولیت ہے۔