وزیراعظم نے 36.46 لاکھ‘ عمران 1.94 لاکھ‘ فضل الرحمن 13 ہزار ٹیکس دیا

وزیراعظم نے 36.46 لاکھ‘ عمران 1.94 لاکھ‘ فضل الرحمن 13 ہزار ٹیکس دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) فیڈرل  بورڈ آف ریونیو نے 30جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دروان ارکان قومی اسمبلی‘ ارکان سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی طرف سے ادا شدہ انکم ٹیکس کی تفصیلات پر مبنی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی ہے۔ٹیکس ڈائریکٹری گزشتہ روز ویب سائٹ پر جاری کی گئی جس کے مطابق کل 1172 پارلیمنٹرینز میں سے 1072 نے انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل کئے جبکہ تمام ارکان نے این ٹی این نمبر حاصل کر لیا۔ ایک سو پارلیمنٹرینز نے گوشوارے داخل نہیں کرائے۔ڈائریکٹری میں ان تمام ارکان پارلیمنٹ کے نام شائع کئے گئے ہیں جنہوں نے 14فروری کو رات 12بجے تک گوشوارے داخل کرا دئیے تھے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے 26لاکھ 40ہزار روپے‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک لاکھ 94ہزار 938 روپے‘ خواجہ سعد رفیق نے 12لاکھ 15ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے8لاکھ روپے سے زائد انکم ٹیکس کے علاوہ 27لاکھ روپے انکم سپورٹ لیوی بھی ادا کی۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے 20ہزار روپے سے زائد‘ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک لاکھ 48ہزار روپے‘ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے 62ہزار 214 روپے‘ شیخ رشید احمد نے 58ہزار 410 روپے‘ وفاقی وزیر میر مرتضیٰ  جتوئی نے 3ہزار 240روپے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے 36لاکھ 44ہزار روپے سے زائد اور وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے 3لاکھ 494 روپے اور وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے 33ہزار 724روپے انکم ٹیکس دیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا 5لاکھ 71ہزار 420 روپے  رکن قومی اسمبلی شازیہ مری 13ہزار362 روپے‘ سردار نبیل احمد گبول  ایک لاکھ 93ہزار 917روپے‘ ڈاکٹر محمد فاروق ستار 70ہزار 888روپے‘ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ 16ہزار 197روپے‘ زیب جعفر ایک لاکھ 17ہزار 697 روپے‘ وزیراعلی کے پی کے پرویز خٹک نے 3لاکھ 494 روپے‘ سردار مہتاب احمد خان (اپوزیشن لیڈر کے پی کے) ایک لاکھ 53ہزار 844روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان  راجہ اشفاق سرور نے 26ہزار 600روپے‘ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد 3لاکھ 15ہزار 313 روپے‘ ملک اقبال مہدی خان نے 27ہزار روپے‘ رکن قومی اسمبلی عبید اﷲ شاہ ارخیل نے 12لاکھ 56ہزار 640 روپے‘ وزیراعظم محمد نوازشریف نے 26لاکھ 46ہزار  401روپے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک لاکھ 48ہزار 868 روپے شیخ روحیل اصغر نے 5ہزار 903 روپے‘ وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے 12لاکھ 15ہزار 365روپے‘ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے ایک لاکھ 68ہزار روپے‘ محمد افضل کھوکھر (این اے 128)28ہزار 530روپے‘ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے 65ہزار 744روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ وفاقی وزیر برجیس طاہر نے 71ہزار 558روپے انکم ٹیکس دیا۔ تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی  لیڈر مخدوم شاہ محمود قریشی نے 6لاکھ 5ہزار روپے ٹیکس دیا۔ وفاقی وزیر  سکندر حیات خان بوسن نے 4لاکھ 4ہزار 485 روپے انکم ٹیکس دیا۔ این اے 156 سے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر محمد رضا  حیات ہراج نے 28ہزار 530 روپے‘ این اے 158سے رکن قومی اسمبلی اسلم بودلہ نے 44ہزار 101روپے ٹیکس دیا۔ سابق وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے ایک لاکھ 40ہزار 25روپے ٹیکس ادا کیا۔ سردار محمد جعفر خان لغاری نے 38ہزار 354روپے‘ حفیظ الرحمن خان دریشک نے 4لاکھ 22ہزار 8روپے انکم ٹیکس دیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اﷲ نے 4لاکھ 86ہزار 901 روپے‘ سینیٹر گلزار احمد خان نے 33ہزار 897 روپے‘ سینیٹر حاجی غلام علی نے 2لاکھ 26ہزار 678 روپے‘ حاجی محمد عدیل نے 3لاکھ 9ہزار 861 روپے‘ سنیٹر الیاس احمد بلور نے 6لاکھ 50ہزار 105روپے‘ سینیٹر طلحہ محمود ایک کروڑ 29 لاکھ 40ہزار 990 روپے انکم ٹیکس دیا۔ اے این پی کے رہنما سینیٹر زاہد خان نے 43ہزار 868 روپے‘ سینیٹر شاہی سید نے ایک لاکھ 51ہزار 315روپے‘ سینیٹر وقار احمد خان نے 7لاکھ 62ہزار 794روپے‘ سینیٹ میں  قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے 87لاکھ 63ہزار 691روپے‘ بیگم نجمہ حمید نے 28ہزار 91روپے‘سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے 18ہزار 725 روپے انکم ٹیکس دیا۔ سید ظفر علی شاہ نے ایک لاکھ 22ہزار 27روپے انکم ٹیکس دیا۔ سیدہ صغریٰ امام نے ایک لاکھ 74ہزار 783روپے انکم ٹیکس دیا۔ سابق وفاقی وزیر ظہیر الدین بابر اعوان نے 6لاکھ 28ہزار 130 روپے انکم ٹیکس دیا۔ سابق وفاقی وزیر بابر خان غوری نے 3لاکھ 96ہزار 644 روپے‘ فاروق حمید نائیک 4لاکھ 85ہزار 799روپے انکم ٹیکس دیا۔ پی پی پی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے 3لاکھ 16ہزار 542 روپے‘ سابق وفاقی وزیر  خزانہ سلیم مانڈوی والا نے 11لاکھ 45 ہزار 500روپے‘ سید مصطفیٰ کمال نے ایک لاکھ 85ہزار 106روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ پی ایم  ایل (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے 18لاکھ 24ہزار 382 روپے‘ سنیٹر جہانگیر بدر نے 2لاکھ 59ہزار 153 روپے‘ سنیٹر حمزہ نے 29ہزار 44روپے‘ سینیٹر کامل علی آغا نے 48ہزار 131 روپے‘ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 8لاکھ 24ہزار 891روپے انکم ٹیکس اور 27لاکھ ایک ہزار 786 روپے سپورٹ لیوی بھی ادا کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے 20ہزار 959 روپے انکم ٹیکس دیا۔ جمعیت اہلحدیث کے  سربراہ پروفیسر ساجد میر نے ایک لاکھ 9ہزار انکم ٹیکس  لیوی دی۔ سابق وفاقی وزیر ریلویز حاجی غلام احمد بلور نے 40ہزار 698 روپے‘ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے 3لاکھ 98ہزار 131روپے‘ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید  عباسی نے ایک لاکھ 17ہزار 533 روپے‘ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے 77ہزار 800 روپے‘ مولانا فضل الرحمن نے 13ہزار 462 روپے‘ انکم ٹیکس ادا کیا۔ اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے 5لاکھ 32ہزار 918 روپے‘ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے 13ہزار 937روپے‘ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے 12لاکھ 5ہزار 974 روپے‘ راجہ محمد جاوید اخلاص نے9ہزار 500روپے‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے 57ہزار 124 روپے‘ غلام سرور خان نے 5لاکھ 57ہزار 34روپے‘ ملک ابرار احمد نے 20ہزار 482 روپے‘ شیخ رشید احمد 58ہزار 410روپے‘ جمشید احمد دستی نے 20ہزار 387روپے‘ وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے 15ہزار 254روپے‘ محمد اعجاز الحق ایک لاکھ 60ہزار 780روپے‘ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ 62ہزار 214روپے‘ فریال تالپور 2لاکھ 43ہزار 901روپے‘ اعجاز احمد جھکرانی 15ہزار 663روپے‘ وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی 3ہزار 240 روپے‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف 36لاکھ 44ہزار تین روپے‘ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے 33ہزار 724روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ پنجاب اسمبلی  کے حلقہ پی پی 131 سے رکن چودھری ارشد جاوید وڑائچ پارلیمنٹرین میں سے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے منتخب رکن ہیں۔ انہوں نے ایک کروڑ 76لاکھ روپے انکم ٹیکس اور 8لاکھ 46ہزار روپے انکم سپورٹ لیوی دی۔ اس طرح جاوید نے ایک کروڑ 85لاکھ روپے سے زائد کا ٹیکس دیا۔ سینیٹر عباس خان آفریدی  دوسرے نمبر پر رہے جنہوں نے ایک کروڑ 79لاکھ 91ہزار روپے ٹیکس دیا جن دیگر منتخب ارکان نے ایک کروڑ روپے  سے زائد ٹیکس دیا ہے ان میں شیخ فیاض این اے 193 ایک کروڑ ایک لاکھ 83ہزار روپے‘ پی کے 75 نور سلیم ملک نے ایک کروڑ 15لاکھ 12ہزار 851 روپے‘ پی پی 131 سے چودھری ارشد جاوید وڑائچ ایک  کروڑ 76لاکھ96ہزار 589 روپے اور 8لاکھ 46ہزار 107روپے انکم سپورٹ لیوی‘ پی پی 181سے شیخ علاؤ الدین نے ایک کروڑ 10لاکھ 29ہزار 867 روپے‘ پی ایس 4 سے سید اویس قادر شاہ نے ایک کروڑ 87لاکھ 41ہزار 549 روپے‘ فاٹا سے سینیٹر عباس خان آفریدی ایک کروڑ 79لاکھ 91ہزار 618 روپے انکم ٹیکس دیا‘ سینیٹر  محمد طلحہ محمود  ایک کروڑ 29 لاکھ 40ہزار 290روپے ٹیکس ادا کیا۔ پارلیمنٹرنیزکی  ٹیکس ڈائریکٹری حتمی نہیں اور اس کی حیثیت عبوری ہوگی اور حتمی ڈائریکٹری28  فروری کو جاری کی جائے گی۔ ایف بی آر نے کہا  کہ ممکن  ہے اس ڈائریکٹری میں غطلیاں ہوں  اور ارکان کو مشورہ دیا گیا  ہے وہ کسی غلطی کی صورت میں 20  فروری  تک رابطہ قائم کرکے تصحیح کرا لیں۔ حتمی ڈائریکٹری میں ان تمام ارکان کے نام شامل کر لئے جائیں گے جو اب تک گوشوارے داخل نہیں کرا سکے۔ انکم ٹیکس کے  ہمراہ انکم سپورٹ لیوی کی ادا شدہ رقم ظاہر  کی  گئی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے علاوہ 19  ایسے پارلیمنٹرینز موجود ہیں جنہوں نے انکم ٹیکس بھی ادا کیا  کہ اور انکم سپورٹ  لیوی بھی دی ہے۔ ان میں سندھ اسمبلی کے رکن خرم شیر زمان نے 65  ہزار 857  روپے‘ پنجاب اسمبلی کے رکن مخدوم سید افتخار  حسین گیلانی نے 59  ہزار 609  روپے‘  رکن پنجاب اسمبلی چودھری  ارشد جاوید وڑائچ نے 8  لاکھ 46  ہزار 107  روپے‘ رانا محمد افضل نے 8  ہزار 570  روپے‘ چودھری محمد اکرم (پی پی 122) 2  لاکھ 97  ہزار روپے‘ کے پی کے سے راجا محمد فیصل زمان نے 8  ہزار 333 روپے‘ ضیاء  اﷲ  آفریدی نے 97  ہزار روپے‘  خواجہ محمد آصف نے 19  ہزار 607  روپے‘ شیخ آفتاب احمد نے 19 ہزار 475  روپے‘ پروفیسر ساجد میر نے 21 ہزار 219  روپے انکم سپورٹس لیوی  دی تاہم وزیر خزانہ نے 27  لاکھ روپے لیوی ادا کرکے فہرست میں ٹاپ کیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی نے گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔ سینیٹر  سردار محمد یعقوب خان سینیٹر غلام محمد لوٹ‘ سینیٹر طاہر مشہدی نے گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔ جبکہ باقی تمام سنیٹرز  نے گوشوارے داخل کرائے۔ قومی اسمبلی کے فاٹا سے آدھے ارکان نے گوشوارے داخل نہیں کرائے۔ این اے 20  سے رکن اور وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے بھی گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔  این اے 106  سے رکن چودھری جعفر اقبال نے گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔ پیر صدر الدین شاہ نے بھی گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔ سابق وزیراعظم ظفراﷲ خان جمالی‘ بیگم مجیدہ وائیں نے بھی  گوشوارہ داخل نہیں کرایا۔ نیٹ نیوز کے مطابق شیخ فرید الدین نے سب سے زیادہ ایک کروڑ ایک لاکھ 93 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ خیبر پی کے کے رکن اسمبلی نور سلیم ملک نے 1 کروڑ 15 لاکھ 12 ہزار ٹیکس ادا کیا جبکہ جاوید ہاشمی اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک نے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ طاہر بشیر چیمہ نے صرف 55 روپے ٹیکس جمع کرایا۔
ٹیکس گوشوارے