مذاکرات ناکام ہوں پھر بھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے : حکومت اور طالبان اللہ کے واسطے جنگ بندی کر دیں : علماء کانفرنس

مذاکرات ناکام ہوں پھر بھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے : حکومت اور طالبان اللہ کے واسطے جنگ بندی کر دیں : علماء کانفرنس

لاہور (سپیشل رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (س) اور طالبان امن کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی زیرصدارت علماء و مشائخ امن کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں حکومت اور طالبان کو اللہ کا واسطہ دیکر ان سے فوری جنگ بندی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوجائیں پھر بھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ مولانا سمیع الحق نے یہ مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ہم ملک کو درپیش بحرانوں کا حل صرف اور صرف مذاکرات سمجھتے ہیں، طاقت آزمائی اور فوجی آپریشن ملک میں نہ ختم ہونے والی خونریزی کا ذریعہ بنے گی جس کے نتیجے میں ملکی  سلامتی اور استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ فریقین مذاکراتی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دیں۔ یہ مطالبہ ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے 200 سے زائد جید علماء کرام اور مشائخ عظائم نے کانفرنس میں کیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پندرہ سال سے پورا ملک آگ اور خون کی جنگ میں مبتلا ہے۔ پوری قوم اس آگ اور خون کے کھیل سے عاجز آچکی ہے۔ جید علمائ، کرام اور مشائخ مولانا سمیع الحق، طالبان کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے فاضل ارکان کی مذاکراتی عمل کے لئے جدوجہد کی مکمل تائید و حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ طالبان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی قوم کے فرزند ہیں۔ پوری پاکستانی قوم ان سے توقع رکھتی ہے کہ وہ فوری طور پر ہماریشانہ بشانہ امن و سلامتی، پوری انسانیت اور وطن کی خاطر ہمارے ساتھ چلیں اور ہتھیاروں کی بجائے امن کی زبان میں بات کریں تاکہ ہم اپنے اعلیٰ اسلامی، قومی، ملی مقاصد حاصل کر سکیں۔ قوتیں جو پاکستان میں امن و سکون نہیں ہونے دینا چاہتیں، جن کی اسلام اور پاکستان دشمنی واضح ہے وہ  ناکام ہوں اور پاکستان اپنی اصل منزل اسلامی نظام کے نفاذ کی طرف پرامن طور پر گامزن ہو سکے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ واریت، علاقائی و لسانی سازشوں سے ملک کو تباہ کرنے کی داخلی و خارجی منصوبوں کو ناکام بنادیں اور یک آواز ہوکر فریقین کو منافیٔ امن سرگرمیوں سے احتراز کرنے پر مجبور کرینگے۔ حکومت اور ملک کے تمام مقتدر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں پیدا شدہ شورش کے اصل محرکات اور عوامل پر توجہ دے۔ مقتدر ادارہ پارلیمنٹ کی بار بار منظور کردہ متفقہ قراردادوں اور آل پارٹیز کانفرنس کی سفارشات کے مطابق خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر فوری طورپر نظرثانی کریں اور ازسرنو تشکیل کی طرف توجہ دیں اور ملک کو استعماری اسلام اور ملک دشمن قتوں کی جنگ سے نکال دیں۔ تمام مسلمانوں، علمائ، مشائخ، دینی مدارس، مساجد اور خانقاہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک میں قیام امن بقاء اور سلامتی کے لئے جاری کوششوں کی کامیابی کے لئے دعا کا سلسلہ جاری رکھیں۔ بالخصوص آنے والے جمعۃ المبارک (21فوری) کو ’’یوم دعا‘‘ کے طور پر منائیں۔ ذرائع ابلاغ، پریس اور میڈیا سے وابستہ تمام ارباب علم و دانش، صحافی اور فاضل کالم نگاروں سے مخلصانہ اور دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک کی سلامتی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر بھرپور اور مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں۔ اس ارشاد خداوندی کا مصداق بنیں کہ ’جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے پوری انسانیت کو بچایا‘۔  غیروں کی لگائی ہوئی اس نارِ  نمرود کو بجھانا پوری قوم کا مشترکہ فریضہ اور یہی سب سے بڑا جہاد ہے، اس نارِ  نمرود کو بھڑکانا وقت کا سب سے بڑا ظلم ہے جس کا بارگاہ ایزدی میں جواب دینا ہوگا۔ فوجی آپریشن اور طاقت کے استعمال سے ملک لامتناہی دہشت گردی اور بدامنی کا شکار ہو جائے گا اور علیحدگی کیلئے تحریکوں کو سپورٹ کرنے والی پاکستان دشمن قوتوں کو اپنا گھنائونا کھیل کھیلنے کا بھی موقع ملے گا۔ طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر سب کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس کیلئے اگلا کنونشن کراچی میں ہو گا۔ مذاکرات کیلئے سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلاء تنظیموں، میڈیا کو اعتماد میں لینے کیلئے چاروں صوبوں میں ایسے کنونشن منعقد کئے جائیںگے۔ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانا سب سے بڑا قومی فریضہ ہے۔ ہم سب امن چاہتے ہیں حکومت اور طالبان کو مذاکرات میں کسی قسم کی رکاوٹ کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ہم جذبات کی بجائے دور اندیشی سے کام کر رہے ہیں ملک کے دیگر شہروں میں ہونیوالی کا نفرنسوں کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائیگا۔ مولانا سمیع الحق نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب ملک میں امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کا واحد حل صر ف مذاکرات ہے کیونکہ امریکہ اور روس سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے افغانستان میںجنگ کا استعمال کرکے اس کے نتائج دیکھ لئے ہیں اور پاکستان آج جن مسائل کا شکار ہے ان سے نجات فوجی آپریشن یا طاقت کا استعمال نہیں بلکہ مذاکرات ہی ملک کو ان مسائل سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر فوجی آپریشن یا طاقت کااستعمال کیا گیا تو اس سے پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے والوں اور ملک دشمنوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ ملک کو بدامنی کی آگ میں دھکیل دیاجائے گا۔ تمام علماء ملک میں امن چاہتے ہیں، امن مشن کو ہر صورت کامیاب ہونا چاہئے کیونکہ اس سے ہی دہشت گردی ختم ہو گی۔ طالبان نے جس لچک اور رواداری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ہم مذاکرات کی کامیابی کیلئے انتہائی پرامید ہیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے معاملے پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وکلاء خواتین سمیت دیگر شعبوں کی تنظیموں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فوجی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات مسائل کا حل ہے۔ ہم طالبان اور حکومت کو اللہ کا واسطہ دے کر ان سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں رکاوٹیں ڈالنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے 15برسوں سے ملک دہشت گردی کا شکار ہے اور عوام اس دہشت گردی سے تنگ آ چکے ہیں۔ طالبان بھی ہمارے اور قوم کے فرزند ہیں اور ان کو بھی چاہئے کہ پاکستان میں امن کیلئے ہتھیاروں کے بجائے امن کی زبان میں بات کریں اور ان قوتوں کو ناکام بنایا جائے جو ملک میں امن کا قیام نہیں چاہتیں۔ امن سے ہی ملک اسلامی نظام کی منزل کی راہ پر گامزن ہو سکتاہے ہم تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے امید رکھتے ہیںکہ وہ ملک سے دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے سیاست سے بالا تر ہو کر اپنا کردار ادا کریںگی اور آج ملک کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے سب کومل جل کر چلنا ہو گا اور ملک کو بحرانوں سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا بہت بڑا جہاد اور قومی فریضہ ہے۔ پہلی بات صرف امن قائم کرنا ہو گا، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بات سامنے نہیں آئی، امن مشن ہر صورت کامیاب ہونا چاہئے۔ سمیع الحق نے کہا کہ امن جنگ سے قائم نہیں ہو سکتا، تمام علما اور مشائخ امن کا واحد راستہ مذاکرات کو سمجھتے ہیں۔ سب کا اتفاق ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال ملک کو لامتناہی تباہی کی جانب دھکیل دے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ گزشتہ حکمرانوں کی غلط پالسییوں کی وجہ سے 15 برس سے پورا ملک جنگ میں مبتلا ہے۔ پوری قوم آگ اور خون کے اس کھیل سے عاجز آ چکی ہے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک زبان ہوکر فریقین کو امن کے منافی سرگرمیاں روکنے پر مجبور کریں گی۔
لاہور (سپیشل رپورٹر+ ایجنسیاں) جمعیت علمائے (س) کے زیر اہتمام ہونیوالی علماء و مشائخ امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ اگر جمہوریت ناکام ہو تو کبھی بھی آمریت کو دعوت نہیں دی جاتی بلکہ کہا جا تا ہے کہ مزید جمہوریت ہونی چاہئے، اسی طرح اگر مذاکرات ناکام ہو بھی جائیں تو بار بار مذاکرات ہونے چاہئیں، طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے جسم کے ٹکڑے تو کرا سکتے ہیں لیکن مولانا سمیع الحق کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے، سو سال جنگ کرنے کے بعد بھی ہم نے مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے اس لئے قوت اور طاقت کا استعمال مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، طاقت کے استعمال کی آواز اٹھانے والے عنا صر فوج اور ریاستی اداروں کو آپس لڑانا چاہتے ہیں، امریکی لابی طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل کے خلاف سرگرم عمل ہے اس لئے طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور اس کے تمام ارکان کی حفاظت یقینی بنائی جائے ورنہ کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ علماء و مشائخ امن کانفرنس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس سے جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، امیر جماعت اسلامی منور حسن، جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ، طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم، طالبان مذاکرات کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر سید محمد یو سف شاہ، جمعیت اہلحدیث کے مولانا عبدالغفار روپڑی، اہل سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا اشرف طاہر، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی، سنی اتحاد کونسل کے سردار محمد خان لغاری، مولانا شاہ محمد اویس نورانی، مولانا ابتسام الٰہی ظہیر کے نمائندہ حافظ محمد علی یزدانی، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا حامد الحق حقانی، مولانا عبدالرحیم نقشبندی، اتحاد العلماء کے سربراہ مولانا عبدالمالک، مولانا حمید اللہ جان، مولانا جاوید الحسن، حافظ غازی الدین بابر، مولانا قدرت اللہ عارف، حافظ حبیب اللہ عارف، مولانا زاہد الراشدی، شاہ عبدالعزیز، مولانا حاجی عبدالمنان انور، قاری زوار بہادر، جاوید الحسن اور دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں 200سے زائد جید علماء کرام اور مشائخ عظام نے شرکت کی۔ سمیع الحق نے کہا کہ اللہ کے ہاں مصالحت بہت پسندیدہ ہے اس لئے ہم طالبان اور حکومت کے درمیان اسکی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ کسی ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ مذاکرات کے پل صراط سے ہمیں بہت احتیاط سے گزرنا ہو گا۔ دین اسلام میں تشدد اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ حکمران دوسروں سے آئین تسلیم کرنے کی بجائے پہلے خود اسے تسلیم کریں۔ سید منور حسن نے کہا کہ پورا ملک دہشتگردی کی نذر ہو چکا ہے، ملک بھارت اور امریکہ کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے، ان حالات میں بھی بالآخر مذاکرات کی میز بچھ گئی ہے جس پر حکومت نے بھی مثبت پیشرفت کا اظہا ر کیا ہے جس سے پوری امریکی لابی کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ عناصر یہ باتیں پھیلا رہے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر طاقت کا استعمال ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر جمہوریت ناکام ہو تو کبھی بھی آمریت کو دعوت نہیں دی جاتی بلکہ کہا جاتا ہے کہ مزید جمہوریت ہونی چاہئے، اسی طرح اگر مذاکرات ناکام ہو بھی جائیں تو بار بار مذاکرات ہو نے چاہئیں، مذاکرات کا بدل کبھی قوت اور طاقت کا استعمال نہیں ہو سکتا، اگر خدانخواستہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر بھی طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ ہم بنگلہ دیش، بلوچستان اور کر اچی میں طاقت کا استعمال کرنے کے نتائج دیکھ چکے ہیں، طاقت کے استعمال کی آواز اٹھانے والے عناصر فوج اور ریاستی اداروں کو آپس لڑانا چاہتے ہیں، ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جانے چاہئیں، ہم مولانا سمیع الحق کے مو قف کی ہر طرح تائید کرتے ہیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے عمل میں ہم اس وقت پل صراط سے گزر رہے ہیں، پوری قوم کی دعائوں کی ضرورت ہے، اس وقت طالبان اور حکومت آئین پر بحث کی بجائے اس پر عمل کرنا شروع کریں، حکومت کو اس آئین کو طالبان پر نافذ کرنے کی بجائے پہلے اس کو خود تسلیم کرنا ہو گا۔ سید محمد یو سف شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر روز قتل و غارت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، طالبان اور حکومت دونوں کو چاہئے کہ معاملہ صلح کی طرف جائے، انتشار نہ پھیلے، دونوں طرف کمیٹیوں میں شامل علماء کرام کو بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہونا چاہئے کہ ان کی کسی بات سے اس معاملے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ آج ملک و قوم کو جنگ بندی و امن کے حوالے سے خوشخبری دینگے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ طالبان نے آج تک یہ نہیں کہا کہ وہ پاکستانی نہیں، وہ تو اپنے نام کے ساتھ تحریک طالبان پاکستان لکھتے ہیں، ٹھیک ہے ان سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب ہمیں ماضی کی تمام غلطیوں کو بھلا کر مستقبل کا سوچنا ہے، امن ہو گا تو شریعت بھی آئے گی، معیشت بھی بہتر ہو گی، ہم طالبان اور حکومت دونوں سے ہاتھ جوڑ کر رحم کی اپیل کرتے ہیں کہ بس اب اس قوم کا اور خون نہ بہایا جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس خطے میں پاکستان کی اہمیت ختم ہو جائے، اگر موجودہ حکومت نے بھی امریکہ کے ساتھ پرویز مشرف اور آصف زرداری والی پالیسی جاری رکھی تو نتائج وہی ہونگے جو پہلے آتے رہے ہیں، تمام قومی قیادت کو ایک صفحے پر متفق ہونا چاہئے۔ اہل سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا اشرف طاہر نے کہا کہ ہم مکمل طور پر مولانا سمیع الحق پر اعتمادکا اظہار کرتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مسجد ہے، یہ ہمارا گھر ہے، ہم اسے تباہ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اس وقت پوری قوم کو چاہئے کہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے صلوۃ الحاجات پڑھے۔ مولانا سعید شیر علی شاہ نے کہا کہ طالبان پاکستان کے وفادار ساتھی ہیں، وہ تمام دارالحقانیہ اور جامعہ اشرفیہ کے علماء کے شاگرد رہے ہیں، اساتذہ حضرات کو چاہئے کہ وہ اپنے شاگردوں کو سمجھائیں۔ مولانا شاہ اویس نورانی نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے طالبان سے مذاکرات میں اس قدر اہم کردار ادا کرکے تمام دینی جماعتوں کا قرض اتار دیا ہے، ہمیں 13سال سے لگی ہوئی اس آگ کو بجھانا ہے، ہمیں میدان میں نکل کر لوگوں کو سمجھانا ہے کہ سو سال جنگ کرنے کے بعد بھی ہم نے مذاکرات کی میز پر آنا ہے، طالبان سے طاقت کا استعمال کی بات کرنیوالے لوگ ریاست کے اندر ریاست بنانا چاہتے ہیں، ایسا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مولانا عبدالقیوم حقانی نے کہا کہ امریکی لابی طالبان اور پاکستان کے مذاکرات کے خلاف سرگرم عمل ہے اس لئے طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی حفاظت یقینی بنائی جائے، اگر خدانخواستہ کچھ ایسا ہو گیا تواس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی، ہم اپنے جسم کے ٹکڑے تو کرا سکتے ہیں لیکن مولاناسمیع الحق کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں شریعت اور آئین کے حوالے سے کوئی مطالبہ زیر بحث ہے اور نہ ہی طالبان نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی مطالبہ پیش کیا جب امن مذاکرات شروع ہو جائیں گے تو پھر مطالبات کی بات ہو گی فی الحال ایسی کوئی بات نہیں ہو رہی ۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہاکہ حکومت کا تمام تر رکاوٹوں کے باوجود طالبان سے مذاکرات کیلئے آمادہ ہونا انتہائی خوش آئند ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کو جاری رہنا چاہئے کیونکہ مذاکرات کے ذریعے ہی دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ 100 بار بھی مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کے باوجود بھی طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے بلکہ مذاکرات کو ہی ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک مدت سے جاری ملک میں دہشت گردی کوکوئی ایک بٹن دبا کر ختم نہیں کیاجا سکتا بلکہ اس کیلئے کچھ وقت درکار ہو گا اور اگر سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہا تو یقینا امن کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی ہو سکے گا ۔ آئی این پی کے مطابق مقررین نے کہا کہ آج قوم کو جنگ بندی اور امن کیلئے خوش خبری دیںگے‘ مذاکرات کے دوران ہم پل صراط سے گزر رہے ہیں جہاں ہمیں تحمل، بربادی کا مظاہر ہ کرنا ہو گا‘ اللہ تعالیٰ ہمیں آگ نمرود میں کبوتر کا کردار ادا کرنے کی توفیق دے‘ حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی ایک میز پر لانا چاہتے ہیں کیونکہ طالبان کے بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ہمارے پاس نہیں‘ حکمرانوں کو پہلے خود آئین تسلیم کرنا ہو گا پھر سب کو آئین تسلیم کرائیں‘ ہمیں یقین ہے کہ ملک میں امن قائم ہو جائے گا‘ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی پر بھی طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے‘ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات سے امن مذاکرات میں رکاوٹ آئی ہے جسے دور کیا جا رہا ہے‘ ہمیں حکومت کی مذاکراتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے اور پاکستان کی ہر ماں، بہن اور بیٹی بھی ملک میں امن اور مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران ممتاز عالم دین ڈاکٹر مولانا شیر علی نے کہا کہ خون کو خون سے نہیں مٹایا جا سکتا خون کو پانی سے ہی دھویا جا سکتا ہے۔ ملکی مسائل کا حل مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات اور صرف مذاکرات ہیں۔
علما کانفرنس