طالبان کی کارروائیوں سے مذاکرات کو دھچکا لگا‘ دہشت گردی جاری رہی تو عوام ہم سے بازپرس کرینگے : وزیراعظم

طالبان کی کارروائیوں سے مذاکرات کو دھچکا لگا‘ دہشت گردی جاری رہی تو عوام ہم سے بازپرس کرینگے : وزیراعظم

استنبول + لاہور (نیوز ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم ڈاکٹر نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیلئے بڑے خلوص سے کمیٹی بنائی۔ طالبان کی جانب سے کئے گئے واقعات پر افسوس ہوا، اس طرز عمل سے مذاکرات کو دھچکا لگا ہے۔ مذاکراتی کمیٹی صورتحال کا جائزہ لے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے، امید ہے مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔ امن کیلئے سب کچھ کرنا چاہتے ہیںلیکن مذاکرات کے دوران دہشت گردی جاری رہی تو امن چاہنے والوں کے ذہنوں میں کئی سوال پیدا ہوں گے  اور عوام ہم سے بازپرس کریں گے۔ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان پرویز مشرف کیلئے نہیں، اگر انہیں اس سلسلے میں کوئی پیغام پہنچانا ہوتا تو کسی اور کو بھیجتے، حکومت نے تہیہ کررکھا ہے کہ ہماری سر زمین کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی جانب سے دراندازی کی شکایتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، مذاکرات کے معاملے پر حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے، مذاکرات کے دوران کارروائیاں بند ہونی چاہئیں، ہر وہ راستہ آزمانا چاہتے ہیں جس سے امن قائم ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے استنبول سے اسلام آباد آتے ہوئے  اپنے  طیارے میں میڈیا سے گفتگو کے دوران  کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں حکومت اور سٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہیں پایا جاتا، ان مذاکرات کے آغاز سے قبل تمام لوگوں نے اجلاس میں اتفاق رائے سے کہا تھا کہ مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا طرز عمل نیک نیتی پر مبنی تھا اور توقع ہے کہ دوسری طرف سے بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جائیگا جیسا کہ مذاکرات کے آغاز پر طالبان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ تشدد دہشت کی کارروائیوں میں ملوث لوگوں کی سرکوبی کریں گے انہیں نہ صرف روکیں گے بلکہ پڑتال کی جائے گی لیکن بدقسمتی سے پچھلے دو تین دن کے واقعات کی ذمہ داری خود طالبان نے قبول کی جس پر ہمیں نہ صرف افسوس ہوا بلکہ مذاکراتی عمل کو دھچکا لگا، اب ہم صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی رفتار مزید تیز ہونی چاہیے تھی امید ہے یہ عمل آگے بڑھے گا۔   طالبان کی کمیٹی وزیرستان میں طالبان کی سیاسی شوریٰ سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے مثبت جواب دیا ہے، وطن واپسی پر عرفان صدیقی سے بریفنگ لوں گا۔ حکومتی کمیٹی سے کہا تھا کہ مذاکرات کے لئے ضروری ہے کہ طالبان پرتشدد کارروائیاں بند کریں ۔کوئی بھی دل رکھنے والا شخص تباہی کے مناظر نہیں دیکھ سکتا، مذاکرات کے دوران دہشت گردی جاری رہی تو امن چاہنے والوں کے ذہنوں میں کئی سوال پیدا ہوں گے۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فوج کو اعتماد میں لیا تھا۔ افغان امن عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ کراچی کی صورت حال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھتہ مافیا،لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ایک او رسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مردم شماری پہلے بھی ہم نے کروائی تھی ا بھی ہم کروائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی برادرانہ ہیں، سعودی شاہ عبداللہ بیرون  ملک زیادہ سفر نہیں کرتے ایسی صورت حال میں سعودی عرب کے ولی عہد کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ خطے میں امن کے لیے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں کشمیر کور ایشو ہے، بھارت اور دنیا کے لئے بھی ہونا چاہئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا ترک حکومت پاکستان کے حوالے سے بہت مخلص ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں سیکورٹی معاملات پر تینوں ملکوں کی سیاسی اور فوجی قیادت کا مل بیٹھنا اہم پیشرفت ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت کی رفتار آہستہ  ہونے کی وجہ بھارت میں آئندہ انتخابات ہیں۔ بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگیں آخری جنگیں ہونی چاہئیں۔ پاکستان اور افغان قیادت مسائل پر ٹیلی فون کے ذریعے  رابطہ میں رہے گی۔  دریں اثنا ترک ٹی وی اور ریڈیو کو انٹرویو میں وزیراعظم نے پرامن اور مستحکم افغانستان کو خطے کے استحکام کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پڑوس میں امن کیلئے ہرممکن تعاون اور کردار کیلئے تیار ہے‘ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے کسی بھی صورتحال میں قبول نہیں۔  حالات چاہے کیسے بھی ہوں اپنی سرزمین پر ڈرون گرانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے انقرہ میں ہونے والی سہ فریقی کانفرنس کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان‘ افغانستان اور ترکی نے افغانستان میں قیام امن کیلئے باہمی تعاون اور ہرممکن کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا افغانستان میں قیام امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے اور افغانستان میں جاری امن عمل کی کامیابی کے خطے میں اچھے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ ترک سرمایہ کار کمپنیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت پاکستان محفوظ ماحول اور سہولیات فراہم کرے گی۔  دریں اثنا وزیراعظم  نے یوتھ فیسٹیول میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے کا ریکارڈ قائم ہونے پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ وزیراعظم نے  کہا قوم نے ورلد ریکارڈ قائم کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں، پنجاب حکومت کی صحتمندانہ سرگرمیاں قابل تعریف ہیں۔ 
وزیراعظم