ہمیں پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان بننے کی بجائے پاکستانی بننا ہو گا: مجید نظامی

ہمیں  پنجابی ‘ سندھی ‘ پٹھان بننے کی بجائے پاکستانی بننا ہو گا: مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) ہمیں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان بننے کی بجائے پاکستانی بننا ہو گا۔ سقوط ڈھاکہ میں شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن مجےد نظامی نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان، لاہور مےں یوم سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے منعقدہ فکری نشست بعنوان ”واقعات کا تجزےہ اور مستقبل کے چےلنجز“ میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کےا تھا۔ اس موقع پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر) جمشید احمد ترین، وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد، سینیٹر ایس ایم ظفر، کرنل (ر) زیڈ آئی فرخ، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، اعجاز حسین ملک، پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی، نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ شعبہ¿ خواتین کی کنوینئر بیگم مہناز رفیع، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، علامہ احمد علی قصوری، ڈاکٹر اجمل نیازی، شجاعت ہاشمی، مولانا محمد شفیع جوش، ڈاکٹر سعید ملک، منظور حسین خان، میاں ابراہیم طاہر، ونگ کمانڈر (ر) محمد ظفر، اختر علی مونگا ایڈووکیٹ، طارق منظور احمد، شفیق کھوکھر، سید ایوب احمد وارثی، شرافت علی خان، رضوان الحق، جعفر عندلیب مرزا، مشتاق چوہان، حسیب نوشاہی، محمد صادق چودھری، شفیق رضا قادری، پروفیسر اویس اسلم، غلام حسین، طفیل ملک، ادیبہ وڑائچ، ڈاکٹر راشدہ قریشی، رانا عبدالرحیم، حافظ محمد اشرف، چودھری ریاض احمد، اقبال خان، مجید غنی، تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض سمیت طلبا و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا۔ قاری امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ محمد جمیل چشتی نے بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ¿ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے ادا کئے۔ مجید نظامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا ”یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“۔ ہم نے 1971ءمیں آدھا پاکستان کھو دیا۔ آج بنگالی اپنا یوم آزادی جبکہ ہم یوم سوگ منا رہے ہیں۔ یہ ان کی اور ہماری غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اس میں سب سے زیادہ حصہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کا ہے جس نے مکتی باہنی تیار کی اور مغربی بنگال کے افراد کو فوج میں بھرتی کر کے اور انہیں تربیت فراہم کر کے بنگلہ دیش میں داخل کر دیا۔ انہوں نے ہماری فوج کا مقابلہ کیا اور بالآخر جنرل نیازی کو سرنڈر کرنا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں سرنڈر کرنے سے بہتر تھا جنرل نیازی پستول سے اپنے آپ کو اڑا لیتے۔ سقوط ڈھاکہ میں شیخ مجیب، ذوالفقارعلی بھٹو اور جنرل یحییٰ کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ جنرل یحییٰ کا نام لینا بے کار ہے کیونکہ وہ شخص کسی وقت بھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتا تھا۔ صدر ایوب جاتے ہوئے پاکستان کو جنرل یحییٰ کے سپرد کر گئے۔ جب صدر ایوب کی صدارت کے آخری دن تھے تو انہوں نے اپنے وزیر خارجہ منظور قادر کے ذریعے مجھے پیغام بھیجا مجھ سے وقت لے کر ملاقات کریں۔ میں نے کہا میرے اخبار کے اشتہارات اور نیوز پرنٹ بند ہےں‘ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے ان سے وقت لے کر ملاقات کروں۔ بالآخر وہ جب صدارت سے سبکدوش ہو گئے تو مجھ سے ملنے کیلئے اتنے بے تاب تھے کہ انہوں نے پھر پیغام بھیجا ”اس ظالم سے کہو اب تو مل لے“۔ میں نے کہا اچھا اب صدرنہیں رہے تو ملاقات کر لیتا ہوں۔ میں ان سے ملنے گیا تو تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے اب تو آپ کو اپنی پسند کی جمہوریت مل گئی ہے۔ میں نے کہا آپ تو جنرل یحییٰ دے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا بیڑہ غرق ہو یہ تو بسم اللہ ہی غلط ہو گئی ہے۔ میں نے کہا اب آپ صدر نہیں رہے اس لئے اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں۔ مجید نظامی نے کہا مارشل لاﺅں اور فیلڈ مارشلوں نے پاکستان میں پے در پے مارشل لاءنافذ کر کے ملک کی یہ حالت بنا دی کہ اسے مسائلستان بنا دیا۔ جہاں تک بنگلہ دیش کا تعلق ہے تو وہ آج بھی بھارت کے گن گا رہا ہے، انہوں نے 180 غیر ملکیوں کو مختلف القابات دئیے ہیں جن میں اکثریت بھارتیوں کی ہے۔ بنگالیوں نے آزادی میں ان کی مدد کرنے پر فیض احمد فیض، باچا خان اور حبیب جالب کو بھی ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تینوں حضرات اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں لیکن میں انہیں پاکستان توڑنے میں حصہ ڈالنے پر ”مبارکباد“ پیش کرتا ہوں۔ پاکستان توڑنے میں شیخ مجیب، بھٹو اور یحییٰ کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔ ان تینوں حضرات سے میری ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ سی پی این ای اور اے پی این ایس کے صدر کی حیثیت سے میں متعدد بار ڈھاکہ گیا اور میں نے وہاں مختلف رہنماﺅں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ میانوالی سے جب شےخ مجےب الرحمان رہا ہو کر لاہور آئے اور ملک غلام جےلانی کے ہاں ٹھہرے تو مےں ان سے ملا۔ مےں نے ان سے کہا اب الےکشن ہونے والے ہےں۔ مشرقی پاکستان مےں آپ کی اکثرےت ہے۔ آپ براہ کرام آگے آئےں اور وزےراعظم بنےں۔ پاکستان کو دو پاکستان میں تبدیل کرنے کی بجائے ایک پاکستان ہی رہنے دیں۔ شیخ مجیب نے کہا دو پاکستان نہیں‘ ایک پاکستان اور ایک بنگلہ دیش۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ متحدہ پاکستان میں بیٹھے ہوئے بھی دو پاکستان بنا چکے تھے۔ مجید نظامی نے کہا ذوالفقارعلی بھٹو نے ”اِدھر ہم اُدھر تم“ کا نعرہ لگایا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوششیں کیں۔ اس موقع پر جنرل یحییٰ کو کوئی ہوش نہ تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرے خیال میں دو پاکستان بننا روز اول سے ہی ہماری قسمت میں لکھا تھا۔ 1947ءمیں جب پاکستان بنا تو دونوں حصوں میں ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا اور ان کے درمیان ہمارا ازلی دشمن بھارت بیٹھا تھا۔ اس نے آج تک بھارت ماتا کی تقسیم کو قبول نہیں کیا اور وہ پاکستان کو ختم کر کے ازسرنو مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت نے بنگلہ دیش بننے میں ہر طرح کی مدد فراہم کی۔ یہ ہماری کج فہمی تھی کہ فوجی ایکشن کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ہم ان کے ساتھ کی طرح سلوک کرتے اور بنگالی کو بھی اردو کے ساتھ دوسری قومی زبان جبکہ ڈھاکہ کو بھی اسلام آباد کے ساتھ دارالحکومت قرار دینے کے علاوہ انہیں دیگر رعایات دیتے تو پاکستان کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ بنگالی آج تک ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ان کیلئے ہمیں قبول کرنا مشکل تھا۔ جب بنگالی ایڈیٹرز سی پی این ای کے اجلاس میں شرکت کیلئے یہاں آئے تو مال روڈ پر کوئی عمارت دیکھ کر کہتے یہ جوٹ (پٹ سن) سے بنی ہے۔ انہیں اس کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا تھا حالانکہ یہ جوٹ (پٹ سن) نہیں جھوٹ تھا۔ ہمیں باقی ماندہ پاکستان کو بچانے کی پوری کوششیں کرنی چاہئیں۔ ہم پنجابی، سندھی، پٹھان اور بلوچی بننے کی بجائے صرف پاکستانی بنیں اور پاکستان کو بچائیں۔ مجید نظامی نے اپنی تقریر کا اختتام پاکستان زندہ باد کے نعرہ سے کیا۔ تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چےئرمےن کرنل (ر) جمشےد احمد ترےن نے کہا مےں 1971ءکی جنگ مےں نہ صرف شامل تھا بلکہ بھارت مےں دو سال جنگی قےدی بھی رہا۔ بنگالےوں کا ےہ کہنا تھا کہ پاکستان سے علےحدگی نہےں بلکہ اپنے حقوق چاہتے ہےں۔ مشرقی پاکستان مےں جب کوئی بھارتی جہاز گرتا تھا تو بنگالی داد دیتے تھے۔ وہ پاکستان سے علےحدگی نہےں چاہتے تھے بلکہ وہ صرف ہماری محبت کے بھوکے تھے۔ وہاں کے تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں تعینات ہندو اساتذہ طلبہ کو پاکستان کیخلاف تعلیم دے رہے تھے حتیٰ کہ ایک یونیورسٹی میں تو اسلامیات کا پروفیسر بھی ایک ہندو تھا۔ ان اساتذہ نے نوجوان نسل کی بہت برین واشنگ کی تھی۔ بنگالیوں کے ساتھ ہمارا سلوک حاکمانہ تھا۔ ہماری بیوروکریسی کا بھی مشرقی پاکستانیوں کے ساتھ سلوک انتہائی غیر انسانی تھا۔ چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا ہمارا اصل ہمارا دین ہے۔ پاکستان کسی جغرافیائی علاقے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک آئیڈیالوجی کا نام ہے اور آئیڈیالوجی ہمیشہ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک وہ اپنے محور پر قائم رہے۔ ہماری آئیڈیالوجی کا محور قرآن حکیم اور نبی کریم کی ذات مبارکہ ہے۔ ہم انہیں چھوڑ دیں گے تو ہمارے قومی نظریات منہدم ہو کر دفن ہو جائیں گے۔ دو قومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ دو قوموں میں کچھ باتیں مشترک ہوں تو وہ اکٹھی رہ سکتی ہیں لیکن مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے الگ قومیں ہیں اور ہم ان کے ساتھ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ میثاق مدینہ، فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے مواقع پر ہمارے پیارے نبی کریم کا طرز عمل اور ارشادات ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنما اصولوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ نے انسانیت کی تکریم کا درس دیا۔ مشرقی پاکستان کی ہم سے علیحدگی کی ایک وجہ ان اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔ دو قومی نظریہ ہی ہمارے لئے باعث افتخار ہے۔ سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک اندوہناک اور عبرتناک واقعہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ کی وجوہات میں تاریخی عوامل، ہمارے حکمرانوں کی دانستہ یا نادانستہ غلطیاں، 1965ءکی پاکستان بھارت جنگ، ذوالفقار علی بھٹو کی اسمبلی میں کی گئی ایک خاص تقریر، بھارت کا سازشی کردار، مشرقی پاکستان میں موجود پڑھی لکھی ہندو آبادی کا منفی کردار، 1970ءکے انتخابات کے بعدکی گئی غلطیاں، سیاستدانوں کے باہمی اختلافات اور مغربی بیوروکریسی کا مشرقی پاکستان کی بیوروکریسی کے ساتھ ناروا سلوک شامل ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی 9 سال تک ملک میں کوئی آئین ہی نہیں بن سکا جس کا بہت نقصان ہوا اور قومی یکجہتی پیدا نہ ہوسکی جبکہ بھارت میں دوسال بعد ہی آئین بن گیا تھا۔ جب 1956ءمیں آئین بن گیا تو اس میں دوغلطیاں کی گئیں۔ پہلی یہ مشرقی پاکستان کی اکثریت کے باوجود اسمبلی میں مشرقی اور مغربی پاکستان کو برابر نمائندگی دی گئی۔ دوسری غلطی سینٹ کا قائم نہ کرنا تھا۔ اس وقت دارالحکومت، سپریم کورٹ اورجی ایچ کیو سمیت اہم عمارتیں مغربی پاکستان میں موجود تھیں جس سے مشرقی پاکستان میں احساس محرومی پیدا ہو رہا تھا۔ 1965ءکی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہم نے مشرقی پاکستان کی حفاظت ڈپلومیٹک انداز میں دیگر ممالک کی حمایت سے کی ہے۔ اگرتلہ سازش کیس کا مقدمہ شروع ہوا لیکن اپنے انجام کو نہ پہنچ سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا اس میں ملوث شیخ مجیب ورکر سے قائد بن گیا۔ مشرقی پاکستان میں آنیوالے بدترین طوفان سے بہت تباہی ہوئی لیکن ان کی ا مداد و بحالی کیلئے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے جس سے بنگالیوں کی شکایات میں مزید اضافہ ہوا۔ 1970ءکے انتخابات ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ہوئے اور ان انتخابات میں شیخ مجیب کو اکثریت حاصل ہو گئی لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور شیخ مجیب کو وزیراعظم نہ بنایا گیا۔ اسی دوران بھارتی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور مکتی باہنی کا قیام عمل میں آگیا۔ مغربی پاکستان کی بیوروکریسی کے رویہ سے بھی مشرقی پاکستان والے نالاں تھے۔ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنگالیوں کے دل میں دوریاں مزید بڑھتی گئیں تاہم نفرت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس موقع پر مکتی باہنی نے اپنا کام دکھا دیا۔ سیاستدان اور فوج باہم مل کر پاکستان کو ٹوٹنے سے بچا سکتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ آج بھی بدقسمتی سے سیاسی اہلیت کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ افہام و تفہیم قومی مفاد کے بجائے تقسیمِ اثاثہ میں نظر آتی ہے۔ دوقومی نظریہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ جسٹس (ر) منیر احمد مغل نے کہا پاکستان کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور اس پر قولاً و فعلاً عمل کر کے ہی اسے قائم و دائم رکھا جا سکتا ہے۔ ہم حصول پاکستان کے اپنے مقاصد پر قائم رہتے تو ہمیں کبھی بھی منہ کی نہ کھانی پڑتی۔ پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔ آج امن کی آشا کے نام پر بھارت سے تجارت اور دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ یہ ایک گہری سازش ہے جسے ہمیں مل کر ناکام بنانا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل تک بھارت سے کسی بھی قسم کے تعلقات ایک فریب ہےں۔ کرنل (ر) زیڈ آئی فرخ نے کہا مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا اورکچھ ایسے غلط اقدامات کئے گئے جس کی وجہ سے دونوں حصوں میں دوریاں بڑھتی گئیں۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت مشرقی پاکستان میں وردی میں 43 ہزار سپاہی وہاں موجود تھے جو 54 ہزار مربع میل علاقہ کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں بیک وقت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا سامنا تھا لہٰذا بغیر کسی مزید کمک کے ان حالات میں زیادہ دیر تک لڑنا ممکن نہ تھا۔ عوام کی مدد کے بغیر کوئی بھی جنگ نہیں جیتی جا سکتی ہے۔ اعجاز حسین ملک نے کہا سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا شرمناک واقعہ ہے اور یہ میری زندگی کا انتہائی کٹھن ترین دور تھا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا ہم مجید نظامی کی قیادت میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کام کررہے ہیں۔ ہماری کوشش اور مطالبہ ہے مشترکہ تاریخی ورثہ کو محفوظ رکھا جائے، دونوں ممالک میں وفودکا تبادلہ ہو، باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے جبکہ بنگالی طلبہ کو وظائف دے کر یہاں تعلیم کیلئے بلایا جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے پروفیسر غلام اعظم اور ان جیسے دیگر افراد کیخلاف مقدمات واپس لئے جائیں اور انہیں باعزت بری کیا جائے۔